کالم/مضامین

*عنوان: افواجِ پاکستان پر اعتراض کرنے سے پہلے۔۔۔!!*

*بیدار ہونے تک*

*عنوان: افواجِ پاکستان پر اعتراض کرنے سے پہلے۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

معزز قارئین!! حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ فوجی افسران کی مختلف سرکاری، نیم سرکاری، سفارتی اور انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کی ایک طویل فہرست گردش کر رہی ہے۔ اس فہرست میں چیئرمین نیب، چیئرمین واپڈا، چیئرمین نادرا، پبلک سروس کمیشن، سفارت خانوں، مختلف وزارتوں، تعلیمی اداروں، پی آئی اے، این ڈی ایم اے، سپارکو اور دیگر اداروں میں سابق فوجی افسران کی تعیناتیوں کے دعوے شامل ہیں۔ ان میں سے ہر نام اور عہدے کی الگ الگ سرکاری سطح پر تصدیق ضروری ہے؛ تاہم اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے ریٹائرڈ فوجی افسران کہاں تعینات ہوئے، بلکہ یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ ریاستی ادارے اپنی مطلوبہ اہلیت، دیانت، کارکردگی اور میرٹ کے حامل سول ماہرین پیدا کرنے میں کیوں ناکام ہوتے جا رہے ہیں؟ اگر سول ادارے مضبوط، باصلاحیت، غیر جانب دار اور جواب دہ ہوتے تو ریاست کو بار بار کسی بھی ادارے کے ریٹائرڈ افسران سے خدمات لینے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ایک زمانے میں سول بیوروکریسی میں ایسے قابل، ذہین، محنتی، دیانتدار اور باکردار افسران موجود تھے جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود ریاستی مشینری کو چلایا اور ملک کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھایا مگر وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی مداخلت، اقربا پروری، سفارش، بدعنوانی، نااہلی اور ذاتی مفادات نے اداروں کی بنیادیں کمزور کر دیں۔ آج سوال اٹھتا ہے کہ پبلک سروس کمیشن سے لے کر تعلیم، صحت، زراعت، ٹرانسپورٹ، مواصلات اور دیگر محکموں تک میرٹ، اہلیت اور جواب دہی کہاں ہے؟ اگر کسی ادارے میں تقرری سیاسی وابستگی، سفارش یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر ہو اور کسی دوسرے ادارے میں نظم و ضبط، اہلیت اور کارکردگی کو ترجیح دی جائے تو عوام لازماً پوچھیں گے کہ ریاستی اداروں کو تباہ کرنے والا اصل رویہ کون سا ہے؟ افواجِ پاکستان پر اعتراض کرنے سے پہلے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فوجی اداروں میں نظم و ضبط، کمانڈ اسٹرکچر، احتساب، تربیت اور فوری سزا و جزا کا نظام کیوں نسبتاً مؤثر سمجھا جاتا ہے، جبکہ بہت سے سول ادارے مسلسل بحران، سیاسی دباؤ اور انتظامی کمزوری کا شکار کیوں ہیں؟ تنقید ہر ادارے کا حق ہے، مگر تنقید اصول اور شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے، تعصب کی بنیاد پر نہیں۔ اگر کسی ریٹائرڈ فوجی افسر میں مطلوبہ قابلیت، تجربہ اور اہلیت موجود ہے تو محض اس کے فوج سے وابستہ رہنے کی بنیاد پر اسے نااہل قرار دینا بھی درست نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی فوجی افسر کسی سول عہدے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے تو اس کی اہلیت، طریقۂ تقرری، مدتِ ملازمت، اختیارات اور کارکردگی کو بھی شفاف عوامی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔ اصل مسئلہ فوجی یا سول نہیں؛ اصل مسئلہ میرٹ، شفافیت اور جواب دہی کا ہے۔ پاکستان کو نہ اندھی حمایت کی ضرورت ہے نہ اندھی مخالفت کی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست کے ہر ادارے میں تقرری صرف میرٹ اور اہلیت پر ہو۔ سیاسی سفارش اور اقربا پروری کا خاتمہ کیا جائے۔ ہر عہدے کے لیے واضح تعلیمی، تجرباتی اور پیشہ ورانہ معیار مقرر ہو۔ ہر تقرری اور اس کے طریقۂ کار کو ممکن حد تک شفاف بنایا جائے۔ اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا جائے۔ کارکردگی نہ دکھانے والے ہر افسر کا احتساب ہو، خواہ وہ سول ہو یا سابق فوجی۔عوام کو بنیادی حقوق، انصاف اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں جہاں تک افواجِ پاکستان کا تعلق ہے، اس کا بنیادی فریضہ ملکی دفاع ہے۔ فوج کو بھی آئین، قانون، میرٹ اور ادارہ جاتی حدود کے اصولوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ سول حکومت اور سول اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اداروں کو اس قدر مضبوط اور قابل بنائیں کہ ریاستی امور کے لیے غیر ضروری طور پر کسی دوسرے شعبے پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ پاکستان کو افراد نہیں، مضبوط ادارے بچائیں گے۔ نہ سول حکمران فرعون بنیں، نہ کوئی دوسرا ادارہ ریاستی نظام کا متبادل بنے۔ آئین، قانون، میرٹ، انصاف اور عوامی مفاد سب سے بالاتر ہونا چاہیے۔ آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت نظام کی اصلاح کی ہے۔ ایسا نظام جہاں عہدہ کسی خاندان، جماعت، طبقے یا ادارے کی جاگیر نہ ہو؛ جہاں قابلیت سفارش سے بڑی ہو، قانون طاقتور سے بڑا ہو اور انصاف کمزور و طاقتور دونوں کے لیے یکساں ہو۔ افواجِ پاکستان پر اعتراض کرنے سے پہلے سول اداروں کی ناکامی کا بھی احتساب کریں، اور سول اداروں کی اصلاح کے ساتھ ہر ریاستی ادارے کو آئین و قانون کی حدود میں مضبوط کریں۔ پاکستان کو کسی ایک طبقے، جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا منصفانہ، محفوظ اور خوشحال وطن بنانا ہوگا۔ نظام بدلنا ناگزیر ہے—مگر نظام کی تبدیلی کا آغاز شخصیتوں سے نہیں، اصولوں سے ہونا چاہیے۔۔۔ !!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You