کالم/مضامین

عنوان: قدرت کے راز اور خلاف قدرت۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: قدرت کے راز اور خلاف قدرت۔۔۔!!

oکالمکار: جاوید صدیقی

اللہ تبارک تعالیٰ نے گائنات کا علم بازبان قرآن بندوں کو پہنچادیا یہی وجہ ھے کہ آخری نبی و پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر تمام نبوت اور پیغام مکمل کردیا اور آپﷺ کو شبِ معراج کے موقع پر ارض و سماں کائنات حتیٰ کہ تمام رازوں سے آشکار کیا یہاں تک کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی ناواقف ھیں۔ سدرة المنتہیٰ اور عرش باری تعالیٰ کے راز اور دیدار صرف ھماری جانوں سے زیادہ عزیز، ھمارے آقا، ھمارے پیارے رسول ﷺ کو ہی عیاں کیا ھے یہی وجہ ھے کہ آپ کو امام الانبیاء و ختم الرسول کا اعزاز و لقب بھی بخشا یہاں تک کہ اللہ نے اپنے محبوب کو الحمد سے لیکر ناس تک تمام تعریفوں اور قصیدوں سے بھردیا۔ اللہ کے بعد علم رکھنے والے ھمارے رسول پاک ﷺ ھیں اور چند قطرے اللہ نے قرآن پاک میں شامل کردیئے جو رب کی زبان بن گئے۔ اللہ نے علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور رسول اللہ ﷺ نے ترغیب دی آپ ﷺ نے مرد و زن دونوں کو علم حاصل کرنے کی سخت تاکید کی یاد رھے علم کی پرواز اور حدود اس حد تک رکھی جائے جو نظام قدرت سے نہ ٹکرائے یا چھیڑ چھاڑ کرے کیونکہ رب نے کائنات کا نظام ایک بہترین ترتیب سے مرتب کیا ھے، انسان کو آسمان پر قمند باندھنے اور سمندر کو چیرنے سے قطعی منع نہیں کیا لیکن نظام قدرت سے برخلاف چلنے سے منع کیا ھے۔ انسان و جن کی حدود رکھی گئیں ھیں جو اپنی حدود سے نکلے گا وہ صرف خسارے اور نقصان سے دوچار ھوگا۔ آجکل میڈیا اور شوشل میڈیا میں آبدوز کا ذکر بہت چل رھا ھے جو ٹائٹانک جہاز کو تلاش میں نکلی اور تا حال لاپتہ ھے اب یقین کیا جارھا ھے کہ آکسیجن کی کمی کے باعث آبدوز میں موجود افراد ہلاک ھوچکے ھونگے۔ اس بابت میں نے بھی ماہرین اور اس فیلڈ سے تعلق رکھنے والے دوستوں سے رابطہ کیا تو جو معلومات ملیں اپنے معزز قارئین کی نظر پیش کرتا ھوں۔ یاد رھے کہ اس وقت مختلف ممالک کے لاکھوں لوگ زیر سمندر رہ رہے ہیں، ان میں بعض پاکستانی بھی ہیں۔ وہ کٸی کٸی ہفتے اور بعض مہینے تک گزار دیتے ہیں لیکن چوبیس گھنٹے اپنے اپنے ادارے کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں۔ اس وقت شمالی کوریا کے ساتھ اکہتر، امریکہ کے ساتھ سرسٹھ، چین کے ساتھ انسٹھ، روس کے ساتھ اننچاس، چاپان کے ساتھ بائیس، انڈیا اور ایران کے ساتھ سترہ، سترہ، ترکی کے ساتھ بارہ، گریس کے ساتھ گیارہ اور ہمارے پاکستان کے ساتھ آٹھ آبدوز موجود ہیں، اسکے علاوہ اور بھی بہت سے ممالک ہیں جن کے ساتھ بھی آبدوز یعنی سب میرین موجود ہیں۔ یہ تمام آبدوز مختلف سمندروں میں گھوم رہے ہیں اور ان میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ موجود ہیںٕ۔ سب سے بڑی آبدوز امریکہ کے پاس ہے۔ جس کو "بی ایس ۔ تھری ٹیونٹی نائن” کہتے ہیں اور یہ آبدوز دو تین مہینے آرام سے زیر سمندر گزار کرسکتا ہے جبکہ بعض آبدوز کچھ ہفتے اور کچھ صرف چند دن ہی سمندر میں گزار سکتے ہیں کیوں کہ ایسے آبدوز میں اکسیجن رکھنے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ ہر "آبدوز” کی ایک لیمٹ ہوتی ہے۔ زیر سمندر پانی کا پریشر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ہر ملک کی نیوی اپنے اپنے سمندری حدود اور گہرائی کو دیکھتے ہوٸے آبدوز بناتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری نیوی کبھی بحرالکاہل اور بحراوقیانوس کیلٸے آبدوز نہیں بناتی، کیونکہ اس کی ہمیں ضرورت ہی نہیں ہے۔ دس میٹر پر پانی کا پریشر ٹو اے ٹی ایم جب کہ ایک ٹو اے ٹی ایم بیس ہزار چھ سو پینسٹھ کلو گرام فی "میٹر سکیور” کے برابر ہے۔ ایک کلو میٹر پر یہ پریشر ایک سو ایک اے ٹی ایم ہوجاتا ہے جب کہ تین کلومیٹر پر یہ پریشر تھری ضرب ایک سو سات پی اے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ پریشر اتنا زیادہ ہے کہ انسان کو کچل سکتا ہے، اس کو یوں سمجھ لیں جیسے پانچ ٹرک آپ کے اوپر پڑے ہوں، یا پندرہ منزلہ بلڈنگ کے نیچے آپ دبئے ہوٸے ہوں۔ یہ پریشر زیادہ تر جاندار برداشت نہیں کرسکتا یہی وجہ ہے کہ عام طور پر آبی جاندار بہت نیچے نہیں ہوتے کیونکہ نیچے پانی کا بہت زیادہ پریشر ہوتا ہے۔ ہر آبدوز چونکہ کاربن فاٸبرز سے بنائے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ یہ پریشر برداشت کرلیتے ہیں لیکن ہم اس قابل نہیں ہے لیکن امیبا، کیکڑے جیسی مخلوق اور سمندری کھیرے ”ماریانا ٹرینچ” کے نچلے حصے میں رہتے ہیں۔ ماریانا ٹرینچ کے جانوروں میں دو کارپایَہ، زینوفائیوفورس اور چھوٹے سمندری کیڑے ‘جونک جیسا سمندری کیڑے’ شامل ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! تقریباً ننانوے سال قبل ڈوب جانے والا ٹاٸی ٹینگ جہاز بحر اوقیانوس میں تین ہزار آٹھ سو میٹر کے گہرائی میں جہاں موجود ہے وہاں پانی کا "دباٶ” تقریبا چار ضرب ایک سو سات پاسکل تک پہنچ جاتا ہے۔ وہاں جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے لیکن اس کے باوجود بھی لوگ باز نہیں آتے۔ اتنی ایڈوانس ٹیکنالوجی رکھنے کے باوجود امریکہ اس قابل نہیں ہے کہ ان کو محفوظ کرسکے کیونکہ یہ ناممکن ہے۔ اس سے کٸی سال پہلے روسی آبدوز نے بھی "ٹاٸی ٹینک جہاز” دیکھنے کی کوشش کی تھی دنیا جانتی ہے کہ اس کا کیا حال ہوا؟ بحراوقیانوس، بحرالکاہل کے بعد دوسرا بڑا سمندر ہے جس نے ٹائی ٹینک جہاز کا کیا حشر کر ڈالا جو اُس وقت دنیا کا سب سے بڑا سمندری جہاز مانا جاتا تھا۔ ٹائٹن آبدوز کے مالک اوشین گیٹ نے ٹائٹن "آبدوز” میں پانچ سوار افراد کی موت کی تصدیق کردی۔ بیشک تحقیق و مشاہدے اور علوم کے حصول کا حکم دیا لیکن احتیاط اور قدرتی نظام سے ٹکرانے کو سخت منع بھی فرمایا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ابھی تک کوئی ایسی آبدوز نہیں بنی جو بارہ ہزار فٹ سمندر کی گہرائی میں جا سکے۔ اس گہرائی تک جانے والی سب مرین ٹائٹان ایک ہی تھی جو حادثے کا شکار ہوئی ہے۔ اتنی گہرائی میں پریشر اتنا زیادہ ہے کہ کوئی غوطہ خور وہاں تک نہیں جاسکتا حتیٰ کہ بڑے سمندری جانور بھی اس گہرائی تک نہیں پہنچ پاتے۔ ریسکیو مشن صرف برائے نام تھا۔ ماہرین پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ ریسکیو کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ پاگل پن تھا۔ پہلی بار جب رائٹ برادران نے ہوا میں اڑنے کا تجربہ کیا تھا تب ان کو بھی لوگ پاگل کہ رہے تھے اور آج پوری دنیا جہاز پر سفر کرتی ہے۔ ہر سال کتنے کوہ پیما ایوریسٹ اور کے ٹو کی مہم جوئی میں مرتے ہیں لیکن یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ بڑے بڑے فضائی حادثوں کے بعد بھی ہوائی سفر جاری ہے۔ انسان کی نیچر میں دریافت کرنا رکھا گیا ہے۔ آپ اسے پاگل پن کہیں یا جو بھی لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا کیونکہ انسان سرکش اور ضدی بھی ھے اسی ضد اور سرکشی میں وہ اکثر و بیشتر عقل و شعور کھو بیٹھتا ھے بحرحال دعا ھے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو عقل و شعور کی دولت سے مالا مال کردے آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You