کالم/مضامین

عنوان: کے یو جے دستور میں اسکروٹنی منصفانہ اور شفاف کا مطالبہ

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: کے یو جے دستور میں اسکروٹنی منصفانہ اور شفاف کا مطالبہ

کے یو جے دستور میں اسکروٹنی میں منصفانہ عدل و انصاف وشفاف بنانے کیلئے ڈاکٹر عبدالجبار خان چیئرمین دستور گروپ کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور, ناصر محمود ڈپٹی چیئرمین دستورگروپ سابق سیکرٹری کراچی یونین آف جرنلسٹس دستوراور محمد عارف خان ڈپٹی چیئرمین دستور گروپ سابق صدر و سیکرٹری کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے اپنے اپنےخدشات اور شفافیت کو قائم رکھنے کے مطالبات رکھتے ھوئےکہا ھیکہ دستور گروپ آف کراچی یونین جرنلسٹس دستور نے نو منتخب باڈی کی جانب سے ممبرز کی اسکروٹنی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے زور دیا ہیکہ اسکروٹنی کے عمل کو شفاف، منصفانہ اور دستور کیمطابق کرنے کو یقینی بنایا جائے کیونکہ ماضی کیطرح اس مرتبہ بھی اسکروٹنی کے نام پر مخالفین بالخصوص دستور پینل کے امیدواروں ووٹرزاور سپورٹرز کے علاوہ دستور گروپ کے ذمہ داران اور ممبرز سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ چئیرمن دستور گروپ اور فاؤنڈرممبر پی ایف یو جے دستور ڈاکٹر عبدالجبار خان اور سینٹرل ایگزیکٹو کونسل نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کے یو جے دستور کی ممبرز کی اسکروٹنی کے حوالے سے ماضی میں بڑی گھناؤنی مثالیں ملتی ہیں سنہ دوہزار تین چار میں ہونے والی ممبر شپ کو سنہ دو ہزارچھ میں اسکروٹنی کی آڑ میں بیک جنبشِ قلم ختم کردیا گیا تھا۔ کے یو جے دستور کے آفس میں جب اسکروٹنی کی آڑ میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بننے والے ممبرز نے احتجاج کیاتو سنہ دو ہزار چھ کی باڈی نے اسے کے یو جے دستور کے آفس پر حملہ قرار دے کر احتجاج کرنے والوں کو خاموش کروا دیا گیا۔ کے یو جے دستور کی سنہ دو ہزار چھ کی باڈی نے اسکروٹنی کے فوراً بعد اپنے ہم خیال لوگوں کو ممبربنایا۔ دستور گروپ کے مطابق کے یو جے دستور کی سنہ دو ہزار پندرہ سولہ کی باڈی نے بھی من پسند اور ہم خیال لوگوں کو کونسل ممبر بنایا تھا۔ دستور گروپ کیمطابق مزکورہ دونوں بار کے یو جے دستورکےممبرزکی اسکروٹنی کرتے ہوئے اور ممبر شپ دیتے ہوئےدستوری تقاضوں کو نظر انداز کرکے مخالف صحافیوں کی بڑی تعداد میں اسکروٹنی کی گئی اور ہم خیال غیر صحافیوں کی بڑی تعداد کو کونسل ممبر بنایا گیا۔ دستور گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ کے یو جے دستور کی نو منتخب باڈی پہلے غیر متنازعہ اسکروٹنی کمیٹی کا اعلان کرے۔ اس کے بعد دستور کیمطابق اسکروٹنی کو یقینی بنائے۔معزز قارئین!کراچی پاکستان کا واحد شہر ھے جہاں پر صحافی تنظیموں کی ایک آواز پر پورے ملک کی صحافتی تنظیمیں یکجا ھو کر کھڑی ھوجاتی ہیں اسی لیئے کراچی کو مرکزی حیثیت سے صحافی تنظیمی احکامات نہایت ذمہداری عدل و انصاف اور شفافیت کیساتھ استوار کرنے ھوتے ہیں ذرا سی کمی بیشی لچک یا شفافیت میں کمی پورے پاکستان کی صحافی برادری پر براہ راست اٹرانداز ھوتی ھے اس بابت کے یو جے برنا ہو یا دستور ان دونوں کو ہی اپنی اپنی ذمہداریوں کو سمجھنا بہت ضروری ھے امید ھے کہ حالیہ ادوار اور مستقبل میں بھی عدل و انصاف مساوات اور شفافیت پر ہی عمل پیرا رہیں گے بصورت دیگر ناانصافی صحافی برادری کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی اور ذلت ہمارا مقدر نہ بن جائے گا۔بیشک سچ و حق عدل و انصاف اور شفافیت میں ہی نصرت اور کامیابی پنہا ھے۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You