*عنوان: پاکستان میں فحاشی و بدکاری صرف دو طبقہ میں ۔۔۔۔!!*

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان: پاکستان میں فحاشی و بدکاری صرف دو طبقہ میں ۔۔۔۔!!*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
اسلامی تاریخ گواہ ھے کہ جس ریاست کے حکمران فحاش و بدکار ھوتے ہیں وہاں کی عوام بھی اسی ماحول میں ڈھل جاتی ھے کیونکہ بدکردار و فحاشی بااختیار قوانین اور حالات کو بھی اپنی ذہنی و کیفیاتی عمل میں ملوث کرکے اپنی خواہشات کے مطابق تشکیل دیدیتے ہیں اگر ترکی کی جانب دیکھیں تو کمال اتاترک، ایران کی جانب نظر دوڑائیں تو شہنشاہ پہلوی سابقہ ادوار افغانستان کا ہو یا موجودہ ادوار عربوں اور پاکستان کا کسی طور عیاشی و بدکاریوں سے خالی نہیں گویا ہر سو فحاشی و بدکاری کو پڑوان اور فروغ دینے کیلئے ریاستی مشینریاں متحرک نظر آتی ہیں۔ ہمارے ملک پاکستان میں ایک ایسا بھی طبقہ ھے جو ان تمام برائیوں بدکاریوں اور فحاشیوں سے دور عزت و احترام، تہذیب و ادب، خاندانی روایت و رواداری، دین اور مذہب سے گہرا لگاؤ، عزت نفس اور شرم و حیاء، صبر و قناعت و شکر گزاری، اور حقوق اللہ و حقوق العباد کی سختی سے پیروی کرنے والا یہ طبقہ مڈل کلاس کہلاتا ھے۔ اس مڈل کلاس طبقہ میں ایثار و قربانی جیسے عظیم خاصیت بھی پائی جاتی ہیں۔ مڈل طبقہ میں خاندانی روایات اور رسم کو بھی بڑا دھیان دیا جاتا ھے۔ عام طور پر مڈل کلاس طبقہ کو شریف النفس کہا جاتا ھے کیونکہ اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی عزت و آبرو کی حفاظت اپنی زندگی سے زیادہ رکھتے ہیں یہی سبب ھے کہ ان میں بے پناہ شرم و حیا ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اور توں تڑاک سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں بلکہ کوسوں دور رہتے ہیں۔ مڈل کلاس طبقہ میں تعلیم و تربیت پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ھے تاکہ نسل در نسل شرافت و انکساری کا جذبہ جنم لیتا رھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! امیر اور غریب طبقہ میں کئی محاذ میں یکسانیت پائی جاتی ھے۔ ان میں ہوس دولت، بدکاری، برائی، غیر اخلاقی، بے شرمی و بے حیائی، منشیات نوشی، عیاشی اس مد میں کہ امیر زنا کیلئے دولت نچھاور کرتے اور غریب دولت سمیٹنے کیلئے زنا کرواتے، چوری ڈکیتی ڈاکہ رہزنی غریب اور امیر بھی کرتے ہیں مگر طریقہ کار دونوں کا مختلف ہوتا ھے یہاں یاد کراتا چلوں کہ یہ خوائص ان طبقات میں نوے فیصد لوگوں میں پائی جاتی ھے اور دس فیصد حقیقی انسان ہوتے ہیں جن میں ایمان کی خوبصورت شمعیں اور ایمانی دولت پہناں ہوتی ہیں۔ افسوس کہ ان دس فیصد طبقہ کا اثر نوے فیصد پر نہیں ہوتا بلکہ دس فیصد میں چند اعشاریہ فیصد متاثر ہوکر بگڑ جاتے ہیں اور ان نوے فیصد غلیظ و خبیث ماحول کا حصہ بن جاتے ہیں، میرے معزز قارئین اچھی طرح سے واقف ہیں کہ ٹیکس چور کون ہیں، نا جائز ٹیکسوں کے انبار کیوں کس لئے اور کون لگاتے ہیں، میرے معزز قارئین اچھی طرح واقف ہیں کہ منی لانڈرنگ، ہنڈی، اور اسمگلنگ کون سے طبقہ سے تعلق کراتے ہیں خیر حاصل نتیجہ یہ کہ اس قدر ٹیکس بڑھا دو انتہائی مہنگائی کردو بے پناہ بیروزگاری پھیلادو اور بنیادی ضروریات ناپید کردو کہ مڈل کلاس زندہ نہ رہ سکے تاکہ ملک مکمل طوائف کدہ بن جائے کوئی اللہ سبحان تعالیٰ اور رسول خدا ﷺ کا نام لیوا نہ رھے۔ اس دجالی مشن کا سب سے پہلا اور بڑا وار آئی پی پیز کا معاہدہ ھے جو سنہ دو ہزار پینتالیس تک رھے گا یہ معاہدہ نہ قرآنی آیت ھے اور نہ ہی ہیغمبر ﷺ کی کوئی حدیث جو تبدیل یا مٹائی نہ جاسکے اور اگر ریاست اور حکومت جبراً جاری رکھنا چاہے تو کڑوروں پاکستانیوں کو قتل کرنے کے مترادف ھوگا پھر جو آسمان سے فیصلہ ہوگا اسکی آب و تاب نہ ریاست برداشت کرسکے گی نہ حکومت اور نہ ہی حکومت بنانے والے یاد رکھو اللہ ڈھیل چھوڑے ہوئے ہے کس دی تو سب اپنا انجام عبرت کی خانوں میں دیکھیں گے۔ مڈل کلاس ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گی۔۔۔۔۔!!



