پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافہ تشویش ناک ہے:سید راشد حسین بخاری

پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافہ تشویش ناک ہے:سید راشد حسین بخاری
تجارتی خسارہ 8.81 فیصد بڑھ کر 21 ارب 35 کروڑ ڈالر سے متجاوز ہوگیا ہے:نائب صدر
صنعتی شعبہ زیادہ زرعی پیداوار کا مرہون منت ہوتا ہے جو مسلسل فی ایکڑ پیداوار میں کمی سے دوچار ہے:گفتگو
ضرورت اس امر کی ہے کہ اشیائے تعیش کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے درآمدی مالیاتی بجٹ کو کم سے کم کیا جائے
نائب صدر مستقبل پاکستان سید راشد حسین بخاری نے کہا کہ پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافہ تشویش ناک ہے،جولائی 2024ء تا اپریل 2025ئکیعرصے میں ملک کا تجارتی خسارہ 8.81فیصد بڑھ کر 21 ارب 35 کروڑ ڈالر سے متجاوز ہوگیا ہے جبکہ2005میں یہ حجم 4.15 ارب ڈالراور 2010ء میں 11.53ارب ڈالر تھا،صنعتی شعبہ زیادہ تر زرعی پیداوار کا مرہون منت ہوتا ہے جو مسلسل فی ایکڑ پیداوار میں کمی سے دوچار ہے،حالانکہ عہدحاضر میں بہت سے ممالک نے زرعی انقلاب کی بدولت فی ایکڑ پیداوارمیں حیرت انگیز طور پر اضافہ کیا۔وطن عزیز میں یہ کام محض غوروفکر تک چل رہا ہے،اب آگے بڑھنے کیلئے عملی اقدامات میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ان خیالات کا اظہار تجارتی خسارے میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ملکی صنعتیں چلانے کیلئے خام مال کا دارومدار درآمدات پر بڑھا ہے،تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اشیائے تعیش کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے درآمدی مالیاتی بجٹ کو کم سے کم کیا جائے تاکہ اس کی وجہ سے جو ملکی معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے اس میں کمی واقع ہو۔سید راشد حسین بخاری نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل میں اضافے کی بنیادی وجہ عملی اقدامات کی بجائے زبانی کلامی دعوے اور باتیں ہیں اگر انہیں ایک طرف رکھتے ہوئے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے نہ بڑھا گیا تو آنے والے دنوں میں معاشی حالات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید خراب ہو جائیں گے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
04-05-2025



