کالم/مضامین

عنوان: ظالم عبرت کا نشان ضرور بنتا ھے۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: ظالم عبرت کا نشان ضرور بنتا ھے۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

کوئی بھی انسان جو اختیار طاقت اور دباؤ رکھتا ھو اور ان کے ذریعے مستحق کا حق تلف کرتا ھوں بے جا زیادتی اور بے رحمی کا مظاہرہ پیش کرتا ھوں اور جو تمام اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی روگردانی کرتا ھو ایسے شخص کو ظالم کہتے ہیں۔ظلم کرنے والے عبرت کا نشان ضرور بنتے ہیں۔ دنیائے اسلام اور پاکستان کی تاریخ شاہد ھے کہ جس جس صاحبِ اختیار و اقتدار نے اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرماں داد کو فراموش کرتے ھوئے اقتدار و اختیارات کے نشے میں ظلم و بربریت کے پہاڑ کھڑے کئے اور اپنی ہی قوم کو چن چن کر اذیت و تکلیف اور نفرت و عصبیت کے سبب قتل کیا وہ عبرت کا نشان بن کر دنیا سے رخصت ھوا اور اس کی نسلیں بھی اخلاقی, معاشی, مذہبی اور ذہنی طور پر تباہ و برباد ھوگئیں۔ بیشمار صاحبِ اختیار و اقتدار نے معاشی و اقتصادی قتل و غارت گری کیں یہ عمل تا حال جاری ھے۔ ھمارے ایسے بھی صاحبِ اقتدار و اختیارات گزرے ہیں اور تا حال ہیں جو انصاف اور عدل کو قطعی پسند نہیں کرتے وہ اقربہ پروری تعصب عصبیت شہوت پرستی نشہ وری کے دلدادہ ہیں اور کمزور و مجبوروں کو ہوس کا نشانہ بنانے میں کوئی خوف نہیں رکھتے اور یہ منافقِ عظیم بھی ہیں۔ یاد رکھئے یہاں صاحبِ اقتدار و اختیارات میں اشرفیہ۔ نوکر شاہی طبقہ اور ہر نجی و سرکاری اداروں کے مالکان و صاحبِ اختیار افسران شامل ہیں ۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! مجھ سمیت دیگر کالمکار اور مؤرخ لکھ رھے ہیں اور لکھتے رہیں گے کہ جب بلوچستان اور سندھ ڈوب رہا ھے تو اربابِ اختیار قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرنے نکلے ھیں۔ جب پنجاب اور کے پی کے ڈوب رہا ھے تو غداری کا کھیل کھیلا جارہا ھے۔ جب لاشوں کو دفنانے کیلئے خشک زمین تک میسر نہیں تو ایک مریض کیلئے پورا پاکستانی میڈیا مر رہا ھے لیکن بے بس عوام کی لاشوں کی فکر کسی کو نہیں۔ جب کچے مکان پانی کے ریلوں کیساتھ بہتے جارہے ھیں تو ایوانوں میں کرسی کے حصول کیلئے چالیں چلی جارہی ھیں ملک ڈوب رہا ہے تمام گاؤں دیہات قصبہ صفحہ ہستی سے مٹتے جارھے ہیں اور چھوٹے بڑے شہر گھنڈرات بنتے جارھے ہیں۔ غریبوں مسکینوں کا سرمایہ حیات ایک پل میں لٹ چکا ہے مستقبل کی خبر نہیں بلکہ موجودہ حالات میں بھی جو لوگ زندہ ہیں ان کا حال پوچھنے والا کوئی ہی نہیں۔ہمیشہ کی طرح پاکستانی مخیر عوام اور افواجِ پاکستان ہی قوم کی مدد کیلئے شب و روز امداد میں مصروف ہیں اور یہی لوگ ہی پاکستان جیسے ملک کی اصل دولت و طاقت ہیں۔ ہمارا آزاد میڈیا ایک مریض کے زخم ڈھونڈنے میں لگا ھوا ہے جبکہ سیلاب کے متاثرین کے زخموں پر مرہم لگانے والا کوئی نہیں یہ ایک حقیقت ہے اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔ صوبے کے مالک اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہان پیلی کوپٹر سے نظارہ کرکے اپنا فرض پورا سمجھ لیتے ہیں۔ اس سے پہلے ہزاروں افراد کے ساتھ اس سے زیادہ ظلم ماضی میں ہوچکا ھے لیکن جتنی یکجہتی آج ان سیاستدانوں میں نظر آرہی ہے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ اقتدار کے نشے میں جب کسی نا حق پر ظلم ہوگا تو بعد میں ظلم سہنا ضرور پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You