*نئے نظام کے لیے دوٹوک مطالبات*

*نئے نظام کے لیے دوٹوک مطالبات*
*پاکستان کو چہروں کی نہیں، نظام کی تبدیلی درکار ہے*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ ملک کی بقاء، سلامتی اور عوامی خوشحالی کے لیے نئے نظام میں درج ذیل اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں:
1۔ بلاامتیاز احتساب: کرپشن، لوٹ مار، اقرباپروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا خاتمہ؛ قانون طاقتور اور کمزور سب کے لیے یکساں ہو۔
2۔ ٹیکس کے بدلے شفاف ترقی: عوام سے وصول ہونے والے ٹیکس کا ہر روپیہ تعلیم، صحت، پانی، صفائی، روزگار، امن اور بنیادی سہولیات پر شفاف طریقے سے خرچ کیا جائے۔
3۔ سیاست و نوکر شاہی کی جواب دہی: عوامی عہدے ذاتی مراعات اور مفادات کا ذریعہ نہ رہیں؛ سیاست دان اور افسران اپنی ذمہ داری، تنخواہ اور قانون کے دائرے تک محدود رہیں۔
4۔ معاشرتی جرائم کا قلع قمع: منشیات، شراب، جنسی جرائم اور دیگر سنگین معاشرتی برائیوں کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر قانونی کارروائی کی جائے، خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
5۔ سود سے پاک معیشت: سود کے خاتمے کے لیے واضح عملی روڈ میپ دیا جائے اور حلال تجارت، سرمایہ کاری، صنعت اور روزگار کو فروغ دیا جائے۔
6۔ پنشنرز کا باعزت تحفظ: پنشنرز کی بروقت ادائیگی، مہنگائی کے تناسب سے مناسب اضافہ اور اضافی بنیادی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔
7۔ ائمہ، مؤذنین اور خدام کی کفالت: مساجد و مدارس کے لیے شفاف قانونی نظام قائم کرکے ائمہ، مؤذنین اور خدام کی باعزت معاشی معاونت اور مناسب معاوضہ یقینی بنایا جائے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ نیا نظام کب آئے گا؛ اصل سوال یہ ہے کہ نیا نظام عوام کو عملی طور پر کیا دے گا؟ عوام سے اپیل کرتا ھوں کہ عوام نعروں اور وعدوں کے بجائے عملی نتائج کا مطالبہ کریں۔ اپنے حقوق، ٹیکس کے استعمال، قانون کی بالادستی اور شفاف حکمرانی کے لیے پُرامن، آئینی اور متحد آواز بلند کریں۔ خاموشی مسائل کا حل نہیں؛ باشعور عوام ہی حقیقی تبدیلی کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔



