
ڈاکٹر مدیحہ کا خوبصورت انٹرویو افتخار خٹک کے ساتھ Rwp تھانہ بنی کے علاقے میں لوگوں کو لوٹنے والی جلی میڈیکل سنٹر کا انکشاف ڈاکٹر مدیحہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
کہ الفلاح میڈیکل سنٹر کی اونر لیڈی ڈاکٹرز کو آپنی ہواس کا شکار بنا یا یہ گھنونا کاروبار کے لیے ایک خاتون ثانیہ کے ساتھ لوگو کو بلیک میل کرنا یا کام عمر بچیوں کی ڈی این سی کرنا کیوں؟ ارسلان نے کہا ڈاکٹروں کے گروپ نے دیا تھا کے پھانسی والی خاتون ڈاکٹر چاہیے۔ مجھے وہاں ارسلان نے بھیجاتھا.. دستاویزات بھی لیے، یہ کہا کے میں چیک کروانے کے لیے بھیجو گا… جب اس نے ڈاکٹر مدیحہ کو بولا تو میں زبانی معاہدہ ہوا کے 50 ہزار یا کمیشن پر مبنی ہوا… اس کے بعد ارسلان نے مجھ سے بات کی کہ کالج کی لڑکی کا ڈی۔این۔سی کرنا ہے چار ماہ کا اور ڈی ۔این۔سی کی رپورٹ بنانی ہے کس طرح ہوتی ہے؟ میں نے جب انکار کیا تو وو چپ کر گیا کے یہ جرم ہا میں ایسا کام نہیں کروں گی.. .اس نے کہا کے میں اپکو ہاف پارٹنر اپنا بنا لونگا اگر تم میرا ساتھ دو ہم اچھا سیٹ اپ بھی بنا سکتے ہیں اور ڈارک ویب پر بی بنا لیں گے ۔ جب میں نے سب چیزوں سے انکار کیا تو اس نے مجھے مختلف قسم کی دھمکی دینا شروع کے دی.. انکی ساری حقیت میری سمجھ آگئی.. ان کے ساتھ تھانہ بنی کے لوگ اہلکار بھی شامل ہیں ..انہوں نے خرچے لگاے ہوئے ہیں…اور اسطرح کا خطرناک کام کر رہےہیں…ایسے مافیا کا خاتمہ ہونا چاہئیے کہ کسی کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھا سکیں.. میں ایک ڈاکٹر ہوکر انکی خلاف آواز اٹھا رہی ہوں یا تھانہ بنی کے ان تمام اہلکارو کے خلاف کروائی ہونی چاہیئے اور انکے ساتھ کچھ سیاسی شخصیات بھی شامل ہے جو انکو سپورٹ کرتی ہے… اور پولیس والی ہے خاتون ثانیہ کا مسلسل ساتھ دے رائی ہے .. اور اکثر ثانیہ خان کی پولیس کے ساتھ دعوتیں ہوتی ہیں ۔ .ڈاکٹر مدیحہ نے کہا کہ اگر میرے ساتھ کچھ ہوگیا میری موت یا گمشدگی تو اس کا ذمہ دار ارسلان بلوچ، اور ثانیہ اور تھانہ بنی والے ہونگے جو ان سب کی سرپرستی کر رائے ہیں.. .ڈاکٹر مدیحہ نے کہا میں چیف جسٹس پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب سے اپیل کرتی ہوں کہ ایسا مافیا کے خلاف کارروائی ہو گی۔



