کالم/مضامین

عنوان: مثلِ قوم ۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: مثلِ قوم ۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ” قیامت کے دن ہر بندہ کو اسی حال پر اٹھایا جائے گا "۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانہ صبح اور شام سامنے کیا جاتا ہے۔ اگر وہ بہشتی ہے تو بہشت دکھلائی جاتی ہے اور اگر دوزخی ہے تو دوزخ دکھائی جاتی ہے۔ پھر کہا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانہ ہے جہاں تو قیامت کے دن بھیجا جائے گا ۔۔۔۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ موڑ کر لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: تو اس شخص کے باب میں کیا کہتا تھا؟ یعنی محمد ﷺ کے باب میں اور آپ ﷺ کا نام تعظیم سے نہیں لیتے تا کہ وہ سمجھ نہ جائے مؤمن کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت بھیجے ان پر اور سلام۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے: تو اپنا ٹھکانہ دیکھ جہنم میں اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تجھے جنت میں ٹھکانا دیا۔“رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنے دونوں ٹھکانے دیکھتا ہے۔” قتادہ نے کہا: سیدنا انس ؓ نے ہم سے ذکر کیا کہ اس کی قبر ستر ہاتھ چوڑی ہو جاتی ہے اور سبزی سے بھر جاتی ہے یعنی باغیچہ بن جاتا ہے قیامت تک۔۔۔۔ معزز قارئین!! ان احادیث کا ذکر کرنا اس لئے لازم تھا کہ میں اپنے کالم کے عنوان کو آسان اور بہتر انداز میں پیش کرسکوں تاکہ میرے قارئین کو سمجھنے میں دشواری نہ ھو۔ پاکستانی آئینی ادارے مقننہ یعنی اسمبلیاں جس قدر بل یعنی قانون لارھے ھیں اس سے معاشرے میں ایک جانب ہیجان کی کیفیت بڑھتی جارہی ھے دوسری جانب بے راہ روی سر اٹھاتی جارھی ھے اور دین سے دوری۔ اس گناہ کبیرہ امور اور قانون سازی میں صرف گنتی کی چند ایک سیاسی جماعت کے علاوہ ہر بڑی جماعت پیش پیش رھی ہیں۔ انکی ذہنی کیفیت اور لادین کی طرف جھکاؤ انہیں ایسے مردود ملعون قوانین بنانے پر ان کا نفس اکساتا ھے انہیں غبیث غلیظ قادیانیوں یہودی زائینسٹوں کی اطاعت گزاری میں قطعی نہ شرم آتی ھے اور نہ ہی حیا۔ خود تو اپنے جہنم کا ٹھکانہ بنا رھے ہیں اور بد عقل کمزور ایمان والوں کی بھی عاقبت خراب کررھے ہیں ۔۔ معزز قارئین!! ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانے میں ایک نوکر لڑکے نے اپنے مالک کو قتل کیا معاملہ حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس گیا حضرت عمر فاروق ؓ نے لڑکے سے قتل کی وجہ پوچھی لڑکے نے کہا اس نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس یہ اس قسم کا پہلا مقدمہ تھا حضرت عمر فاروق ؓ نے کیس حضرت علی کے پاس بھیجا حضرت علی ؓ نے بات سن کر فرمایا آپ میرے پاس تیسرے دن آنا آپ کا فیصلہ کرو گا۔ تیسرا دن آیا حضرت علی ؓ نے فرمایا اس کی قبر کھو دو قبر کھودی اس مالک کی قبر میں اس کی میت نہ تھی۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا لڑکا سچا ہے کیونکہ نبی پاک ﷺ کا فرمان اقدس ہے جو مرد، مرد کے ساتھ بدفعلی کرتا، یا کرتے ھیں اللہ اس کو تیسرے دن قبر سے اٹھا کر لوط کی قوم میں ڈال دیتا ھے اللہ ھم سب کو اس لعنت سے محفوظ رکھے آمین۔ اس میں بات قابل غور فعل اور مفعول دونوں کیلئے یہ سخت وعید ھیں اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے آمین یا رب اللعالمین یہاں پوری پاکستانی قوم کو سمجھنا ھوگا کہ وہ ان دھریئے لادین ممبران اسمبلی کے قوانین کو تسلیم کریں گے یا قرآن و احادیث کے قوانین پر عمل کریں گے فیصلہ اب عوام پر ھے گرچہ قوم نے عہد کرلیا کہ وہ اللہ کے احکامات پر سختی سے عمل پیرا ھونگے تو ہر خلاف شریعت قوانین و احکامات کی بھرپور طاقت ایمانی کیساتھ مقابلہ کریں کیونکہ گناہ سے جہاد سب سے بہترین عمل ھے۔ پاکستان کو کفار و مشرکین اور قادیانی کافرستان بنانے پر تلے ھوئے ھیں اور اس قوم کو ان عوامل کا عادی بنانا چاہتے ھیں جن پر اللہ نے عذاب نازل کیا کیونکہ یہ دشمنانان اسلام جانتے ہیں کہ جو قوم جس سے مثل رکھے گی وہ اسے میں اٹھائے جائیگی۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You