عنوان:ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا اظہارِ خیال

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا اظہارِ خیال۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مضبوط مستحکم بااعتماد شجاعت اور انتہائی دیانت و امانتدار ادارہ پاک افواج ھے۔ پاکستانی قوم خوش نصیب ھے کہ اسے الله تبارک تعالی نے دنیا کی صفِ اول پروفیشنل فوج عطا کی ھے جو اپنے ملک کی سرحدوں سے لیکر ملک کے اندرونِ خانہ میں پنپنے والی سازشوں اور غداروں سہولتکاروں کا صفایا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے ماضی حال کے عسکری سربراہوں کی قیادت کی ماہرانہ صلاحیت کو دنیا بھر نے تسلیم کیا ھے۔ یوں تو پاکستان مخلف قوتوں کو ہضم نہیں ہوتا کہ دنیا بھر کے ممالک پاک افواج اور اس کے ذیلی اداروں کی تعریف کریں اسی لیئے وہ شوشل میڈیا ہو یا اپنے سہولتکار چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں ھمارے عظیم افواج کے امیج پر ناکا حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر پاکستانی قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ان کے مزموم عظام کو خاک میں مٹادیتے ہیں۔ پاکستانی عوام کے اسی پاک فوج سے والہانہ محبت و عقیدت کا اعتراف کرتے ھوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے اظہارِ خیال پیش کیا۔ آپ نے صحافیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے گفتگو کرتے ھوئے کہا کہ پاکستان کی عوام اپنی مسلح افواج سے محبت کرتے ہیں، مسلح افواج کا کردارعوام کے لیے ہمیشہ اچھا رہے گا، مسلح افواج اورعوام کے کردار میں کسی قسم کی دراڑ نہیں آسکتی، ان کا کہنا تھا کہ پچھلے چند دنوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ نے مسلح افواج کی لیڈرشپ کے خلاف بیانات دیئے ہیں، بار بار درخواست کی ہے کہ مسلح افواج کو سیاسی گفتگو سے باہر رکھیں، ہمارے سیکیورٹی چیلنجز اتنے بڑے ہیں کہ ہم ملک کی سیاست میں شامل نہیں ہوسکتے، اگر ملک کی حفاظت کے اندر کوئی بھول، چونک ہوئی تو معافی کی گنجائش نہیں، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ فوج کے اندر تقسیم ہوسکتی ہے تو اس کو فوج کے بارے پتا ہی نہیں، پوری فوج ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ فوج اپنے آرمی چیف کی طرف دیکھتی ہے، کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی فوج کے اندر تقسیم پیدا کرسکتا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر تنقید نہیں پروپگنڈا کیا جاتا ہے، انھوں نے کہا کہ واضح کردوں فوج کے اندر کسی بھی رینک میں کمانڈ کا عہدہ اہم ہوتا ہے، کسی بھی کور کی کمانڈ آرمی چیف کے بعد اہم عہدہ ہوتا ہے، ہماری ستر فیصد فوج ڈپلائمنٹ ہے، مختلف جہگوں پر کاؤنٹر ٹیررازم آپریشن کررہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں، انھوں نے کہا کہ جلد الیکشن کا فیصلہ سیاست دانوں نے کرنا ہے، فوج کا کوئی کردار نہیں، سیاست دان اس قابل ہیں وہ بیٹھ کر بہتر طریقے سے فیصلہ کرسکتے ہیں، جب بھی فوج کو کسی سیاسی معاملے میں بلایا گیا تو معاملہ متنازع ہوجاتا ہے، سیاست دان الیکشن کا فیصلہ بیٹھ کر ہی کرسکتے ہیں، الیکشن کے دوران سیاست دان فوج کو سیکیورٹی کیلئے بلائیں گے تو اپنی خدمات پیش کریں گے، فوج کبھی بھی سیاست دانوں کو ملاقات کیلئے نہیں بلاتی، جب فوج کو درخواست کی جاتی ہیں تو پھر آرمی چیف کو ملنا پڑتا ہے، اس حوالے سے ساری کی ساری ذمہ داری سیاست دانوں پر ہوتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے دوروں کو اوپن نہیں کیا جاتا، انھوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے دورے بیک گراؤنڈ چلتے رہتے ہیں، تمام ممالک کے انٹیلی اجنس چیف کے ساتھ ملاقات اور انٹیلی انجس شیئرنگ ہوتی ہے، ایسے معاملات میں کوئی ابہام پیدا نہیں کرنا چاہئے، ہمارے آفیسر، جوان سوسائٹی سے کٹ ہوکر جب افواہیں اور ادارے کے بارے غلط بات چیت ہو تو ان تک بھی پہنچتی ہے، اس طرح کے بیانات سے ادارے کا مورال متاثر ہوتا ہے، انھوں نے کہا کہ آفیسر اور جوان ایک ہیں، ہماری لیڈر شپ کا معیار بہت اعلیٰ ہیں، ہمارے جوانوں کو اپنے آرمی چیف، کمانڈر پر یقین ہوتا ہے، فوج کے ہر رینک نے شہادتیں دی ہے، لیڈر شپ پر تنقید کرنے سے ہر فوجی متاثر ہوتا ہے، فوج کا سینٹر آف گریویٹی آرمی چیف ہوتا ہے، انھوں نے کہا کہ بلاوجہ آرمی چیف کے عہدے پر تنقید کے نیگیٹو اثرات ہوتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بار، بار کہتے ہیں فوج کو سیاست سے دور رکھیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! ھم عوام کو دنیا کی ہر طاقت اپنی فوج سے دور نہیں کرسکتی کیونکہ پاکستانی عوام با شعور اور ذہین ہیں وہ کسی بھی ایسے مہرے بیانات الزامات پر ذرہ بھی توجہ نہیں دیتے ہیں اور نہ ہی دے سکتے ہیں کیونکہ ھمارے قوم پاکستان مخالف قوتوں سے آشنا ھوچکی ہیں اور ہر پہلو ہر مقام پر اپنی افواج کیساتھ کھڑی رہے گی اور تمام منفی عناصر کو کچل کر رکھ دیگی انشاءالله تعالیٰ ۔
پاک آرمی زندہ باد۔ قائد اعظم زندہ باد ۔ پاکستان پائندہ باد ۔۔۔۔۔۔۔!!



