ٹیکس میں مزید اضافہ کرکے تنخواہ دار طبقے کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

ٹیکس میں مزید اضافہ کرکے تنخواہ دار طبقے کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
تنخواہ دار طبقہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 111ار ب روپے ادا کرچکا ہے:چیئرمین
حکومت ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا چاہتی ہے تو تاجروں سمیت دیگر طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لائے:گفتگو
حکمران طبقہ کو اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بجائے تمام تر بوجھ عام افراد پر ڈالنے کی روایات بدلنی ہوں گی
ٹیکسوں کی بھرمار سے صنعتی شعبہ نا صرف مسائل سے دو چار ہے بلکہ اب تو نوبت بندش کی نہج تک جاپہنچی ہے
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ حکومت ٹیکس میں مزید اضافے کرکے تنخواہ دار طبقے کو قربانی کا بکرا نہ بنائے،وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ کہہ کر حیران کردیا ہے کہ رواں مالی سال محصولات میں اضافہ نہ ہو ا تو تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں پر ٹیکسوں کا کا بوجھ مزید بڑھانا پڑے گا،ایک رپورٹ کے مطابوق حکومت رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران تنخواہ دار طبقہ سے 111ارب روپے کا انکم ٹیکس وصول کرچکی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں تاجروں کی جانب سے 6ار ب 70کروڑ روپے انکم ٹیکس کی مد میں خزانے میں جمع ہوئے ہیں یہ صرف رواں مالی سال کی کہانی نہیں بلکہ ملک کا ریٹیلر طبقہ سالہا سال سے ٹیکس نیٹ سے باہر ہے اگر حکومت ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا چاہتی ہے تو تاجروں سمیت دیگر تمام طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لائے اور ایف بی آر کی بھی اصلاحات کرے تاکہ ان کے گٹھ جوڑ سے جو ٹیکس چور ی ہورہی ہے اس کا خاتمہ بھی ممکن ہو۔ان خیالات کا اظہار مالی محصولات میں کمی پر تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں پر مزید ٹیکس بڑھانے کے وزیر خزانہ کے بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکس کے بغیر کوئی بھی ملک نہیں چل سکتا مگر بدقسمتی سے پاکستان کی اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بجائے تمام تر بوجھ عام افراد پر بڑھانے کی روایات ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ ان کا معیار زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھنے کی بجائے مزید کم ہوتا جارہا ہے مگر اس طرف کسی کی کوئی توجہ نہیں ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ مہنگی بجلی اور ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے ملک میں موجود صنعتی شعبہ نا صرف مسائل سے دو چار ہے بلکہ اب تو نوبت بندش کی نہج تک جاپہنچی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں ورکرز کو بے روزگاری کا سامنا ہے وہاں ملکی سرمایہ دار بھی بیرون ممالک میں سرمایہ کاری کرنے پر مجبور ہورہا ہے تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعتی شعبہ کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے تاکہ ملکی معیشت حقیقی معنوں میں مستحکم ہوسکے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
07-11-2024



