اہم خبریںپنجاب

پنجاب : پنجاب پولیس ایک ہی ہفتے کے دوران چار پولیس افسران کا خودکشی کرنا

پنجاب : پنجاب پولیس ایک ہی ہفتے کے دوران چار پولیس افسران کا خودکشی کرنا

اب وقت آگیا ہے کہ پولیس ملازمین کو اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا اور انگریز بیوروکریسی کو اس ظلم کا حساب دینا ہوگا ۔
اردل روم کے نام پر پولیس ملازمین کو اپنے دفاتر کے چکر لگوانا، چھ چھ گھنٹے اپنے دفتر کے باہر قیدیوں کی طرح لائن میں کھڑا کیا رکھنا
آپریٹرز، ریڈرز ،اور پرسنل اسسٹنٹ( P.A) کا ہزار دو ہزار روپے کی خاطر بلیک میل کرنا
اپنے دفتر میں اپنے ٹاؤٹ دوستوں، گلدستہ مافیا کے سامنے اپنی افسری جھاڑنے کے لیے ملازمین کو بےعزت کرنا

جعلی پرائمری پاس صحافیوں کی جھوٹی خبروں پر بغیر انکوائری اور ثبوت کے ملازمین کو معطل کرنا
انکوائری میں بے گناہ ثابت ہونے کے باوجود ملازمین کے خلاف لکھنا اور اپنی کارکردگی بنانے کے لیے انہیں سزائیں دلوانا

اردل روم کے نام پر قیدیوں کی طرح لائن میں کھڑا کرکے فوٹو سیشن کرنا اور سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر کرنا۔

کھلی کچہریوں میں حقائق جانتے ہوئے بھی ملازمین کو سرعام میں بے عزت کرنا اور سوشل میڈیا پر تشہیر کرنا

ملازمین کے لیے بنائے گئے ویلفیئر فنڈ میں سے کروڑوں کے گھپلے کرنا پٹرول ڈیزل گاڑیوں کی مرمت کی مد میں لاکھوں کروڑوں خرد برد کرنا

کلیریکل سٹاف کا پولیس ملازمین کی شہادت کے بعد چند ہزار روپے کی رشوت کی خاطر دفاتر کے بار بار چکر لگوانا اور ان کے ساتھ برا سلوک کرنا

چھوٹے پولیس ملازمین کو ان کے گھر سے دور دوسرے ضلعوں میں تبادلہ کرنا اور اکاؤنٹ برانچ کا تنخواہ جاری کرنے کے لئے اس وقت کا تقاضا کرنا ،نہ دینے کی صورت میں دفاتر کے بار بار چکر لگوا کر ذلیل و خوار کرنا

تفتیشی فنڈز اپنے اکاونٹینٹس کی مدد سے کا خرد برد کرنا
اور سوشل میڈیا پر تفتیشی افسران کو خالی لفافہ تھما کر فوٹو سیشن کروانا
کھلی کچہریوں اور افسروں کے دوروں پرآنے والے اخراجات کا ادا نہ کرنا اور تھانے کے ملازمین پر فٹیک ڈالنا اور ملازمین کو کرپشن پر مجبور کرنا۔
سیاسی آقاؤں کے پریشر پر بڑے جرائم پیشہ افراد، سمگلرز قبضہ مافیا پر ہاتھ نہ ڈالنا اور چھوٹے ملازمین کو مورد الزام ٹھہرانا ۔
پولیس تشدد پر فوری کاروائی اور سزا دینا جبکہ پولیس پر حملہ اور تشدد کی صورت میں خاموش ہو جانا ۔

پولیس ملازمین کو اپنے گھروں اور اپنے آبائی علاقوں میں ذاتی کاموں کیلئے استعمال کرنا ۔

دور دراز علاقوں میں ریڈ کے لیے لیے جانے کے لیے سرکاری اخراجات کا نہ دینا اور تفتیشی افسران کو اپنی جیب سے اخراجات ادا کرنے کے لیے مجبور کرنا اور کرپشن کی طرف مائل کرنا ۔

ریڈر گن مین، آپریٹرز ،پرسنل اسسٹنٹ کا کا فون کال پر ملازمین کو فٹیک ڈالنا، نہ ماننے کی صورت میں افسران کو پولیس ملازمین کے خلاف بھڑکانا اور غلط بریف کرنا ۔

۔ پولیس ملازمین کو ناقص وردیاں مہیا کرنا اور اور کروڑوں کا کمیشن کھانا۔
پولیس ملازمین کے لیےسرکاری ہسپتال بچوں کے لیے اسکول اور ویلفیئر کا نہ ہونا ۔

اگر پولیس ٹھیک کرنی ہے تو ان مسائل پر توجہ دی جائے

ورنہ محکمہ پولیس جوں کا توں رہے گا

رپورٹ:افتخار خٹک سے

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You