*عنوان: ھم مسلمان ہیں ، موت سے ہم ڈرتے نہیں*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: ھم مسلمان ہیں ، موت سے ہم ڈرتے نہیں*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
دین محمدی ﷺ وہ واحد روئے زمین پر سچا برحق کامل اللہ واحد لاشریک کا پسندیدہ مذہب ھے جو اصل حیات کو دنیاوی حیات سے زیادہ ترجیح دیتا ھے یہی سبب ھے کہ دین اسلام یعنی دین محمدی ﷺ میں شہادت سے عشق اور جھاد سے لگاؤ زندگی سے زیادہ پایا جاتا ھے اس کی سب سے بڑی وجہ اپنے رسول و آقا ﷺ سے والہانہ محبت ھے جو زندگی سے کہیں زیادہ ہوتی ھے۔ ایک مسلمان کیلئے زندگی مکمل بے وقعت رہ جاتی ھے جب دین محمدی ﷺ پر فدا ہونے کا وقت آتا ھے۔ روئے زمین پر تمام مذاہب کے ماننے والے مسلمانوں کے اس جذبہ ایمانی کے سامنے لاچار بےبس مایوس نامراد و ناکام ہوجاتے ہیں کہ ایسا عظیم جذبہ و لگاؤ صرف دین محمدی ﷺ سے تعلق رکھنے والوں کو صرف رب انہیں ہی عطا کرتا ھے۔ آج میں اپنا کالم ایسے حکمران کے متعلق لکھ رھا ھوں کہ جس نے موجودہ دنیا کے سب سے بڑا دہشتگرد، ظالم و جابر، منافق و جھوٹا، مکار و عیار، دجال و ابلیس کا خاص چیلہ ھے وہ ھے امریکہ اسکا حرام زادہ اسرائیل۔ امریکہ دنیا کی وہ ریاست ھے جو مسلمانوں اور خاص طور پر دین محمدی ﷺ سے اصل لو لگاؤ رکھتے ہیں انہیں تباہ و برباد اور صفہ ہستی سے مٹانا چاہتا ھے لیکن ہر بار ناکام و نامراد ٹھرتا ھے۔ آج اپنی ناجائز ریاست اسرائیل کے ذریعے معصوم نہتے فلسطینیوں کیساتھ جو ظلم و بربریت کا بازار گرم کئے ہوئے ھے وہ نہ صرف انسانیت کیلئے شرم کا مقام ھے بلکہ اسکے تمام حواریوں کیلئے بھی ڈوب مرنے کا مقام ھے۔ اس شیطان و ابلیس امریکہ نے دنیا کے ہم مذہب عیسائی طاقتور ممالک کو ساتھ ملاکر ایک فورس بنائی جسے نیٹو کہتے ہیں۔ امریکہ کینیڈا و دیگر نیٹو ممالک کی شہریت اور روزگار کے خواں وہ مسلمان جان لیں کہ انھوں نے کس قدر غلطی کی ھے صرف دنیا کے عیش و عشرت کی خاطر رسول پاک ﷺ اور اسکے دین سے نفرت رکھنے والوں سے جڑے یہ ایسا ہی عمل ھے کہ جیسے کفار و مشرکین آپ ﷺ کے زمانے میں ایک ہوکر دین محمدی ﷺ کو نقصان پہنچانے والا گروہ تھا گویا اس میں شامل ہوگئے۔ یاد رکھیں وہ لوگ جو کفار و مشرکین ممالک کو پسند کرتے ہیں جان لیں کہ قرآن و احادیث کا مفہوم ھے کہ جس نے جس سے رغبت یا تعلق جوڑا وہ بروز قیامت اسی ہی گروہ قبیلہ رنگ و نسل مذہب و عقیدہ سے اٹھایا جائیگا۔ اے امت مسلمہ کے بدعقل مسلمانوں کیا تم یہ پسند کروگے کہ بروز قیامت آپ ﷺ کے مخالفین کے گروہ میں اٹھائے جاؤ تو سوچ لو قبل از موت بعد موقع میسر نہیں آئیگا۔ عرب ممالک میں ایک کامل مومن نڈر بہادر جنرل اور صدر بھی تھا جو امریکی و اسرائیلی زائینسٹوں کو للکارتا تھا۔ اس کی بہادری جزبہ ایمانی سے امریکی و اسرائیلی زائینسٹ بہت خائف و ڈرے ہوئے تھے بلآخر امریکی و اسرائیلی زائینسٹوں نے اس کی قوم کے اندر نفرتوں اور سازشوں کا جال بنا اور رجیم چینج کرنے کی بھی کوشش کی جب تمام تر کوششوں میں ناکام ھوا تو جھوٹا الزام عائد کرکے حملہ کر ڈالا اور گرفتار کرلیا اس عظیم سپہ سالار و حکمران کا نام صدام حسین تھا جو عراق کا جنرل و صدر تھا۔ آج کے وقت اب دنیا کھل کر جان چکی ھے کہ یہ امریکی و اسرائیلی زائینسٹ دنیا بھر کے مظلوم نہتوں کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں اور خاص طور پر پہل مسلمانوں کو جو دین حق پر کامل عمل پیرا ہیں میں ان نام نہاد مسلمان کا ذکر شامل نہیں کررھا جو صرف کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔ یہاں واضع کرتا چلوں کہ امریکی و اسرائیلی زائینسٹوں کے سب سے بڑے ہتھیار قادیانی ہیں جو دین محمدی ﷺ پر ضرب لگائے بغیر رہ نہیں سکتے وہ ہیں قادیانی زندیق ملحد اور غلیظ و خبیث ترین۔ انکی خباثت تمام کفار و مشرکین و مرتدین سے بھی کہیں زیادہ ھے۔ فتویٰ تو یہ ہونا چاہئے کہ قادیانیوں کو جہاں دیکھیں فوری جہنم واصل کردیں کیونکہ یہ روئے زمین کی بدترین مخلوق ہیں۔ بحرحال میں ذکر کر رھا تھا ایک عاشق رسول ﷺ غلام رسول ﷺ فدائیان رسول ﷺ ایک عظیم شہید صدام حسین کی معزز قارئین ایک امریکی جس نے صدر صدام حسینؒ کی پھانسی کے عمل میں شرکت کی، کہتا ہے کہ وہ آج تک اس واقعہ پر غور و فکر میں ہے اور اکثر یہ پوچھتا ہے کہ اسلام موت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ اس نے کہا: صدام ایسا شخص ہے جو احترام کے لائق ہے۔ رات دو بجے (گرینچ کے مطابق) صدام حسین کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا۔ پھانسی کی نگرانی کرنے والے گروہ کا سربراہ اندر آیا اور امریکی پہریداروں کو ہٹنے کا حکم دیا، پھر صدام کو بتایا گیا کہ ایک گھنٹے بعد اسے پھانسی دی جائے گی۔ یہ شخص ذرا بھی گھبرایا نہیں تھا۔ اس نے مرغی کے گوشت کے ساتھ چاول منگوائے جو اس نے آدھی رات کو طلب کئے تھے، پھر شہد ملا گرم پانی کے کئی پیالے پئے، یہ وہ مشروب تھا جس کا وہ بچپن سے عادی تھا۔
کھانے کے بعد اسے بیت الخلا جانے کی پیشکش کی گئی مگر اس نے انکار کردیا۔
رات ڈھائی بجے صدام حسین نے وضو کیا، ہاتھ، منہ اور پاؤں دھوئے، اور اپنے لوہے کے بستر کے کنارے بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، یہ قرآن انہیں ان کی اہلیہ نے بطور تحفہ دیا تھا۔ اس دوران پھانسی دینے والی ٹیم پھانسی کے پھندے اور تختے کا جائزہ لے رہی تھی۔ پونے تین بجے مردہ خانہ کے دو افراد تابوت لے کر آئے اور اسے پھانسی کے تختے کے پاس رکھ دیا۔دو بج کر پچاس منٹ پر صدام کو کمرہ پھانسی میں لایا گیا۔ وہاں موجود گواہان میں جج، علما، حکومتی نمائندے اور ایک ڈاکٹر شامل تھے تین بج کر ایک منٹ پر پھانسی کا عمل شروع ہوا جسے دنیا نے کمرے کے کونے میں نصب ویڈیو کیمرے کے ذریعے دیکھا۔ اس سے قبل ایک سرکاری اہلکار نے پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا۔ صدام حسین تختے پر بلا خوف کھڑے رہے جبکہ جلاد خوفزدہ تھے، کچھ کانپ رہے تھے اور بعض نے اپنے چہرے نقاب سے چھپا رکھے تھے جیسے مافیا یا سرخ بریگیڈ کے افراد ہوں۔ وہ لرزاں اور سہمے ہوئے تھے۔
