عنوان: دستور گروپ کی معروضات

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: دستور گروپ کی معروضات۔۔۔!!
صوبائی وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ سے کراچی پریس کلب باڈی کی اہم میٹنگ گزشتہ روز منعقد ہوئی تھی۔ دستود گروپ نے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ و دیگر اعلیٰ سرکاری حکام سے کراچی پریس کلب کی باڈی کی بھر پور میٹنگ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بالآخر کراچی پریس کلب کے الیکشن سے صرف تین ماہ قبل باڈی متحرک ہو گئی اور کلب ممبران کے دیرینہ مسائل پر کاسمیٹک ورک شروع کردیا ہے۔ کراچی پریس کلب کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں صحافیوں کے پلاٹوں کے حوالے سے جو دعوے کئے گئے ہیں وہ سرکاری ہینڈ آؤٹ میں نظر نہیں آتے۔سرکاری ہینڈ آؤٹ میں پولیس شہداء کے لواحقین کو پلاٹ دینے کی یقین دھانی تو کروائی گئی ہے لیکن صحافیوں کے پلاٹس کے حوالے سے صرف تسلیاں ہی دی گئی ہیں جبکہ اس اہم میٹنگ کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا چاہئیے تھا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے دستور گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالجبار خان ڈپٹی چیئرمین ناصر محمود، ڈپٹی چیئرمین محمد عارف خان،
ایگزیکٹو ممبر جاوید صدیقی، طارق اسلم اور سینٹرل ایگزیکٹو کونسل نے اپنے بیان میں ہاکس بے ایل ڈی اے لیز کے حوالے سے کہا ہے کہ کلب ممبرز کو تقریبآ پچیس سال قبل ہاکس بے پلاٹ ملے تھے جبکہ دی ڈیموکریٹس گذشتہ تقریبآ بارہ سال سے برسر اقتدار ہے لیکن صحافیوں کے پلاٹس کی لیز موٹیشن کا معاملہ اب تک حل نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے ہاکس بے پلاٹوں کی مارکیٹ ویلیو نہ بڑھ سکی۔ مجبور اور ضرورت مند کلب ممبرز اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے اپنے پلاٹوں کو اونے پونے بیچنے پر مجبور ہیں اور لاکھوں روپے کا نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ہاکس بے اسکیم میں صحافی کا جو آخری پلاٹ بکا وہ چھتیس لاکھ روپے کا بکا اگر یہ لیز ہوتا تو اسکی ویلیو ستر سے اسی لاکھ روپے تک ہوتی۔صحافیوں کے ہاکس بے پلاٹ اسکیم سے ملحق اور بعد میں آنے والی جاوید بحریہ اسکیم میں چار سو گز کے لیز شدہ پلاٹ کی کم سے کم قیمت دو کروڑ روپے ہے۔ ہاکس بے اسکیم بیالیس ساڑھے چھ ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے جس میں سے دو سو سرسٹھ ایکڑ زمین پر صحافیوں کے پلاٹ ہیں جسے علیٰحدہ اسٹیٹس نہیں دلوایا جاسکا لہذا جب پوری اسکیم کی لیز موٹیشن ہوگی تب ہی صحافیوں کے پلاٹ بھی لیز موٹیشن ہوں گے۔دستور گروپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیز موٹیشن کی اس انتہائی تاخیر کی باعث ابتک ہاکس بے پلاٹ کے مالک تقریباً سو کلب ممبران اپنے پلاٹ پر گھر بنانے کی خواہش و تمنا لئے خالق حقیقی سے جا ملے کیونکہ اگر پلاٹ لیز ہوتا تو مرحومین لون لے کر اپنے پلاٹ پر اپنا گھر بنا سکتے تھے۔ حالیہ اعلیٰ سطحی میٹنگ میں ابھی بھی لیز موٹیشن سے متعلق صرف سمری کی حرکات و سکنات کے بارے میں بتایا گیا ہے کوئی نتیجہ خیز فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا سوائے طفل تسلیوں کے۔۔۔ دستور گروپ نے متبادل پلاٹس کے حوالے سے کہا ہے کہ کے پی سی پریس ریلیز میں ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا گیا ہے کہ اٹھائیس اکتوبر تک قرعہ اندازی ہو جائے گی۔ دستور گروپ کی دعا اور تمنا ہے کہ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔دستور گروپ نے ایم ڈی اے ملیر اور تیسر ٹاؤن میں صحافیوں کے پلاٹوں کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ معاملہ بھی تاحال حکومت سندھ کی جانب سے عدم ادائیگی کی باعث کھٹائی میں پڑا ہے۔ کراچی پریس کلب کے ذمہ داران جب پچیس سال میں ہاکس بے کی واجب الادا رقم حکومت سندھ سے ادا نہیں کروا سکے تو ملیر اور تیسر ٹاؤن کی کیا بات کی جائے۔کراچی پریس کلب کے نئے ممبران کے پلاٹوں کے حوالے سے دستور گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سندھ کو نئے ممبرز کے پلاٹوں کے حوالے سے فوراً درخواست دے جائے جو کہ پہلے ہی بہت تاخیر کا شکار ہے۔ کے پی سی باڈی کی جانب سے ہاکس بے پلاٹوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے این او سی کی لازمی شرط پر دستور گروپ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شرط کس قانون اور ضابطے کے تحت لگائی گئی ہے اس کا مقصد کیا ہے اس سے کلب ممبرز کو آگاہ کیا جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



