*عنوان: مکة المعظمہ اور مدینة المنورہ کے بعد ۔۔۔۔!!*
*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: مکة المعظمہ اور مدینة المنورہ کے بعد ۔۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
ہم امت مسلمہ بلخصوص پاکستانی کس قدر ایمان یافتہ مسلمان ہیں ذرا خود پر جھانک کر دیکھ لیں۔ اسرائیل و امریکہ کے زائینسٹ یہودی، زائینسٹ عیسائی اور زائینسٹ بت پرستوں نے مسلم دنیا میں یلغار مچا رکھی ھے خاص طور پر ان ممالک کو خاص نشانہ بنائے رکھا جہاں ہمارے دین کے تاریخی و جغرافیائی اور دینی اہمیت کے حامل ہمیشہ سے رھے ہیں، ابھی تک ان ملعونوں و خبیثوں نے مکة المعظمہ اور مدینة المنورہ میں پیش قدمی نہیں کی لیکن وہ دن بھی دور نہیں جب یہ خباثت کے مارے دجالی و ابلیسی کارندے کائنات کی مقدس ترین مقام پر بھی آ لپکیں گے مگر ان دو مقدس ترین مقامات کی رب العزت نے خود حفاظت کا ذمہ لے رکھا ھے وگرنہ یہ آل سعود خاص طور پر محمد بن سلمان اپنی یہودی ماں کی خواہشات اور یہودیوں کی اطاعت گزاری میں کیا سے کیا کر گزرتا۔ دوسری جانب وہ دنیائے اسلام کا قلعہ واحد ایٹمی طاقت پاکستان غلامی اور ذلالت کی بدترین سطح پر پہنچ چکا ھے جہاں کی ریاست اور حکمران سوائے ذاتی خواہشات نفس میں اس قدر اوندھی ہوچکے ہیں کہ انہیں قطعی طور پر فلسطین ، اردن اور شام میں ہونے والے مسلمانوں پر ظلم و بربریت اور چیگیزی عمل دکھائی نہیں دیتا اپنے اس اندھے پن کے سبب عالم اسلام پر غیر مسلموں کے ظلم پر خاموش تماشائی بیٹھے ہیں بلکہ دین محمدی ﷺ کے بدترین دشمنوں سے عہد و وفا اور غلامی کا دم بھرتے تھکتے نہیں۔ ان میں ہر ایک پاکستانی سیاہ ستدان، لیڈران، رہنما شامل ھے اگر بڑی جماعتوں کا ذکر کریں تو نون لیگ، پی پی پی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی و جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان، تحریک لبیک، سنی تحریک، انجمن سرفرشان اسلام سمیت ہر سیاسی و مذہبی جماعت خودنمائی، ریاکاری، منافقت میں ایک دوسرے سے کم نہیں۔ یہ پاکستانی سیاہ ستدان، بیغیرت و بے شرم حکمران، اور تمام کے تمام وفاقی و صوبائی پارلیمنٹیرین، بااختیار خودغرض بے حس بے توقیر اور بے ایمان نوکر شاہی طبقہ اور چیف جسٹس سمیت تمام کے تمام منصفین دنیا پرستی اور نفس پرستی میں غرق ہوچکے ہیں۔ دینی ٹھیکیداروں کی بدترین منافقت و بد ترین کردار اور بدترین اعمال نے بھی پاکستان کو ذلیل و رسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی خاص طور سے مطلغین کے مراکز چندہ عطیات صدقہ خیرات زکواة فطرہ سمیٹنا ہی کل کائنات اور دین کی خدمت سمجھتے ہیں، اپنی آرائش و آسائش کو مذہب کی خدمت کا نام دیکر امت مسلمہ کو بڑے فریب اور دھوکہ میں رکھتے چلے آرھے ہیں۔ اگر دین اور معاشرے کی خدمت کی ہوتی تو آج پاکستان سود سے پاک مکمل اسلامی نظام کے تحت اسلامی معاشرہ عملی طور پر دکھائی دیتا۔ اے میری قوم اور اے مسلمانوں!! کیا تم قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کے منکر ہوگئے ہو کہ تم میں قوت ایمانی ہی نظر نہیں آتا یاد رکھئے کہ آج کے ہی زمانے کے متعلق میرے ماں باپ اور میں آپ حضور اکرم ﷺ پر قربان کہ ایک حدیث میں وارد ھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ۔۔ عنقریب تمہارے ہاتھوں شام فتح ہوجائے گا، جب تمہیں وہاں کسی مقام پر ٹھہرنے کا اختیار دیا جائے تو دمشق نامی شہر کا انتخاب کرنا، کیونکہ وہ جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوگا اور اس کا خیمہ (مرکز) غوطہ نامی علاقے میں ہوگا۔ بحوالہ: (مسند احمد: ۱۷۴۷۰، حدیث صحیح) ۔۔۔(فتنوں کے دور میں) مومنوں کا ٹھکانا شام ہوگا۔ بحوالہ: عقر دار المؤمنین بالشام (نسائی :۳۵۶۱) ۔۔۔ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا، ان کو رسوا کرنے والوں اور ان کی مخالفت کرنے والوں سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہونچے گا اور قیامت تک وہ اسی حالت پر ثابت قدم رہیں گے، (روایت کے راوی حضرت عمر بن ہانی مالک بن یخامر کی وساطت سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذؓ نے فرمایا یہ لوگ ملک شام میں ہوں گے۔ عنقریب معاملہ اتنا بڑھ جائے گا کہ بے شمار لشکر تیار ہوجائیں گے چنانچہ ایک لشکر شام میں ہوگا، ایک یمن میں اور ایک عراق میں، ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عر ض کی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اس زمانے کو پاؤں تو مجھے کوئی منتخب راستہ بتا دیجئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا، کیونکہ وہ اللہ کی بہترین زمین ہے، جس کے لئے وہ اپنے منتخب بندوں کو چنتا ہے، اگر یہ نہ کر سکو تو پھر یمن کو اپنے اوپر لازم کر لینا، اور لوگوں کو اپنے حوضوں سے پانی پلاتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے اہل شام اور ملک شام کی کفالت اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عراق کے بہترین لوگ شام اور شام کے بدترین لوگ عراق منتقل نہ ہوجائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم شام کو اپنے اوپر لازم پکڑو۔ بحوالہ: (مسند احمد: ۲۲۱۴۵) ۔۔۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بار ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: ملک شام کے لئے خوش خبری ہے، ملک شام کے لئے خوش خبری ہے، میں نے پوچھا کہ شام کی کیا خصوصیت ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملک شام پر فرشتے اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔ (مسند احمد: ۲۱۶۰۶، ترمذی: ۳۹۵۴) ۔۔۔ اپنے معزز قارئین کو واضع کرتا چلوں کہ شام اردن فلسطین یہ وہ زمینی حصے ہیں جہاں دجال خبیث سے عظیم جنگ لڑی جائیگی۔ جب شام کا ذکر احادیث مبارکہ میں آتا ھے تو آج کے جغرافیائی اور نقوشی حالت سے فلسطین، اردن، شام ایک ہی تصور کئے جائیں گے۔ آج ہم جب دنیائے اسلام کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں کفار و مشرکین کی یلغار اسی خطوط پر واضع نظر آتی ھے، اب جبکہ سائنس نے ترقی کرلی ھے تو ایسے ایسے مہلک ہتھیار تیار کرلئے گئے ہیں جن کے حملوں سے نہ صرف موت بلکہ زندہ رہنے والے مرنے والوں سے کہیں زیادہ اذیت و تکالیف کا شکار ہوتے ہیں یہ سب مسلم دنیا کیساتھ ہورہا ھے کیونکہ جن عربوں کو اللہ نے بیشمار قدرتی دولت سے نوازا وہی شدید گمراہ، بے راہ روی اور انتہائی بری طرح بھٹک چکے ہیں۔ انہیں اپنے عیش و تعاعیش سب سے زیادہ مقدم اور عزیز ہیں۔ ہم پاکستانی اور ہماری حکومت و ریاست کا کردار افسوسناک اور مایوس کن ثابت ہوا ھے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے ایک جانب کفار کمربستہ دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب فدائیان خادم رسول ﷺ دین کے مجاہد اپنے جذبہ ایمانی سے لبریز دشمنانان اسلام کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑے ہیں مانا کہ کفار و مشرکین کیساتھ دنیا کی طاقتیں اور مہلک ہتھیار موجود ہیں لیکن ان کمزور نہتے مجاہدین کے دل مضبوط و مستحکم اللہ اور اسکے حبیب ﷺ سے والہانہ محبت کے سبب ان کفار و مشرکین پر بھاری ہیں۔ ان ایمان یافتہ مجاہدین کا ڈر و خوف ان شیطانی و ابلیسی گروہ پر حاوی ہے۔ جنگیں ابھی تیار کھڑی ہیں وہ وقت اب دور نہیں جب پاک بھارت میں خون ریز جنگ کی ابتداء ہونے والی ہے جو مستقلاً کئی ماہ یا چند سال جاری رہیگا ایسی جنگ جو ہولناک و خوفناک ہونے کیساتھ ساتھ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیدے گی اس جنگ عظیم میں شہید ہونے والے بھی شہید عظیم کے مرتبہ پر فائز ہونگے جنکی عظمت و شان خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی جو کئی احادیث میں موجود ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ مجھ سمیت ہر مسلمان ہر پاکستانی خود کو تیار کر بیٹھا ہے کہ نہیں، ایمان کس قدر موجود ہے اور ایمانی تقاضہ کس قدر ہم پورے کررہے ہیں کیا ہم نفس اور دنیا پرستی میں ہی مر جائیں گے یا پھر ایمان کیساتھ شہید ہونا پسند کریں گے خود پر ایکبار نظر دوڑائیں۔ ہمارے ملک میں نعرے، جلسہ، جلوس اور تقاریر و دعوے کرتے ہر سو نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت عملی اقدام میں غائب۔ ان حالیہ فلسطین اور شام میں کس قدر گروہ، گروپ، تنظیم اور مراکز سے جانثاران کے وفود دین محمدی ﷺ کے عظیم ترین رکن جہاد فی سبیل اللہ کیلئے پہنچے شائد ہی کوئی ایک آدھ ہو دیگر سب لفظی جمع خرچ۔ روز قیامت ہم کس طرح سامنا کرسکیں گے اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کہ ہم نے پیٹھ دکھائی جب فلسطین اور شام کفار و مشرکین کی ظلم و زیادتی میں دبا ہوا تھا اور کیا کہیں گے وقت جہاد میں اپنی جان اور مفادات کو عزیز رکھے ہوئے تھے یہ جانتے ہوئے بھی کہ مکة المعظمہ اور مدینة المنورہ کے بعد فلسطین اور شام کو دین محمدی میں بہت اہمیت و حیثیت حاصل تھی۔۔۔۔۔!!



