سویلین ہی حکومت کے حقدار ہیں

سویلین ہی حکومت کے حقدار ہیں
تحریر: جاوید صدیقی، جرنلسٹ، کراچی
پاکستان کے قیام کے بعد ایک عرصے تک ریاستی امور سویلین نظام کے تحت چلتے رہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہی سویلین طبقات نے اقتدار، مفادات اور ذاتی تحفظ کے لیے طاقت کے مراکز کے سامنے سر جھکانے کی روایت کو فروغ دیا۔ یوں سویلین بالادستی کا تصور کمزور ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت تھا جب سرکاری منصب کو اختیار نہیں بلکہ ذمہ داری اور عبادت سمجھا جاتا تھا۔ قابلیت، اہلیت، دیانت، امانت، سچائی اور میرٹ کو سرکاری امور کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ وہ افسران اور اہلکار آج بھی عوام کی یادوں میں زندہ جاوید ہیں اور ان کے لیے دعائیں نکلتی ہیں مگر آج صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے خصوصاً صوبائی سندھ کی سطح پر سفارش، اقرباپروری، سیاسی مداخلت، نااہلی اور مبینہ کرپشن نے میرٹ اور ادارہ جاتی کارکردگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یقیناً ہر سرکاری ملازم یا افسر کو ایک ہی ترازو میں تولنا درست نہیں؛ آج بھی بہت سے دیانتدار اور قابل لوگ موجود ہیں مگر مجموعی نظام پر سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔ المیہ صرف حکمرانوں یا سرکاری افسران کا نہیں۔ معاشرے میں دولت، اثر و رسوخ اور عہدے کو عزت کا معیار بنا دینا بھی ہماری اجتماعی زوال کی علامت ہے۔ جو لوگ کبھی عام شہریوں کی صف میں کھڑے تھے، ان میں سے بعض آج ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت اور تعلقات کے بل پر مصنوعی وقار حاصل کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی مسائل کا ذمہ دار صرف ایک ادارہ نہیں۔ ہماری افواج بھی ہر انسانی ادارے کی طرح احتساب اور قانون کی پابندی سے بالاتر نہیں اور سویلین قیادت بھی بری الذمہ نہیں۔ جس نے ظلم کیا، وہ ذمہ دار ہے؛ جس نے ظلم کو مصلحت، خوف یا مفاد کے باعث برداشت کیا، اسے بھی اپنے کردار پر غور کرنا چاہئے۔ قومیں اسی وقت بدلتی ہیں جب وہ ظلم کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے آئین، قانون، عدل، میرٹ اور حق و سچ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔ اب بھی وقت ہے، سویلین اقتدار کا مطلب محض سویلین چہرے نہیں بلکہ بااصول، باصلاحیت، جواب دہ اور آئین و قانون کے پابند سویلین ادارے ہیں۔ آئیں ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر میرٹ، دیانت، عدل اور قانون کی حکمرانی کیلئے کھڑے ہوں، کیونکہ ظلم کے نظام کو بدلنے کیلئے صرف حکمران بدلنا کافی نہیں، قوم کا اجتماعی کردار بھی بدلنا ضروری ہے۔


