کالم/مضامین

عنوان: منصف اعلیٰ گلزار احمد کے دریچے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: منصف اعلیٰ گلزار احمد کے دریچے۔۔۔۔!!

قاضی ہر دور ہر زمانے میں عدل و انصاف کو قائم کرنے اور مساوات کو مستحکم رکھنے کیلئے ہر ریاست میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ میرے ابتدائی طالبعلمی دور ثانوی کلاس میں اردو کے مضمون میں قرطبہ کا قاضی کا ایک سبق تھا۔ یقیناً میرے کئی معزز قارئین کو یاد ہوگا کہ کس طرح قاضی نے اپنے اکلوتے بیٹے کو خود سر قلم کیا کہ عدل و انصاف قائم رہے۔ آج یکم دسمبر سنہ دوہزار اکیس کو ٹی وی چینلز پر خبریں دیکھیں جس میں ایک کورٹ کی خبر سرکاری ملازمین کی تقرریوں کے متعلق تھا جسٹس گلزار احمد نے غیر قانونی غیر آئینی طرز عمل اور سیاسی طریقہ کار اور ذاتی سیاست کو تقویت دینے کے عمل کو رد کرتے ہوئے اس عمل کو عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قاضی اعلیٰ گلزار احمد نے بہتا بے ترتیب لوٹ مار اور کرپشن کے دریاؤں کی موجوں پر زبردست ضرب لگائی جس سے ایک جانب سندھ کی بلڈرز مافیا خوف زدہ ہوئی تو دوسری جانب سندھ بھی بل کھانے اور سیاسی بین پر اتر آئی۔ یہ برملا کہنے کو تو ایک قدم ہے مگر قاضی اعلیٰ کا یہ اقدامات کسی جہاد سے کم نہیں۔ آج تک کسی بھی ماضی میں قاضی اعلیٰ نے ان مافیاؤں کے خلاف کاروائی کا سوچا بھی نہیں۔ موجودہ قاضی اعلیٰ نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان میں عدل و انصاف کے دریچے ابھی کھلے ہیں جو غریب عوام کی داد رسائی اور حقدار سائل کے جائز مطالبات کی تکمیل ممکن ہے اسی لیئے میں نے بھی جسارت کی ہے کہ پاکستان کے قاضی اعلیٰ ہم جیسے متاثرین صحافیوں کیلئے بھی از خود نوٹس کا اجراء فرمادیں کیونکہ دو سال سے تمام تنظیموں کے عہدیداروں ذمہداروں سے کہہ کہہ کر تھگ گیا کہ ڈاؤن سائزنگ کے ذریعے میڈیا چینلز مالکان نے جس قدر بڑے پیمانے پر معاشی قتل کرتے ہوئے بیشمار صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا نہ ریاست نے جواب طلبی کی اور نہ ہی یوجیز و کلبس کے عہدیداروں نے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا بلکہ اس ظالمانہ عمل میں مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ اپنے منصب بچائے اور مشاہروں و مراعات میں اضافہ کرایا گویا کمزور اور سفید پوش صحافیوں کی حق تلفیاں کی گئیں۔ میں جاوید صدیقی ایگزیکٹو ممبر جرنلسٹ پینل کراچی پریس کلب بھی ان متاثرین صحافیوں میں ایک ھے۔ ھم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے قاضی اعلیٰ گلزار احمد ہمارے ساتھ رو کرنے والے عمل پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ان کی جائیداد ملکیت کا احتساب اور آڈٹ کرایا جائے آیا کہ وہ واقعی تنخواہ دینے کے قابل تھے کہ نہیں کیونکہ ایک جانب نوکریوں سے برخاست کررہے تھے تو دوسری جانب یہ میڈیا مالکان نئے سے نئے پروجیکٹ نئے کاروبار اور نئے اثاثہ جات بنارہے تھے اور ابتک ان کی دولت اور کمائی کا پہیہ تیزی سے رواں دواں رہا ہے موجودہ حالت میں جب انکی مالی و معاشی صورت حال بہتر رہی تو انھوں نے بیروزگار ملازمین کیلئے کیا کیا۔ یہی درخواست اور مطالبہ ہے پورے پاکستان کے متاثر صحافی اور میڈیا ملامین کا کہ ان میڈیا مالکان اور تنظیمی عہدیداران سے جواب طلبی کی جائے کہ کروڑوں روپے کی سالانہ گرانٹس میں کتنے فیصد اور کس کس مد میں متاثرین کیلئے صرف کی گئیں کیونکہ یوجیز و کلبس کا آئینی اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی یہی بنتی ہے کہ فلاح و بہبود کے عمل کو فوقیت دیتے ہوئے اولیت میں شامل کیا جائے۔ ایک بار پھر ہم پاکستان بھر کے متاثرین صحافی قاضی اعلیٰ سے از خود نوٹس کی امید رکھتے ہیں۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You