چیئرمین مستقبل پاکستان کا نئی زرعی پالیسی کے اعلان پر شرح سود میں کمی کامطالبہ شرح سود 17.5فیصد

چیئرمین مستقبل پاکستان کا نئی زرعی پالیسی کے اعلان پر شرح سود میں کمی کامطالبہ
شرح سود 17.5فیصد علاقائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
بھارت اور نیپال میں شرح سود6.5،سری لنکا میں 8.25 اور بنگلہ دیش میں 9.5 فیصد ہے:گفتگو
ملک میں شرح سود میں کمی کر کے معاشی سرگرمیوں کو بحال اور عوامی پریشانیوں کو کم کیا جاسکتا ہے:چیئرمین
بینک جب زیادہ شرح سود پر قرض دیتے ہیں تو صنعت،تجارت و زراعت کی کاروباری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے
چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ شرح سود کو کم کر کے معاشی سرگرمیوں کو بحال کیا جاسکتا ہے،پاکستان میں شرح سود اس وقت 17.5 فیصد ہے یہ شرح دیگر علاقائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے،بھارت اور نیپال میں یہ شرح6.5،سری لنکا میں 8.25 اور بنگلہ دیش میں 9.5 فیصد ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان کو چاہیے کہ آج نئی زری پالیسی کے اعلان میں شرح سود میں 5 سے 7 فیصد تک کمی کرے تاکہ اس سے عوام کو ریلیف مل سکے کیونکہ بینک جب زیادہ شرح سود پر قرض دیتے ہیں تو صنعت،تجارت و زراعت کی کاروباری لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو صارفین سے وصول کیا جاتا ہے اور اس سے ملکی معیشت کی نمو بھی سست روی کا شکار ہوجاتی ہے۔ان خیالات کا اظہار نئی زری پالیسی کے اعلان پر شرح سود میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلے ہی ہر گزرتے دن کے ساتھ غربت اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور حکومت ان مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی بجائے ڈنگ ٹپاو پالیسیوں میں مصروف ہے جس کی وجہ سے قوم کو درپیش مسائل و پریشانیاں کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی جارہی ہیں۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستان کو رب تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے سرفراز فرمایا ہے مگر اس کے باوجود ملک کا ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہونا لمحہ فکریہ اور حکمران طبقہ کی ناقص حکمت عملیوں اور ناکام پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
03-11-2024



