کالم/مضامین

عنوان: لو لگنے سے موت واقع ھوتی ہے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: لو لگنے سے موت واقع ھوتی ہے۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

شدید گرمی شدید دھوپ اور لو لگنے کے اثرات کے متعلق بیشتر ڈاکٹرز اور حفاظتی این جی اوز ہلال احمر سمیت دیگر سے گفتگو ہوئی تو ان سب نے تقریباً مشترکہ احتیاطی ہدایات پیش کیں وہ میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ھوں تاکہ ان ہدایات کی روشنی میں خود بھی محفوظ رہیں اور آس پاس لوگوں کی زندگیوں کو بھی محفوظ رکھیں ۔۔۔۔ معزز ارئین!! معالجین کا کہنا ھے کہ ہم سب دھوپ میں گھومتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو دھوپ لگ جانے کی وجہ سے اچانک موت واقع ہوجاتی ھے آخر کیوں؟ اس کی وجہ یہ ھےکہ ہمارے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ سینتیس ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اس درجہ حرارت پر ہی ہمارے جسم کے تمام اعضاء صحیح طریقے سے کام کر پاتے ہیں. پسینہ کے طور پر پانی باہر نکال کر جسم سینتیس سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے، مسلسل پسینہ نکلتے وقت پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہے. اس کے علاوہ بھی پانی بہت کارآمد ہے، جسم میں پانی کی کمی ہونے پر ہمارا جسم پسینے کے ذریعے ہونے والے پانی کے اخراج کو روکتا ہے یعنی بند کردیتا ہے جب باہر درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سے زائد ہوجاتا ہے اور جسم کا کولنگ سسٹم ٹھپ ہوجاتا ہے، تب جسم کا درجہ حرارت ینتیس ڈگری سے زیادہ ہونے لگتا ہے۔ جسم کا درجہ حرارت جب بیالیس سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تب خون گرم ہونے لگتا ہے اور خون میں موجودپروٹین پکنے لگتا ہے۔ پٹھوں کڑک لگتے ہے اس دوران سانس لینے کیلئے ضروری پٹھوں بھی کام کرنا بند کردیتے ہیں. جسم کا پانی کم ہو جانے سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے، اہم عضو "بالخصوص دماغ” تک خون کی رسائی رک جاتی ہے. انسان کوما میں چلا جاتا ہے اور اس کے جسم کے ایک کے بعد ایک عضو دھیرے دھیرے کام کرنا بند کردیتے ہیں، اور اسکی موت واقع ہوجاتی ہے. گرمی کے دنوں میں ایسے مسائل سے بچنے کیلئے مسلسل پانی پیتے رہنا چاہئے، اس سے ہمارے جسم کا درجہ حرارت سینتیس ڈگری سینٹی گریڈ برقرار رہ پائے گا اس بات پر ہمیں توجہ دینا چاہئے. ان دنوں میں اكونكس کے گہرے اثرات پاکستان کے موسم پر رہیں ہیں جس سے کئی علاقے اس کی زد میں موجود ہیں. دوپہر بارہ سے تین کے درمیان زیادہ سے زیادہ گھر، کمرے یا آفس کے اندر رہنے کی کوشش کریں. آجکل درجہ حرارت چالیس ڈگری سے پچاس ڈگری کے درمیان ھے. موسم کی یہ سختی جسم میں پانی کی کمی اور لو لگنے والی صورتحال پیدا کر رہی ھے. "یہ اثرات خط استوا کے ٹھیک اوپر سورج چمکنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں.”خود کو اور اپنے ساتھ رہنے والوں کو پانی کی کمی میں مبتلا ہونے سے بچائیں. بلا ناغہ کم از کم تین لیٹر پانی ضرور استعمال کریں. گردے کی بیماری والے ہر روز کم از کم چھ سے آٹھ لیٹر پانی پینے کی کوشش کریں..جہاں تک ممکن ہو بلڈ پریشر پر نظر رکھیں. کسی کو بھی لو لگنا یعنی ہیٹ اسٹروک ہوسکتا ہے. ٹھنڈے پانی کے ساتھ نہائیں. گوشت کا استعمال بند کردیں یا کم از کم کریں. پھل اور سبزیاں کھانے میں زیادہ استعمال کریں. گرمی کی لہر کوئی مذاق نہیں ہے. ایک غیر استعمال شدہ موم بتی کو کمرے سے باہر یا کھلے میں رکھیں، اگر موم بتی پگھل جاتی ہے تو یہ سنگین صورت حال ہے.
سونے کے کمرے اور دیگر کمروں میں دو نصف پانی سے بھرے اوپر سے کھلے برتنوں کو رکھ کر کمرے کی نمی برقرار رکھی جاسکتی ہے. اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کو نم رکھنے کی کوشش کریں. احتیاط علاج سے بہتر ھے اس سے قبل کہ وینٹیلیٹر پر پہنچیں احتیاطی تدابیر کو استعمال کرکے اپنی زندگی محفوظ بنائیں الله ہماری حفاظت فرمائے آمین یا رب العالمین۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You