بلوچستان میں لسانی بنیادوں پر قتل و غارت گری کا سلسلہ بند کرایا جائے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

بلوچستان میں لسانی بنیادوں پر قتل و غارت گری کا سلسلہ بند کرایا جائے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
نوشکی میں 9 پنجابی مزدوروں سمیت 11 افراد کا قتل لسانی تعصب کو ہوا دینے کی گھناونی سازش ہے:گفتگو
بلوچ علیحدگی پسندوں نے قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے میں شورش برپاکر رکھی ہے:چیئرمین
حکومت بلوچستان کی محرومیوں اور پسماندگی کے خاتمے پر خصوصی توجہ دے تاکہ ملک دشمن عناصر کو منہ کی کھانی پڑے
( )چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ بلوچستان میں لسانی بنیادوں پر قتل و غارت گری کا سلسلہ بند کرایا جائے،بلوچ علیحدگی ہسندوں کی طرف سے 9 پنجابی مزدوروں کے شناختی کارڈ چیک کرکے قتل کرنے کی واردات ملک میں لسانی تعصبات کو ہوا دینے کی گھناونی سازش ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس قبل بھی پنجابی اور سندھیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے،بلوچ علیحدگی پسندوں نے قدرتی وسائل کی فراوانی والے اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے لیکن غریب ترین صوبے بلوچستان میں کئی دہائیوں سے شورش برپاکر رکھی ہے اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ ان مٹھی بھر انسانیت دشمن عناصر کا قلع قمع کرتے ہوئے بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنایا جائے جہاں پر تمام اقوام اور مسالک کے افراد آزادی کے ساتھ رہ سکیں۔ان خیالات کا اظہار نوشکی میں 9 پنجابیوں سمیت 11 افراد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی محرومیوں اور پسماندگی کے خاتمے پر خصوصی توجہ دے تاکہ وہاں کے عوام میں جو احساس محرومی بڑھتا جارہا ہے وہ کم ہو۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی خرابی میں بھارت کے کردار کو کسی طور بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کی گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ کوشش چلی آرہی ہے کہ وہ کسی طرح بلوچستان کو دو حصوں میں تقسیم کرے مگر ہر بار اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے۔



