رحیم یار خان (رپورٹ: جاوید صدیقی) پٹواری راؤ ندیم نائب تحصیلدار غلام عباس اور ریڈر راجہ

رحیم یار خان (رپورٹ: جاوید صدیقی) پٹواری راؤ ندیم نائب تحصیلدار غلام عباس اور ریڈر راجہ عامر طفیل کی مبینہ کرپشن اور ملی بھگت سے متاثرہ ایک اور کیس سامنے اگیا،جبکہ نئے کیس کے متاثرین کے شامل ہونے کے بعد نائب تحصیلدار غلام عباس اور ریڈر راجہ عامر طفیل کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں درخواست گزارنے والے چار سائلین تا حال انصاف کے منتظر،جس کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن کی کاروائی اور خد و خال پر عوام کی جانب سے متعدد سوالات نے جنم لے لیا،دڑی عظیم خان تحصیل و ضلع رحیم یار خان کی رہائشی متاثرہ شہری خاتون شہلہ بی بی دختر محمد رمضان زوجہ ولی الرحمان قوم عباسی کی جانب سے بھی محکمہ اینٹی کرپشن میں حصول انصاف کے لیے گزارے جانے والی درخواست مورخہ 13/2/2025 کی کاپی بھی ادارہ ہذا کو موصول،میرے بھائی کی اس قدر طبیعت خراب تھی کہ وہ بولنے چالنے کے ساتھ سننے سمجھنے سے بھی قاصر تھا اس کے باوجود بھی پرائیویٹ ہسپتال میں میرے بھائی کی 46 کنال اراضی کا انتقال کر دیا گیا اور نائب تحصیلدار غلام عباس ریڈر راجہ عامر طفیل اور پٹواری راؤ ندیم نے اپنی مبینہ کرپشن کی خاطر زمین کا انتقال منظور کر کے میرے ساتھ سخت زیادتی کی ہے بطور ویڈیو ثبوت میرے پاس محفوظ ہے محکمہ اینٹی کرپشن فوری کاروائی کرے محکمہ اینٹی کرپشن کے ڈی جی اینٹی کرپشن لاھور کو گزاری جانے والی درخواست میں سائلہ شہلا بی بی کی جانب سے درخواست میں موقف،تفصیل کے مطابق نیب تحصیلدار غلام عباس ریڈر راجہ عامر طفیل کی جانب سے مبینہ کرپشن کیے جانے کی متعدد وارداتیں مندر عام پر انے لگی ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق دونوں افسران و اہلکاران کے متاثرین کی تعداد چار تک پہنچ چکی ہے جبکہ ڈی جی اینٹی کرپشن لاہور کو گزاری جانے والی درخواست میں رحیم یار خان کی رہائشی شہری خاتون شہلا بی بی کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میں دڑی عظیم خان تحصیل و ضلع رحیم یار خان کی رہائشی ہوں اور گھریلو خانہ داری کرتی ہوں ۔ میرا بھائی محمد عمران ولد محمد رمضان قوم عباسی سکنہ موضع محمد پورگانگا تحصیل و ضلع رحیم یار خان جو نوجوانی میں ہپاٹائٹس C کا شکار ہو گیا جس کا علاج معالجہ کراتے رہے لیکن مکمل صحت یاب نہ ہوا میں نے اپنے بھائی کا علاج معالجہ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے باپ کی نسل کو دنیا میں قائم رکھنے کے لئے اپنے بھائی کی شادی سال 2015 میں زینت بی بی دختر محمد ریاض قوم عباسی سکنہ دڑی عظیم خان تحصیل و ضلع رحیم یارخان کے ساتھ کرادی۔ میرے بھائی کے نطفہ سے اولاد نرینہ پیدا نہ ہوئی صرف دو بیٹیاں مقصود بی بی اور زینب بی بی نا بالغان پیدا ہوئیں جو زندہ و وحیات ہیں۔ میرے بھائی محمد عمران کو والدین کی طرف سے زرعی اراضی وراثت میں ملی جو بھائی کے زیر استعمال تھی۔ میرے بھائی کی طبیعت بوجہ بیماری زیادہ خراب ہو گئی اور 2024-09-07 کو RYK پرائیویٹ ہسپتال رحیم یارخان میں داخل کرایا لیکن میرے بھائی کی طبیعت درست نہ ہوئی۔ مسماۃ زینت بی بی ایک لالچی عورت بے طمع نفسانی کی خاطر میرا وراثتی حصہ روکنے کے لئے ایک سازش اور پلاننگ کے تحت مجھے وراثتی حصہ سے محروم کرنے کے لئے زینت بی بی کی ایماء پر ملزمان معشوق علی ، ظہور احمد، اسماعیل، فیاض احمد، فاروق احمد، محمد خلیل، حضور بخش، غلام مصطفیٰ کے نام پر میرے بھائی محمد عمران کی اراضی تعدادی -46کنال- بذریعہ تین انتقالات نمبر 4469 مورخہ 2024-09-13 و انتقال نمبر 4470 مورخہ 2024-09-13 و 4471 مورخہ 2024-09-13 کوملزمان غلام عباس ADLR ، عامر طفیل ریڈر نائب تحصیلدار اور حلقہ پٹواری راؤ ندیم کو بھاری رشوت دے کر دھوکہ دہی و فراڈ کرتے ہوئے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے انتقال ٹرانسفر کر دی اور یہ ظاہر کیا کہ میرے بھائی محمد عمران نے اراضی سینٹر میں جا کر جائیدادٹرانسفر کرائی ہے اور انگوٹھا جات لگائے حالانکہ میرا بھائی اراضی ریکارڈ سینٹر کبھی بھی نہ گیا ہے اور نہ ہی وہاں جا کر انگوٹھا لگایا ہے اور نہ ہی کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی بیان دینے کے قابل تھا بلکہ RYK ہسپتال رحیم یار خان میں داخل تھا۔ ریاض احمد ، جام عیسی، نعیم اختر انتقالات کے شناخت کنندہ ہیں جبکہ نعیم اختر انتقالات پر بطور پتی دار تحریر کیا ہوا ہے۔ سائلہ کے گواہان ولی الرحمن ولد محمد اقبال قوم عباسی سکنہ دڑی عظیم خان تحصیل و ضلع رحیم یارخان ومحمد اکبر ایاز ولد عظیم بخش قوم راجپوت بھٹی سکنہ کینال کالونی رحیم یارخان جو کہ وقوعہ بالا کی تائید کرتے ہیں ۔ وقوعہ بالا کی ویڈیوریکارڈنگ بھی موجود ہے۔ میرا بھائی بوقت علاج ہسپتال میں چلنے پھرنے کے قابل نہ تھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بھی محروم تھا جو ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق انتہائی سیریس طبیعت تھی۔ ملزمان زینت بی بی، معشوق علی، سلیم گانگا، نعیم اختر محمد اسلم، فیاض احمد نے RYK ہسپتال عملہ سے ملی بھگت کر کے لاہور کے لئے اس روز مورخہ 2024-09-13 کوریفر کروایا اور پھر لاہور میں ملی بھگت ، سازش اور پلاننگ کے تحت مورخہ 2024-09-19 کو بحریہ ہسپتال میں قتل کر دیا۔ ملزمان نے وقوعہ بالا کا ارتکاب کر کے سخت زیادتی کی ہے ان کے خلاف FIR درج کی جائے اور ان کے خلاف بمطابق قانون سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے ۔ ویڈیوریکارڈنگ بصورت USB اور نقول انتقالات و نقل ایڈمشن سلپ ہسپتال وڈیتھ سرٹیفکیٹ برادرم محمد عمران لف ہیں،بہت افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف تو نائب تحصیلدار غلام عباس ریڈر راجہ عامر طفیل کی مبینہ کرپشن کے چرچے ہر زبان زد عام ہیں اور چار چار کیسوں کے متاثرین و مدعی عرصہ دراز سے محکمہ اینٹی کرپشن میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں اور محکمہ اینٹی کرپشن میں کاروائی نہ ہونے کے برابر ہے تو دوسری جانب بغیر کسی انویسٹیگیشن کے نائب تحصیلدار اور اس کے ریڈر راجہ عامر طفیل کی بطور گواہ مدعیت میں صحافیوں کے خلاف جھوٹے من گھڑت اور بے بنیاد مقدمات محکمہ پولیس کی جانب سے درج کر دیے گئے ہیں جبکہ نائب تحصیلدار غلام عباس اور ریڈر راجہ عامر طفیل کی مبینہ کرپشن کے بھاگےدار مختلف حلقہ جات کے پٹواری بھی ان تمام کیسز میں ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں،رحیم یار خان کی عوام نے سائلہ شہلا بی بی کو انصاف دلانے کے ساتھ حصول کاروائی کے لیے اپیل کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان، وزیراعلی پنجاب، ڈی جی اینٹی کرپشن،کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان سے بھرپور مطالبہ کیا ہے کہ اس کے بھائی محمد عمران کی زمین ہتھیانے والے کرداروں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کرتے ہوئے نائب تحصیلدار غلام عباس ریڈر راجہ عامر طفیل اور پٹواری راو ندیم کے خلاف انکوائری کرتے ہوئے کیفر کردار تک پہنچانے کی اپیل کی ہے۔




