اہم خبریںپنجاب

راولپنڈی (افتخار خٹک) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر 1 کے جج امجد علی

راولپنڈی (افتخار خٹک) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر 1 کے جج امجد علی شاہ نے 28 ستمبر کو راولپنڈی میں پر تشدد احتجاج کے دوران جلاؤ، گھیراؤ اور ہوائی فائرنگ کے علاوہ پولیس پر حملہ آور ہونے پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے اور ایس پی راول کے زیر استعمال سرکاری گاڑی سمیت پولیس کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے 4 الگ الگ مقدمات میں گرفتار خاتون رہنما سیمابیہ طاہر سمیت 93 ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے عدالت نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کے علاوہ 80 سالہ خاتون سمیت 7 خواتین کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ مقدمہ میں نامزد 5 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا ہے گزشتہ روز تھانہ سٹی، وارث خان، نیوٹاؤن اور تھانہ سول لائن پولیس نے ایک روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق، سیمابیہ طاہر اور 80 سالہ روشن بی بی اور 11 خواتین سمیت 121 ملزمان کو دوبارہ سخت حفاظتی حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پر تفتیشی افسران نے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی عدالت نے عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد تھانہ سٹی کے مقدمہ میں گرفتار 84 ملزمان میں سے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن خواجہ فاروق، 80 سالہ روشن بی بی، عائشہ مصطفیٰ، شمسہ شاہ، غزالہ وصال اور حسینہ یاسین کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا حکم دے دیا جبکہ انیلہ، فرحت، نصرت اور ثمینہ پر مشتمل 4 خواتین کو کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوادیا ہے عدالت نے مقدمہ میں گرفتار خاتون رہنما سیمابیہ طاہر ستی سمیت 73 ملزمان، تھانہ سول لائن کے مقدمہ میں گرفتار اقبال خٹک سمیت 17 ملزمان آور تھانہ وارث خان کے مقدمہ میں گرفتار حافظ امیر حمزہ سمیت 15 ملزمان اور تھانہ نیو ٹاؤن کے مقدمہ میں گرفتار خلیل احمد سمیت 5 ملزمان کو 4/4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر متعلقہ تھانوں کی پولیس کے حوالے کر دیا ہے عدالت نے حکم دیا ہے کہ 4 اکتوبر کو تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے یاد رہے کہ تھانہ وارث خان کے ایس ایچ او سید تہذیب الحسن شاہ کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات 7 اے ٹی اے اور 21/1 اے ٹی اے کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 324، 382، 427، 109، 341، 147، 149، 186، 188 اور 34 کے تحت درج مقدمہ نمبر 1356 میں اراکین صوبائی اسمبلی اسد عباس اور اور تنویر اسلم کے علاوہ تحریک انصاف کے رہنماؤں سیمابیہ طاہر، شہریار ریاض، اعجاز خان عرف جازی خان، راجہ راشد حفیظ، کرنل (ر) اجمل صابر، عالیہ حمزہ، چوہدری امیر افضل، اور عمر تنویر بٹ سمیت تحریک انصاف کے 57 رہنماؤں اور سرکردہ افراد کو نامزد کیا گیا تھا جبکہ 100/150 نامعلوم افراد بھی مقدمہ میں شامل ہیں مقدمہ کے متن کے مطابق آتشیں اسلحہ، ڈنڈوں، لاٹھیوں اور غلیلوں سے مسلح افراد نعرے بازی کرتے مری روڈ پر آگئے اور سڑک بلاک کردی جنہیں دفعہ 144 کے متعلق بتاتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی لیکن مذکورہ ہجوم نے مشتعل ہو کر پولیس افسران و اہلکاروں پر حملہ کردیا جس سے ڈولفن اہلکار سمیت دیگر زخمی ہوگئے جبکہ مشتعل ہجوم نے ایس پی راول ڈویژن کے زیر استعمال سرکاری گاڑی کے علاوہ پولیس کی دیگر گاڑیوں کے بھی شیشے توڑ دیئے اور ٹائر برسٹ کردئیے اسی طرح دیگر تھانوں میں بھی پولیس پر حملہ آور ہونے ہوائی فائرنگ جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچا کر عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے الزامات کے تحت الگ الگ مقدمات درج کئے گئے تھے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You