کالم/مضامین

لعنوان: بجٹ 2022-2023۔۔ سرکاری ملازمین اور پینشنرز

ٹائٹل:بیدار ھونے تک

لعنوان: بجٹ 2022-2023۔۔ سرکاری ملازمین اور پینشنرز۔۔۔۔!!

کالمکار:جاوید صدیقی

پاکستان کے نظام کو چلانے کیلئے ہر سال جون کے مہینے میں بجٹ پیش کیا جاتا ھے اور مئی میں بجٹ کی تیاری مکمل کرلی جاتی ھے عرصہ ستر سالوں سے دکھا یہ گیا ھے کہ تیار ھونے والے بجٹ میں ہر سال بڑے پیمانے پر مہنگائی کرکے حاضر سروس سرکاری ملازمین و پینشنرز میں معمولی اضافہ کرکے جان چھڑائی جاتی رہی ہے۔ اس سے نیتجہ یہ برآمد ھوتا دکھائی دیا کہ سرکاری اداروں میں رشوت ستانی کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا خاص طور پر چند محکمے اس بیماری میں مکمل ڈوب گئے لیکن بیشتر محکمہ اس بدبودار بدکردار اور مکروہ عمل سے دور رہے۔ ملوث ھونے والے محکموں میں ریوینو, پبلک ڈیلنگ اور پولیس کے ہیں اور خاص طور پر وفاق و صوبائی سیکریٹریٹ جبکہ دیگر تمام محکمے اس رشوت ستانی کے گناہ سے محفوظ رہے لیکن ان تمام محفوظ رہنے والے محکموں کے سرکاری حاضر سروس ملازمین و پیشنرز اپنی کم تنخواہ اور کم مراعات کے باعث سابقہ اور خاص کر موجودہ مہنگائی کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہوچکے ہیں ان میں سب سے زیادہ سرکاری پینشنرز ھیں۔ یہاں یہ بھی واضع کرتا چلوں کہ اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد انتہائی بااختیارات ھونے کے بعد صوبے نہ صرف ہائی کورٹ کو خاطر میں لاتے ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کو بھی ہوا میں اڑا دیتے ہیں ان صوبوں میں سب سے زیادہ صوبہ سندھ ھے جس نے زیادتی و ظلم کے پہاڑ ڈھائے ھوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں حکومت سندھ سے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کے نمائندگان نے گروپ انشورنس کی حصولی کیلئے بات چیت اور تحریری گزارشات پیش کیں جو حکومت سندھ نے ٹھکرادی یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ھے کہ اس بابت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے پہلے ہی حکم صادر کیا ھوا ھے کہ گروپ انشورنس کی رقم ریٹائرمنٹ کیساتھ ادا کردی جائے اور جو ریٹائرڈ ھوچکے ہیں ان کیلئے ادائیگی کا عمل فی الفور شروع کردیاجائے۔۔۔ معزز قارئین!! کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی سے صوبہ سندھ کے سرکاری ملازمین اور پینشنرز ایسوسی ایشنز کے عہدیداران نے ملاقات کے دوران حکومتی بے حسی اور بڑھتے ہوئے مہنگائی کے طوفان کے اثرات پر اپنے خیالات پیش کیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب وفاقی حکومت جوکہ اجتماعی سیاسی پارٹیوں پر مشتمل ھے آئی ایم ایف کے حکم کے مطابق بجلی گیس پانی اور پیٹرول میں مسلسل اگلے بجٹ تک اضافہ کرنے جارھی ھے جس کی ابتداء ستائیس مئی سنہ دو ہزار بائس بروز جمعرات کو وفاقی وزیر خذانہ مفتہ اسماعیل صاحب نے اچانک رات کو پریس کانفرنس کرتے ھوئے پیثرول ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتیوں میں اضافے کردیا اور بجلی کے نرخ میں یکم جولائی سے اضافے کا عندیہ بھی دیدیا ھے۔ ان حالات میں سب سے زیادہ سرکاری تنخواہ دار طبقہ اور خاص طور پر پینشنرز انتہائی پس کر رہ گیا ھے کیونکہ مزدوروں نے اپنی اجرت از خود بڑھالی ھیں۔ سبزی دودھ انڈے پھل اور اجناس فروشوں نے اپنے نرخ خود طے کر لیئے ہیں جبکہ گوشت اور مرغی فروشوں نے تو مہنگائی کے نرخوں کو پیچھے ہی چھوڑ دیا۔ اس وقت ایک سفید پوش سرکاری ملازم اور خاص طور پر پینشنرز انتہائی کسما پرسی کی حالت کو پہنچ چکا ھے اگر وفاق سمیت صوبائی حکومتوں نے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کے پینشن میں سو فیصد اضافہ نہ کیا تو خدشہ ھے کہ بھوک و افلاس اور بڑھتے ہوئے مسائل و مشکلات کے باعث خودکشی میں اضافہ ہوسکتا ھے اور معاشرے میں مزید جرائم کی پیداوار میں بھی اضافہ ھوسکتا ھے۔ یوں تو ریاستِ پاکستان میں لاقانونیت نے سر اٹھا رکھا ھے لیکن یہی حالات رھے تو لاقانونیت انتہا کو پہنچ سکتی ھے۔ حکومتِ وقت کو چاہئے کہ وہ بجٹ میں فی الفور واضع طور پر سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینشنرز کے پینشن میں اضافہ کرکے جینے کی اک راہ دیدیں۔ قائداعظم زندہ باد, پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You