کالم/مضامین

عنوان: ھم اپنے اعمال کو بھگت رھے ھیں

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: ھم اپنے اعمال کو بھگت رھے ھیں

کالمکار: جاوید صدیقی

ارض و سماں کے مالک رب العزت نے اپنے محبوب آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بلند مقام و درجہ عطا کیا اور آپکے صدقے آپکی امت کو دیگر انبیاء کرام کی امت سے سب سے زیادہ انعامات و درجات عطا کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ایسے جانثاران غلامان عاشقان گزرے اور ہیں اور ہوں گے بھی جن کی اطاعت خدمات رویئے کی بناء پر فرشتے رشک رشک کرتے ہیں اور ان سے ملنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں موجودہ زمانے میں ایسے اللہ کے بندوں کی تعداد قلیل ھے اور وہ خود کو ظاھر ھونے نہیں دیتے یاد رھے کہ اللہ نے زمانے کی قسم کھائی ھے زمانہ کوئی برا نہیں ھوتا انسان کا اعمال برا ھوتا ھے۔۔۔ معزز قارئین!! امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثریت کے اعمال زندگی کے طریقہ کار کو دیکھتے ہیں تو وہ دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصولوں قانون و ضوابط اوراحکامات کی عدولی میں نظر آتے ہیں گویا مذہب سے اوپر مادیت پرستی اور خواہشات زیادہ ہیں اگر میں اپنے ملک پاکستان کی جانب اسی پہلو سے دیکھتا ھوں تو ھماری قوم اپنے اباؤاجداد کی دینی و مذہبی تعلیمات سےکوسوں دور نظر آتی ھے چھوٹے بڑے قصبوں میں بھی تقسیم در تقسیم ھوچکی ھے تو شہر میں رہنے والوں کا کیا حال ھوگا۔ توکل اللہ دلوں سے ختم ھوتا دکھائی دے رھا ھے اسی سبب بیشمار پاکستانی خود غرضی لالچی
مفاد پرستی جیسے زہریلے مرض میں مبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ کامیاب و کامران ھیں لیکن درحقیقت وہ بہت بڑے دھوکے اور نقصان میں ہیں جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ان کے گوداموں میں آگ کون لگاتا ھے کبھی سوچا وہ رب جس نے ایک قانون وضع کر رکھا ھے وہ گرفت میں لیتا ھے۔ اسی قدر ھم اپنے اپنے اعمال کی جانب دیکھیں تو آسمانی آفتیں زمینی زلزلے ھمیں اب بھی خبردار کررہی ہیں کہ ھم من حیث القوم سدھر جائیں سنبھل جائیں لیکن شائد ھم دجالی فتنہ اور شیطانی چیلوں کے نرغے اور احاطے کے عادی ھوچکے ہیں چمک دمک نے ھمیں اوندھا کردیا ھے اور منافقت کی انتہا کو اپنا کر خوش نصیب سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ سیلاب یہ آفات یہ زلزلے ھمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ اس معاشرے اور ملکی نظام کے بگاڑ میں سب سے زیادہ کردار سیاستدانوں اور میڈیا مالکان کا ھے جنھوں نے جھوٹ کو اپناتے ھوئے اپنے مفادات کو ترجیح دی۔ میڈیا مالکان نے حکمرانوں کیساتھ مل کر بیروزگاری اور تنخواہ و مراعات کا عدم توازن قائم رکھا ھوا ھے خود کو سالانہ آڈٹ سے بچانے کیلئے سیاسی پناہ گاہوں میں چھپ جاتے ہیں۔ جب تک ملک پاکستان میں عدل و انصاف کا نظام قائم نہیں ھوگا ہر شخص بگڑا ھوا نظر آئیگا ھماری بقاء ھماری سلامتی ھمارا سکون ھمارا امن ھمارا معاشرہ ھماری اخلاقیات ھماری معیشت ھماری صنعت ھمارا کاروبار اور ھمارا ذہنی سکون و راحت ھمارے اچھے سچے نیک اعمال سے مشروط ھے جس کی سب سے بڑی بنیاد سچ و حق پر ھے ھمیں سچ و حق پر رہنا ھوگا اور عدل و انصاف کو لازم و ملزوم قائم رکھنا ھوگا اور یہ تب ہی ممکن ھوگا کہ ھم بحیثیت امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شریعت پر سختی سے عمل پیرا ھوجائیں۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You