کالم/مضامین

عنوان:اچھی صحبت اچھا انسان، بری صحبت برا انسان

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:اچھی صحبت اچھا انسان، بری صحبت برا انسان ۔۔!!

اے مسلمانوں! الله تعالیٰ سے کماحقہ ڈرو اسکے احکامات کی تعمیل کرو اور الله کے منع کردہ کاموں سے رک جاؤ: الله قرآن میں ارشاد فرماتا ھے۔۔۔۔ ترجمہ:اے ایمان والو! الله تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔ سورۃ آل عمران: آیت 102۔۔۔اے مسلمانوں! نافرمانوں کی صحبت سے کنارہ کشی، ان سے لا تعلقی، ان کی جگہوں سے علیحدگی، گناہگاروں کی صحبت سے اجتناب، ان کے ساتھ سفر پر جانے سے پرہیز صائب رائے اور نور بصیرت کی علامت اور دلیل ہے۔کسی کی مشابہت اپنانے سےانسان ویسا ہی بن جاتا ہے، فتنے ٹھاٹھیں مار رہے ہیں اور صاحبِ بصیرت انسان ایسے لوگوں کی مجلس میں جانے سے اجتناب کرتا ہے جو دلوں کو بیمار اور ایمان بگاڑ دیں۔ بصیرت رکھنے والا انسان فتنے میں مبتلا گمراہ لوگوں سے خبردار رہتا ہےجوصحیح عقیدے سے بھٹک چکے ہوں، جو لوگ اچھے اور پر وقار کاموں اور مسلمانوں کی اخلاقیات سے دور ہوچکے ہوں۔ اگر کوئی لوگوں کی کسی مجلس میں بیٹھا ہو اور وہاں کوئی الله و رسول کی نافرمانی پر عمل کیا جارہا ہو تو ایسے میں اس پر حکمت اور اچھے انداز کے ساتھ انہیں غلطی سے روکنا واجب ہوجاتا ہے، اسے چاہئے کہ انہیں بہترین انداز اورحق واضح کردینے والے دلائل کے ساتھ نصیحت کرے تا کہ ان کے شبہات زائل ہوجائیں اور اگر اس شخص نے انہیں ٹوکنے کی استطاعت کے باوجود نہیں ٹوکا تو وہ بھی گناہ میں شریک ہوگا لیکن اگر اس میں ٹوکنے کی بھی سکت نہ ہوئی تو اس پر ان کی مجلس سے اٹھ جانا لازم ہے کیونکہ کسی کی صحبت اور کسی کیساتھ اٹھنابیٹھنا الفت، میلان اور غلطیوں سے چشم پوشی کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ عمرو بن قیس کہتے ہیں:’’ گمراہ کی مجلس میں مت بیٹھو؛ مبادا تمہارا دل بھی گمراہ ہوجائے‘‘۔۔۔الله تعالیٰ کا فرمان ہے: ترجمہ:اور تم پر الله تعالیٰ نے کتاب میں نازل کردیا ہے کہ جب تم سنو کہ الله کی آیات کے ساتھ کفر کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو تم انکے ساتھ بھی مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور گفتگو میں محو ہوجائیں، وگرنہ تم بھی انہی میں سے ہوجاؤ گے، بیشک الله تعالیٰ سب منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ اکٹھے کرنا والا ہے۔۔۔سورۃ النساء: آیت 140۔۔۔۔!! حضرت امام طبری رحمۃ الله علیہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: ’’ اس آیت میں واضح طور پر فاسق ہمہ قسم کے اہل باطل کیساتھ بیٹھک کی ممانعت ہے کہ جب وہ اپنے باطل کا تذکرہ کررہے ہوں تو انکے ساتھ مت بیٹھو۔‘‘ ۔۔۔۔۔ اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ الله علیہ کہتے ہیں: ’’ کسی کیلئے بھی اپنی مرضی سے اور بغیر ضرورت کے گناہوں کی مجالس میں شریک ہونا جائز نہیں ہے؛ جیسے کہ ایک حدیث میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جو شخص الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو وہ ایسے دستر خوان پر مت بیٹھے جہاں شراب پی جارہی ہو ۔۔۔۔ ایسے ہی سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمۃ الله علیہ تک یہ بات پہنچائی گئی کہ :”کچھ لوگ شراب نوش ہیں تو انہوں نے انہیں کوڑے مارنے کی سزا سنائی، تو انہیں بتلایا گیا: ان میں ایک روزے دار بھی ہے، تو انہوں نے کہا: سب سے پہلے اسی کو کوڑے مارو؛ کیا تم نے الله تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا: ترجمہ:- اور تم پر کتاب میں نازل کردیا ہے کہ جب تم سنو کہ الله کی آیات کے ساتھ کفر کیا جارہا ہےاور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو تم ان کے ساتھ بھی مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور گفتگو میں محوہوجائیں، وگرنہ تم بھی انہی میں سے ہوجاؤ گے۔۔سورۃ النساء:آیت 140 ۔۔۔۔ یہاں سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ الله ان سے راضی ہو- آپنے بتلادیا کہ الله تعالیٰ نے برائی کے وقت حاضر شخص کو بھی برائی کرنے والے کے برابرقرار دیا ہے، اسی لئے علمائے کرام کہتے ہیں کہ: اگر کسی کو کسی دعوت پر بلایا جائے اور وہاں پر شراب نوشی اور موسیقی جیسی خرابی کا اہتمام ہو تو ایسی دعوت میں حاضر ہونا جائز نہیں ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے ہمیں حسبِ استطاعت برائی سے روکنے کا حکم دیا ہے؛ لہذا اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے ایسی مجلس میں حاضر ہو اور وہ برائی پر نہ ٹوکے تو اس نے الله اور اسکے رسول کی نافرمانی کی؛ اسی لئے کہ اس نے برائی سے اظہار نفرت نہیں کیا اور اس سے روکا بھی نہیں حالانکہ اسے برائی سے نفرت اور ٹوکنے کا حکم دیا گیا ہے تو اگر معاملہ ایسا ہی ہیکہ شراب نوشی کی مجلس میں کوئی شخص اپنی مرضی سے ضرورت کے بغیر حاضر ہوا اور اس نے الله تعالیٰ کےحکم کیمطابق برائی پر ٹوکا تک نہیں تو وہ ان فاسقوں کی برائی میں عملاً شریک ہے اور وہ انہی میں جا ملے گا۔‘‘

