کراچی(اسٹاف رپورٹ) ہیٹ اسٹروک ایسی ہنگامی جسمانی کیفیت ہے، جسے فوری طور پر باضابطہ طبی امداد

کراچی(اسٹاف رپورٹ) ہیٹ اسٹروک ایسی ہنگامی جسمانی کیفیت ہے، جسے فوری طور پر باضابطہ طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے،
اس لیے اس سے متاثر ہونے والے افراد کو ہسپتال ہی لے جانا سب سے اہم ہوتا ہے – علاج نہ کیے جانے کی وجہ سے دل، گردوں اور پٹھوں کو تیزی سے نقصان ہونے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔ علاج میں لمبا تاخیر ہونے سے نقصان مزید بڑھ جاتا ہے، جس سے سنگین پیچیدگیوں یا موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے-ہیٹ سٹروک کی متعدد ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں لیکن عام طور پر پہلی عام علامت سر کا شدید درد، سر کا چکرانا، بے ہوش جانا ہے۔ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر کے مطابق ہیٹ اسٹروک سے کوئی بھی متاثر ہو سکتا ہے لیکن بچے اور شیر خوار، بزرگ افراد ، دل، پھیپھڑوں اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا افراد ، یا جو ایسی دوائیں لے رہے ہیں جو انہیں پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک کا شکار بناتے ہیں۔ اتھلیٹس اور وہ افراد جو باہر کام کرتے ہیں اور سورج کے نیچے جسمانی طور پر محنت کرتے ہیں – حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں- ہیٹ اسٹروک ہونے کی صورت میں مریض کو لٹا کر اس کے پیر کسی اونچی چیز پر رکھ دیں۔ مریض کے جسم پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں یا ٹھنڈا پانی چھڑکیں، مریض کو پنکھے کے قریب کر دیں، یا کسی چیز سے پنکھا جھلیں ۔ مریض کو فوری طور پر اسپتال پہنچانے کی کوشش کریں-گرم موسم میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے، اور کیفین اور تیل سے بھر پور چیزیں، اور تلے ہوئے یا پیک شدہ کھانے کم استعمال کرنے چاہئیں ۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا دینا چاہیے، خاص طور پر سلاد اور ایسے پھل کھانے چاہئیں جن میں پانی کا تناسب زیادہ ہو جیسے کھیرا، تربوز، خربوزہ، وغیرہ ۔گیسٹرو کی مختلف بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیےباہر کے کھانوں کا استعمال کم سے کم کرتے ہوئے
گھر میں پکے ہوئے تازہ اور صاف ستھرے کھانے کھانے چاہیں۔بیمار کرنے والے مختلف جراثیموں سے محفوظ رکھنے کے لیے گھر میں کھانے کو درست درجہ حرارت پر رکھنا چاہے اور باسی کھانوں سے گریز کریں ۔۔۔



