غزہ میں عارضی جنگ بندی ۔۔۔!!

*لٹائٹل : بیدار ھونے تک
غزہ میں عارضی جنگ بندی ۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
حماس نے عارضی چار دن کی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کردی ہے، حماس کے مطابق اس معاہدے میں درج زیل نکات طے پائے ہیں: دونوں اطراف سے جنگ بندی، غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں قابض فوج کی طرف سے تمام فوجی کاروائیوں کا خاتمہ اور غزہ کی پٹی میں گھسنے والی اس کی فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت کو روکنا۔ انسانی بنیادوں پر امداد، طبی اور ایندھن کیلئے سینکڑوں ٹرکوں کا غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب میں بغیر کسی استثنٰی کے تمام علاقوں میں لایا جانا شامل ہے، 19 سال سے کم عمر 150 خواتین اور بچوں کی اسرائیل کی جیلوں سے رہائی کے بدلے میں، اسرائیلی قیدیوں کی 50 خواتین اور بچوں کی رہائی شامل ھے۔ چار دن کیلئے جنوب میں ہوائی نقل و حرکت کو روکنا ھے۔ صبح 10:00 بجے سے شام 4:00 بجے تک دن میں 6 گھنٹے کیلئے شمال میں ہوائی نقل و حرکت کو روکنا ھے۔ جنگ بندی
کی مدت کے دوران، قابض اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں کسی پر حملہ یا گرفتاری نہیں کرے گی۔ صلاح الدین اسٹریٹ کے ساتھ لوگوں کی نقل و حرکت یعنی شمال سے جنوب تک کی آزادی کو یقینی بنانا شامل ھے۔ اس معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی حماس نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انگلیاں ہمیشہ ٹرگر پر رہیں گی اور ہمارے مجاہدین ہماری عوام کے دفاع کیلئے ہمیشہ تیار رہیں گے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ہمارے لیے مشکل ہے لیکن یہ درست فیصلہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک مکمل کامیابی حاصل نہ کرلیں۔ معاہدہ کے دوران اسرائیلی چینل 12 کے مطابق آج رات حکومت درج زیل چیزوں کی منظوری دے گی: 5 دن کی جنگ بندی طے کی جائیگی جس میں 4 بیچوں میں حماس کے زیر حراست 53 قیدیوں کی رہائی اور اسرائیل 140 فلسطینی قیدیوں، مرد اور خواتین قیدیوں کو رہا کرے گا۔ ایندھن اور ادویات سے لدے 300 ٹرکوں کے داخلے کی منظوری شامل ھیں۔ اسرائیلی مبصرین اسے اسرائیل کی شکست گردان رہے ہیں اور ان کے مطابق حماس نے اسرائیل کو گھٹنوں پر جھکنے پر مجبور کردیا ہے۔