(شیخ الاسلام ابن تیمیہ) اے
مسلمانو! اہل باطل اور گناہگاروں کی تعداد میں اضافے کا باعث نہ بنو، کبھی بھی تمہارا شمار ان لوگوں میں نہ ہو جو فتنوں میں مبتلا ہیں اور فسادی ہیں۔ جیسے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : ’’ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکین کے ساتھ مل کر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں حاضر ہو کر مشرکوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتے تھے، تو انہی میں سے کسی کو کوئی تیر لگ جاتا اور مشرکوں کے ساتھ آنے والا مسلمان قتل ہو جاتا، یا کوئی مسلمان اس پر وار کر کے اسے قتل کر دیتا تو الله تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: ترجمہ:- بیشک فرشتے ایسے لوگوں کی روح قبض کرتے ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہوتے ہیں۔۔۔سورۃ النساء: آیت 97‘‘۔۔ لہٰذا اگر کوئی شخص برائی کی مجالس میں حاضر ہو کر ان سے مانوس ہوتا ہے،ان کی حرکتوں پر خوش ہوتا ہے، یا ان کے کام کو سراہتا ہے، یاان کے کام کی ترویج کرتا ہے، یا ان کی تائید کرتا ہے یا گمراہ ویب سائٹس کی تائید کرتا ہے، یاحیا باختہ ویب سائٹس کے صفحات، یا دین، اخلاق اور ملکی سالمیت کیخلاف ویب سائٹس کی تائید کرتا ہے، یا ان کو لائک کی علامت دیتا ہےتو وہ بھی انکی تعداد میں اضافہ کررہا ہے اور اس کا شمار اُنہی برے لوگوں میں ہوگا۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور الله تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔۔۔

آمین یا رب العالمین!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You