کیا صحافت کو دلالوں کی جھولی میں پھینک دیں گے
کیا صحافت کو دلالوں کی جھولی میں پھینک دیں گے
تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی
ریاستی امور میں مداخلت غیر صحافتی عمل ھے وہ بھی ایسے شخص کیلئے جو نہ صحافی ھے اور نہ ہی صحافت کی ص سے واقف۔ عماد بن یوسف نے اگر ریاست کے خلاف قدم اٹھایا ھے تو اسے جواب دینا ہی ھوگا اور اگر چند ایک صحافت کا لبادہ اوڑھ کر اور تنظیموں میں عہدے حاصل کرنے کے بعد صحافیوں کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کریگا تو اس کا شدید بائیکاٹ اور احتساب کیا جائے۔ سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ عماد بن یوسف ایس وی پی اےآروائی نیوز کب سے صحافی بن گیا ؟؟؟؟ وہ اےآروائی نیوز کے صحافیوں اینکرز رپورٹرز اور سینٹرل ڈیکس کیلئے فرعون بنا پھرتا تھا اس کے غلیظ اور خباثت سے پورا نیوز کا نیٹ ورک پریشان تھا اس جیسے بھیڑیئے بدتمیز بہودہ بےشرم بے حیا بے غیرت کو صحافی کہنے والے زرد صحافیوں اور تنظیم کے بے غیرت ضمیر فروشوں پر لعنت بھجتا ھوں تمام صحافیوں سے کہتا ھوں کہ کیا تم مفادات اور زر خرید غلام پی ایف یو جے کے عہدیداران کو غیر صحافی عماد بن یوسف ایس وی پی وہ جس نے بیشمار صحافیوں کے معاشی قاتل رھا ھے اس کے حق میں آواز بلند کرو گے ایسے رہنماؤں کا مکمل احتساب اور بائیکاٹ کیا جائے۔یاد رھے کہ عماد بن یوسف نے عطائی اٹھائی ھوئی تھی ظلم و جبر غرور و تکبر اور بے راہ روی کی اب وہ جلد اللہ کی گرفت میں آئیگا انشاءاللہ۔۔!!