امریکی فوجی کہتا ہے: "میرا جی چاہا کہ میں بھاگ جاؤں جب میں نے صدام کو مسکراتے دیکھا، جبکہ وہ آخری الفاظ میں مسلمانوں کا شعار پڑھ رہے تھے: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔ میں نے سوچا کہ شائد کمرہ بارودی مواد سے بھرا ہوا ہے اور ہم کسی جال میں پھنس گئے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں لگتا کہ کوئی شخص اپنی پھانسی سے چند لمحے پہلے مسکرا دے۔ اگر عراقی یہ منظر ریکارڈ نہ کرتے تو میرے امریکی ساتھی سمجھتے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں، کیونکہ یہ ناقابلِ یقین تھا لیکن راز یہ ہے کہ اس نے کلمہ پڑھا اور مسکرایا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ واقعی مسکرایا، جیسے اس نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہو جو اچانک اس کے سامنے ظاہر ہوگئی ہو پھر اس نے مضبوط لہجے میں کلمہ دوبارہ کہا جیسے کوئی غیبی طاقت اسے کہلا رہی ہو۔”۔ یہاں میں واضع کرتا چلوں کہ رسول خداﷺ اپنے عاشقوں غلاموں کو تن تنہا چھوڑا نہیں کرتے اور خاص طور نزع کے وقت اپنا دیدار کراکے نزاع کی تکلیف کو ختم کردیتے ہیں یہی سبب ھے کہ مومن رسول خدا کا غلام اور عاشق رخصت آخیر آپ کے دیدار پر مسکراتا ہوا دارفانی سے کوچ کرجاتا ھے۔ معزز قارئین صدام حسین کے بارے میں چند حقائق درج ذیل ھیں:
۞ وہ پہلا حکمران تھا جس نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل برسائے۔
۞ اس نے یہودیوں کو خوف زدہ کر دیا کہ وہ بلیوں کی طرح بنکروں میں چھپ گئے۔
۞ وہ جنگوں میں بھی عرب قومیت کے نعرے لگاتا تھا۔
۞ اس نے جج سے کہا: "یاد ہے جب میں نے تمہیں معاف کیا تھا حالانکہ تمہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی!” جج گھبرا گیا اور استعفیٰ دے دیا، پھر رؤوف کو لایا گیا۔
۞ اس نے کہا: "اے علوج! ہم نے موت کو اسکولوں میں پڑھا ہے، کیا اب بڑھاپے میں اس سے ڈریں گے؟”
۞ اس نے شام و لبنان کو کہا: "مجھے ایک ہفتہ اپنی سرحدیں دے دو، میں فلسطین آزاد کرا دوں گا۔” آخری لمحے پھانسی سے قبل امریکی افسر نے صدام سے پوچھا:
"تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟”
صدام نے کہا:
"میری وہ کوٹ لا دو جو میں پہنتا تھا۔” افسر نے کہا: "یہی چاہتے ہو؟ مگر کیوں؟” صدام نے جواب دیا عراق میں صبح کے وقت سردی ہوتی ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا جسم کانپے اور میری قوم یہ سمجھے کہ ان کا قائد موت سے خوفزدہ ہے۔” پھانسی سے قبل اس کے لبوں پر آخری کلمات کلمہ شہادت تھے اور اس نے عرب حکمرانوں سے کہا تھا: "مجھے امریکہ پھانسی دے گا، مگر تمہیں تمہاری اپنی قوم پھانسی دے گی۔ یہ کوئی معمولی جملہ نہ تھا بلکہ آج ایک حقیقت ہے۔ اللہ اس بہادر پر رحم فرمائے اگر آپ نے یہ پڑھ لیا ہے تو حضور ﷺ پر درود بھیجیں۔ اپنے معزز قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ چند سال قبل جب صدام حسین شہید کی قبر کھلی تو اسکا کفن میلا تک نہیں ھوا تھا اس کا جسم تروتازہ مہک رھا تھا بیشک اللہ سبحان تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے غلاموں کو دونوں جہاں میں عزت و مرتبہ اور مقام اعلیٰ سے سرفراز فرمایا ھے۔۔۔۔۔!!




