عنوان: پیر محل: ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں سی آئی اے اور آئی بی کا آپریشن

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: پیر محل: ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں سی آئی اے اور آئی بی کا آپریشن ۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
یوں تو ملکِ پاکستان میں مکروہ دھندے جابجا ھوتے دکھائی دیتے ہیں۔ پنجاب کے چھوٹے بڑے شہر مکروہ دھندوں کی عالمی منڈی بن کر رہ گئے ہیں ۔۔۔ معزز قارئین!! فہد حجاب نام کا ایک عربی شخص سعودی ائرلائن کی ایک پرواز سے لاہور ائرپورٹ پر لینڈ کرتا ہے۔ فہد وہیل چئیر پر اُترتا ہے تو اُسے چند پاکستانی ائرپورٹ پر خوش آمدید کہتے ہیں اور باہر ایک ایمبولینس کھڑی ہوتی ہے جس میں اُسے لٹا کر ایک نامعلوم منزل کی طرف لے جانا شروع کردیا جاتا ہے۔ ایمبولینس لاہور کے ایک بڑے ہوٹل کی پارکنگ میں رُکتی ہے جہاں فہد کا کمرہ بُک ہوتا ہے۔ پاکستانی باشندوں میں ایک عربی بولنے والا مترجم بھی ہوتا ہے جو فہد کے ساتھ ہی ہوٹل کے ایک الگ کمرے میں رہائش اختیار کرلیتا ہے۔پاکستان کی خفیہ ایجنسیز جب فہد حجاب کو ائرپورٹ سے وہیل چئیر پر باہر آتے دیکھتی ہیں تو اُنہیں کچھ شک گزرتا ہے کہ یہ فہد نہ تو پاکستان بزنس کے سلسلے میں آیا ہے اور نہ ہی یہ سیاح ہوسکتا ہے کیونکہ اس کی تو اپنی حالت اتنی ٹھیک نہیں ہے اور یہ وہیل چئیر پر بیٹھ کر باہر آرہا ہے۔ ایف آئی اے، آئی بی کے افسران فہد حجاب کا پیچھا کرتے ہیں تو ائرپورٹ پر کھڑی ایمبولینس اُن کے شک کو اور تقویت دیتی ہے۔ ایف آئی اے اس قسعودی شہری پر داپنی نگرانی سخت کردیتی ہے۔ موبائل فون کے ڈیٹا سے پتہ چلا کہ یہ صاحب پاکستان میں گُردہ تبدیل کروانے آئے ہیں اور ایک بین الاقوامی گروہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر گرُدوں کی فروخت کا غیر قانونی کاروبار کررہا ہے۔۔ معزز قارئین!! پیرمحل کے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں ڈاکٹر سفید گاؤن پہنے مسیحا کے روپ میں موجود ہیں۔سینکڑوں کی تعداد میں اس اسپتال میں مریض آتے ہیں۔ صحت کا شعبہ پنجاب میں بہت ہی پیچھے ہے جس کی وجہ سے پیر محل، سندھیلیا نوالی اور قرب و جوار کے غریب لوگوں کیلئے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس کسی نعمت سے کم نہیں۔ سعودی شہری فہد حجاب کی لاہور سے اگلی منزل ملک کا کوئی بڑا اسپتال نہیں بلکہ پیرمحل میں ابراہیم اسپتال کیساتھ موجود ایک خالی کوٹھی جس کے متعدد کمروں کو آپریشن تھیٹربنائے گئے ہیں۔ ابراہیم اسپتال میں ایک نیفرالوجسٹ یعنی ماہر امراض گردہ ڈاکٹر محمد شاہد کی سربراہی میں ابراہیم اسپتال کے دیگر معاون عملہ کی مدد سے غیر ملکیوں کو غیر قانونی طور پر گردے ٹرانسپلانٹ کرتے تھے۔ یہ گھناؤنا کاروبار ایک بڑے عرصے سے چل رہا تھا جسے چوہدری محمد سرور سابقہ گورنر پنجاب کے یہ دو سگے بھانجے کشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ چلا رہے تھے۔اس فعل کا سب سے گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ جو عورتیں زچگی کیلئے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں آتی تھیں تو گائنا کالوجسٹ یعنی ماہرامراض زچگی لیڈی ڈاکٹر سب سے پہلے مریضہ کے خون کا گروپ ٹیسٹ کرواتی اور دیگر گردوں کے ٹیسٹ کرواتیں پھر یہ رپورٹ کشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ کو بھیج دی جاتی۔ یہ انٹرنیٹ پر گردوں کے منتظر مریضوں سے ڈیٹا کو ملاتے پھر زچگی کیلئے آنے والی خاتون کے علم میں لائے بغیر اُس کے ایک گردے کا سودا ایک کروڑ روپے میں طےکرتے غیر ملکی جسے گردے کی ضرورت ہوتی اُسے عورت کی زچگی سے ایک دو دن پہلے بُلوا لیتے پھر عین زچگی کے دن ڈاکٹر عورت کا آپریشن کرتے اور نئے پیدا ہونے والے بچے کی ماں کا گردہ بھی نکال لیتے۔ زچگی کا آپریشن کروانے آنے والی خاتون کو علاج میں سہولت دیتے اور بہت ہی کم پیسے لیتے۔ وہ غریب عورت ان ضمیر فرشوں کو جھولیاں پھیلا پھیلا کر دُعائیں دیتی رُخصت ہوجاتی اور سمجھتی کہ ابھی دُنیا میں کشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ کی صورت میں فرشتے موجود ہیں جو غریبوں کے دُکھ درد کو سمجھتے ہیں۔ وہ سوچتی کہ اگر یہی میرا بڑا آپریشن کسی اور جگہ ہوتا تو میرے کم از کم پچاس ہزار روپے خرچ ہوجانے تھے جبکہ اِن نیک دل لوگوں نے میرے پانچ ہزار بھی نہیں لگنے دیئے۔ وہ غریب عورت اپنے گُردے کے نکالے جانے سے لا علم رہتی ہے اور ہر ملنے والے کو ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس کی تعریفیں کرتی۔ یہ بے ضمیر لوگ ڈاکٹر سے مل کر ایک کروڑ روپیہ اپنی جیبوں میں بھر لیتے اور پارسائی کا لبادہ اوڑھے معاشرے سے عزت سمیٹنے میں مشغول رہتے۔ یہ تو وہ سلوک تھا جو زچگی کیلئےآنے والی خواتین کیساتھ ہوتا تھا۔ اسکے ساتھ ساتھ ظلم یہ کیا جاتا کہ مختلف دلالوں سے رابطہ کیا جاتا اُنہیں ڈیمانڈ بتائی جاتی کہ اس خون کے گروپ کا گردہ چاہیے۔ وہ دلال جرائم پیشہ لوگ ہوتے تھے جو کبھی بندوق کے زور پر کسی غریب کو اغواء کرکے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں لے آتے جہاں پر ڈاکٹر اُس کا گردہ نکال لیتے یا کبھی غربت کے ہاتھوں مجبور اُن لوگوں کی مجبوریوں کا سودا کرتے اور اُنہیں پچاس سے نوے ہزار روپے تک ہاتھ میں تھما دیتے اور اُس کا گردہ نکال کر کم از کم ایک کروڑ روپے میں فروخت کردیتے۔ یہ واقعہ تیرہ اکتوبر کا ہے جب ایف آئی اے کے مخبر نے اطلاع دی کہ آپریشن شروع ہوچکا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو ساتھ لیا پولیس اور انتظامیہ کے افسران کو ساتھ لیا اور ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس کے ساتھ ملحقہ کوٹھی پرچھاپہ مارا تو وہاں پر ڈاکٹر شاہد اپنی آپریشن تھیٹر کی ٹیم کے ساتھ موجود تھا اور عورت کا گردہ نکال کر سعودی شہری فہد حجاب کے ٹرانسپلانٹ کررہا تھا۔ ایف آئی اے کی ٹیم کو دیکھ کر ڈاکٹر گھبرا گیا اور آپریشن ادھورا چھوڑنے لگا لیکن ایف آئی اے اور محمکہ صحت کی ٹیم نے کہا کہ اس پروسیجر کو اب مکمل کرو۔ لیکن ڈاکٹر شاہد کے ہاتھ کانپنے لگے اور وہ بار بار کہتا رہا کہ اب مجھ سے نہیں ہورہا۔ یہ کیسا مسیحا کے روپ میں شیطان تھا کہ جب غریبوں کے گردے نکال رہا تھا وہ لوگ جن کے پاس بیچنے کو اُن کے جسم کے اعضاء کے علاوہ کچھ نہ تھا جب اُن کے گُردے نکالتا تھا تب اس کے ہاتھ نہیں کانپے لیکن جونہی ایف آئی اے کے افسران کو دیکھا تو ہاتھ کانپنے لگ گئے۔ جب غریب پھٹے پُرانے کپڑوں میں ملبوس بے ہوش لوگ اس ڈاکٹر کے سامنے اسٹریچر پر لٹائے جاتے تب اُن کی شکلیں دیکھ کر اس ظالم کو ترس نہ آیا، نہ اس نے ایک دفعہ کہا کہ "یہ ظلم مجھ سے نہیں ہوتا” بلکہ چکمتے دمکتے نوٹوں کی گڈیاں دیکھ کر یہ گھناؤنا فعل خوشی خوشی سر انجام دیتا۔ ایف آئی اے کے افسران آپریشن تھیٹر سے باہر چلے گئے اور محکمہ صحت کے ڈاکٹر افسران کو آپریشن تھیٹر میں چھوڑ گئے کہ اس کا آپریشن اب مکمل کریں اور انسانی جان کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ خیر جیسے تیسے ڈاکٹر شاہد نے آپریشن مکمل کیا تو محکمہ صحت کی ٹیم نے فوری طور پر سعودی شہری اور گردہ فروخت کرنی والی عورت کو الائیڈ اسپتال فیصل آباد شفٹ کیا تاکہ ان کا بہتر علاج ہوسکے۔ جب وہیں پر ڈاکٹر سے ایف آئی اے کی ٹیم نے سوال وجواب کئے تو ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ میں تو صرف آپریشن کی فیس لیتا ہوں اصل گُردوں کی خرید و فروخت کا مکروہ دھندا تو نجف ریاض اللہ اور کشف ریاض اللہ کرتے ہیں۔ یہ دونوں ملزمان فرار ہوگئے لیکن ایک دن بعد ہی کشف ریاض اللہ کو ایف آئی اے نے اُس کے موبائل کی لوکیشن سے گرفتار کرلیا آخر کار گورنر پنجاب چوھدری سرور کے بھانجے ھونے کے سبب میرے معزز قارئین آپ اچھی طرح جانتے ہیں رعایت
!! افسوس بڑے دعوے وعدے کرنے والے ہی بڑے جھوٹے قانون شکن اور منافق ھوتے ہیں۔ ھمارا ملک عدل و انصاف سے محروم ھے یہاں جنگل سے بھی بدتر قانون ھے ۔۔۔۔۔!!


