نوابشاہ (بیورورپورٹ)وفاقی محتسب کے احکامات پر عمل نہ کرنا پاکستان ریلویز نے معمول بنالیا

نوابشاہ (بیورورپورٹ)وفاقی محتسب کے احکامات پر عمل نہ کرنا پاکستان ریلویز نے معمول بنالیا،
تمام تر کاروائی مکمل ہونے کے باوجود پبلک پارک کے قیام کے لئے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو این او سی جاری نہیں کی گئی،سماجی رہنماؤں کی جانب سے وفاقی محتسب کو احکامات پر عملدرآمد کرانے کے لئے درخواستیں ارسال،تفصیلات کے مطابق وفاقی محتسب کے احکامات پر مسلسل عمل نہ کرنا پاکستان ریلویز سکھر نے معمول بنالیا ہے،اور ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو پبلک پارک کے قیام کے لئے این او سی جاری کرنے کے لئے تاخیر کی جارہی ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ سکھر اور اسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر ریلویز نوابشاہ کی جانب سے روز نئے بہانے کئے جارہے ہیں،پاکستان ریلویز سکھر کا کوئی بھی نمائندہ وفاقی محتسب ریجنل آفس حیدرآبادمیں ہیرنگ میں شرکت کرنا بھی گوارہ نہیں کرتا ہے،وفاقی محتسب کی جانب سے پاکستان ریلویز سکھر کے خلاف تین کیسوں میں دیئے گئے فیصلوں پر پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے22ماہ گزرجانے کے باوجودعمل نہیں کیا گیا ہے،اور پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے ریلوے اراضی پر عوامی مفاد اور ماحول کی بہتری کے لئے پبلک پارک کے قیام / دیکھ بھال کے لیے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کوتمام کاغذی کاروائی مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک این او سی نہیں دی گئی ہے،و،اس سلسلے میں سماجی رہنماؤں انور عادل خانزادہ،ریاض احمد کمبوہ اور محمد یونس خانزادہ نے بتایا کہ وفاقی محتسب کے احکامات پر عمل نہ ہونا وفاقی محتسب کے ادارے کی بھی توہین ہے جسکا پاکستان ریلوے مرتکب ہوا ہے،متعدد بار ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ سکھر اور اسٹنٹ ایگزیکٹر انجینئر ریلویز نوابشاہ نے این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر این اوسی جاری کرنے کے لئے تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں،سماجی رہنماؤں نے بتایا کہ 10/01/2025کو ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی جانب سے پبلک پارک کے قیام / دیکھ بھال،لیز چارجز کی ادائیگی کے لیے (Formal Request) ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ(DS) پاکستان ریلویز سکھر کو ارسال کی گئی،مگر چار ماہ گزرجانے کے باوجود اس پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی، ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے05/07/2023کوتعلقہ مونسپل آفیسر دوڑ کولیٹر نمبر473-W/Park/Daur ارسال کرکے ماحول کی بہتری اور عوامی بھلائی کے لئے پبلک پارک کے قیام اور دیکھ بھال کے لئے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو05/sft روپے کے ریٹ پراین او سی دینے پررضامندی ظاہر کی گئی اور06/01/2025 کوAENریلویز نوابشاہ نے ٹاؤن کمیٹی آفیسر اور رینیو عملے کے ہمراہ تقریباً 06-ایکڑ کے مجوزہ پارک کی جگہ کا مشترکہ طور پردورہ کیا،اور ٹاؤن کمیٹی کی جانب سے پبلک پارک کے قیام اور اسکی دیکھ بھال کے لئے لیز چارجز ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی،07/01/2025کو اسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر پاکستان ریلویز نوابشاہ مقصود احمد لاڑک کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ سکھر کو ایک لیٹر ارسال کیا گیا جس میں سول ایڈمنسٹریشن کی جانب سے باضابطہ درخواست (Formal Request)موصول نہ ہونے کا بتایا گیا،اور کہا گیا کہ باضابطہ درخواست (Formal Request)موصول ہوتے ہی این او سی کے اجراء کی کاروائی شروع کی جائے گی،مگر چار ماہ گزرجانے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے،سماجی رہنماؤں نے بتایا کہ پاکستان ریلویز نوابشاہ کے انسپیکٹر آف ورکس امتیاز رسول نے اپنی رپورٹ اور دوران ہیرنگ ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی،مگر دو سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا گیا ہے ،پبلک پارک کے قیام سے نہ صرف ماحول کی بہتری ہوگی بلکہ ریلوے اسٹیشن اور علاقہ کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا اور برسات میں ریلوے ٹریک کو نقصان بھی نہیں ہوگا،پبلک پارک کے مقام پر گندگی کچرے اور گندا پانی کئی ماہ سے جمع ہے اور برسات میں یہ علاقہ مکمل طور پر ڈوب جاتا ہے اور کئی ماہ تک پانی کھڑا رہتا ہے ریلوے ٹریک نزدیک ہونے کے سبب ریلوے ٹریک بھی ڈوب جاتا ہے،جسکی وجہ سے ریلوے ٹریک کو نقصان ہوتا ہے اس علاقے میں ریلوے اراضی پر بھی قبضے کئے جارہے ہیں پبلک پارک کے قیام سے نہ صرف ریلوے اراضی قبضے سے محفوظ رہے گی اور ریلوے ٹریک بھی محفوظ رہے گا،سماجی رہنماؤں نے وفاقی محتسب اور پاکستان ریلویز کے حکام سے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے



