عنوان: صحافی, صحافت۔ بلا تبصرہ

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: صحافی, صحافت۔ بلا تبصرہ۔۔۔!!
جناب ڈاکٹر عبدالجبار صاحب چیئرمین کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ کی سرپرستی میں اور مشاورتی کمیٹی ڈپٹی چیئرمین کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ ناصر محمود صاحب, ڈپٹی چیئرمین کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ عارف خان صاحب اور ایگزیکٹو ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ جاوید صدیقی کے باہمی مشاورت کے بعد پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی پی ایم ڈی اے کے نام سے ایک واٹس اپ گروپ تشکیل دیا۔ اس گروپ میں کراچی تا آزاد کشمیر یعنی ملک بھر کے صحافیوں کو شامل کیا گیا تاکہ وہ اپنے اپنے یوجیز, کلب کے مسائل پر مشاورت و گفتگو کرکے بہتر مثبت نتائج اخذ کرسکیں اور ایک دوسرے کے علم و تجربے سے استفادہ بھی لے سکیں۔ الحمدلله ملک بھر کے صحافیوں نےمتحرک ہوکر ثابت کردیا کہ صحافی ایک ہیں اور ایک ہی رہیں گے انشاءالله اس گروپ کا پیغام اور مقصد بھی یہ ہیکہ صحافی غیر سیاسی اور غیر جماعتی ہوتا ہے وہ اپنے فیصلے خود اپنی ہی صحافی برادری سے مشاورت کے بعد طے کرتا ہے۔ صحافی کسی بھی سیاسی یا جماعتی یا انتظامی جبر کے تحت کام نہیں کرتا بلکہ صحافی ملک و قوم, سچ و حق اور غیر جانبداری کیساتھ اپنے فرائضِ منصبی کو انجام دیتا ھے۔ اسی لیئے اس گروپ میں پاکستان بھر کے یوجیز اور کلبس صحافیوں اور صحافت کے متعلق اپنی اپنی سرگرمیاں پیش کررہے ہیں تاکہ ایک دوسرے کو رہنمائی اورتعاون حاصل ھوسکے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکرٹری اطلاعات مظفر بھٹی صاحب نے گزشتہ دنوں کراچی پریس کلب میں دستور گروپ کے چیئرمین اور پی ایف یو جے دستور کے بانی ممبر ڈاکٹر عبدالجبار خان صاحب اور ڈپٹی چیئرمین محمد عارف خان صاحب سے طویل ملاقات کی اور ملک بھر کے صحافیوں کے مسائل اور ان کے تدارک کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ پھر گروپ میں ایک خبر شیئر ھوئی۔
کے یو جے کی سینئرصحافی وارث رضا کو حراست میں لئے جانے مذمت، فوری رہائی کا مطالبہ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے سینئر صحافی وارث رضا کو رات گئے گھر سے حراست میں لئے جانے کی سخت الفاظ میں شدید مذمت کی تھی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ وارث رضا ایک سینئر صحافی ہیں جو پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں مختلف اداروں سے وابستہ رہے ہیں انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ملک میں آزادی صحافت کی ستر سالہ جدوجہد کو کتابی شکل میں لانے کا اہم کام بطور مدیر انجام دیا ہے وہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کیلئے اٹھنے والی ہر تحریک میں ہر اوّل دستے کا حصہ رہے ہیں انکی گرفتاری انتہائی تشویشناک ہے اور کراچی یونین آف جرنلسٹس اسے آزادی صحافت پر حملہ تصور کرتی ہے ملک میں اس وقت ہر اس توانا آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے کے یو جے نے مطالبہ کیا ہے کہ سینئر صحافی وارث رضا کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ فہیم صدیقی جنرل سیکریٹری کراچی یونین آف جرنلسٹس۔ فہیم صدیقی کی بروقت کوششوں اور متحرک ہونے سے ملک بھر کے یوجیز نے احتجاج کا اعلان کردیا تھا جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اگلی صبح سید وارث رضا بخیر و عافیت اپنے گھر پہنچ گئے تھے۔ ہم نے گروپ میں دیکھا کہ ہمارے سینئر ترین صحافی دوست سید نعمت الله بخاری صاحب نے ایک تحریر شیئر کی تحریر یہ تھی۔۔۔۔ مالی مفادات یا کسی اشتہاری پارٹی کو معمولی سانقصان پہنچنے کا بھی احتمال ہو ھمیں اس وقت جس صورت حال کا سامنا ہے اسکے پیش نظرھمارا وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے مطالبہ ہیکہ وہ نیشنل پریس ٹرسٹ کے تحت شائع ہونے والے اخبارات کی پرائیوٹائزیشن پر نظرثانی کرتے ہوئے ان اخبارات کی بحالی پر غور کرے اور پرائویٹائز کئے گئے ایسے تمام اخبارات جنہیں اس شرط پر شعبے کو دیا گیا تھا کہ وہ انہیں شائع کریں گے لیکن ان شرائط پر عمل درآمد کرنے کی بجائے وہ اخبارات تاحال شائع نہیں کئے جارہے ہیں جبکہ انکی عمارات اور مشینری بھی انکے تصرف میں ہیں جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپےماہانا نقصان پہنچایا جارہا یے۔ اگر حکومت اس اہم معاملے پر قانونی اقدامات کرتی ہے تو کے یو جے دی پینل اور دیگر ھم خیال گروپ مذاکرات کا خیر مقدم کریں گے۔ اس قسم کے اقدام سےصحافیوں کی بڑی تعداد کو روزگا مل سکے گا۔ توقع ہے موجودہ حکومت اور ھم خیال یوجیز اور صحافتی حلقے ھمارے ہم قدم ہونگے۔ شکریہ والسلام۔ سید نعمت اللہ بخاری کنوینر کے یو جے دی پینل و ھم خیال۔۔۔ پھر میں نے ایک پوسٹ کی۔۔ جناب محترم فہیم صدیقی صاحب جنرل سیکرٹری کراچی یونین آف جرنلسٹس برنا گروپ۔ میڈیا مالکان نے جنہیں ڈاؤن سائزنگ کے نام پر بیشمار صحافیوں اور میڈیا پرسن کا معاشی قتل کیا تھا اس بابت بھی آپ اپنا موقف اور احتجاج پیش کریں یہی نہیں بلکہ اپنے پلیٹ فارم سے سپریم کورٹ میں پیٹیشن بھی داخل کریں دستور گروپ سے گزارش کی تھی ایک بار پھر گزارش کرتا ھوں کہ وہ سپریم کورٹ میں بیروزگار صحافیوں کا کیس لڑیں۔بہتر یہی ھوگا کہ ڈاؤن سائزنگ سے متاثرین کیلئے سب ایک ہوکر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھائیں تاکہ بھرپور اتحاد و اتفاق کیساتھ اپیل کی جاسکے انشاءالله بہتر نتیجہ پائیں گے ۔۔مجھے جواب فہیم صدیقی صاحب نے دیا کہ ۔۔۔ برادر سب سے پہلے ہم کوئی گروپ نہیں ہیں اس لئے تنظیم کا نام کافی ہےرہی بات جبری برطرفیوں کی تو ہمارا نہایت واضح اور مکرر موقف ہے کہ مالکان کو انہیں بحال کرنا چاہئے کے یو جے اس معاملے پر کچھ منصوبہ کررہی ہے جس کا پہلا اظہار آج کی پریس ریلیز تھی بہت جلد آپ مزید سرگرمی دیکھیں گے۔ پھر بخاری صاحب نے شیئر کیا۔الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا مالکان سے کے یو جے دی پینل کے کنوینر اور ھم خیال عامل صحافیوں کا مطالبہ ہیکہ گزشتہ تین برس کے دوران صحافیوں کی تنخواہوں اور مراعات میں کی جانے والی کٹوتیاں ختم کرکے اصل مراعات و تنخواہیں بحال کی جائیں ۔ شکریہ والسلام محبتوں کا ایلچی سید نعمت اللہ بخاری کنوینر کے یو جے دی پینل اورھم خیال عامل صحافیان میں نے فہیم صدیقی صاحب کو مخاطب کرکے کہا کہ فہیم بھائی آپ نے درست کہا کہ آپ تنظیم ہیں اور ہم گروپ ہیں آپ سے تو کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں ہے آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس پر ایم کیو ایم اور کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور پر جماعتی کا لیبل لگا ہوا ہے
ہم کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے اندر رہتے ہوئے ایک گروپ بنا کر اپنی تنظیم کو غیر جماعتی غیر سیاسی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ آئین کا تقاضا بھی ہے اگر ہم اپنی تنظیم کے یو جے دستور سے الگ ہوکر اور کوئی دھڑا بنا کر یہ کام کرتے تو اس سے تنظیم یقیناً دو دھڑوں میں تقسیم ہوجاتی جیسا کہ آپ کی تنظیم پی ایف یو جے اور کے یو جے دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے لہذا ہم تنظیم کے اندر رہتے ہوئے گروپ بناکر آئین کے مطابق کام کرنے اور تنظیم کو ڈھالنے کو درست سمجھتے ہیں تاکہ تنظیم دھڑے بندیوں سے بھی بچ جائے اور آئین کے مطابق غیر سیاسی غیر جماعتی بھی ہوجائے۔۔ اس تحریر کے بعد صحافی اخگر صاحب نے شیئر کیا کہ۔۔۔ایم کیو ایم کا اچھا وقت نکل گیا۔ اب تو وہ لوگ بھی ایم کیو ایم کو ڈس اون کررہے ہیں جنہیں اگر ایم کیو ایم کی پرچی پر صحافت میں داخلہ نہ ملتا تو آج گنڈیریاں بیچ رہے ہوتے۔ ڈاکٹر فاروق ستار صرف پرچی دیا کرتے تھے اور حامل پرچی کو ملازمت مل جایا کرتی تھی۔ آج وہ لوگ بڑی بڑی پوزیشن پر ہیں اور اپنے آپ کو ایم کیو ایم سے لاتعلق ظاہر کرتے ہیں۔ اس پر فہیم صدیقی صاحب نے جواب میں لکھا کہ اگر آپ میں اخلاقی جرآت ہے تو انکے نام بھی بتا دیجیے تاکہ وہ آپکو براہ راست جواب دے سکیں ورنہ الزامات کی سیاست تو آپکا پرانا وطیرہ ہے۔ اس پر جناب اخگر صاحب لکھتے ہیں میرا اشارہ کسی اور طرف تھا۔ آپ اپنی داڑھی میں تنکا تلاش نہ کریں برادر۔ آپ سے اچھے تعلقات ہیں اور رہیں گےکیونکہ ایم کیو ایم دوبارہ بھی تو آسکتی ہے پھر میں نے لکھا کہ یہاں بات کرنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک دستہ بن جائیں اور اپنے حال و مستقبل کو غیر سیاسی غیر سیاسی خالصتاً صحافی بن کر اپنے پروفیشنل سے انصاف برتیں۔ میری خدانخواستہ کسی کی دل آزاری نہیں صرف خود کو اور ہم سب کو سیاست اور جماعت سے دور رکھنا ھے کیونکہ صحافی سیاسی کارکن ہرگز نہیں ھوتا بلکہ سیاست و ریاست سے عوامی مسائل اقدامات اور ٹیکس و سہولیات کے متعلق جواب طلب کرتا ہے ایک صحافی ملک و قوم کا ترجمان بھی ہوتا ھے۔ اسی لیئے صحافتی تنظیموں کے عہدیداران پر دوہری ذمہداری عائد ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے صحافیوں کے جائز حقوق کیلئے کمربستہ ہوکر ان کے حقوق کا بھرپور دفاع کرتا ہے۔ آج ہم میں یقیناً اس بابت کمی ہوگئی ہے جبھی تو ہمارے ہزاروں صحافی حضرات بیروزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان میڈیا مالکان نے ہمارے درمیان گروہ بندیاں بنواکر الگ الگ اینٹھ کی عمارات بنادی ہیں اور یہ مالکان چند ایک کو نواز کر ہزاروں کو شدید متاثر کیئے ہوئے ہیں میں اول روز سے کہہ رہا ہوں لکھ رہا ہوں کہ سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کریں آج دو سال بیت گئے جنھوں نے پیٹیشن دائر کرنی ہیں وہ بڑے عہدوں پر فائز ہیں وہ میری طرح بیروزگار ہوتے تو شائد احساس زیادہ بیدار ہوتا۔ الله ہم سب میں اتفاق و اتحاد قائم رکھے آمین ہاں کوئی صحافی اگر تبصرہ یا تنقید بھی کرتا ہے تو کبھی بھی اسے اپنی انا و بقاء کا حصہ نہ بنائیں بلکہ اس مسلہ اور تنقید کو سمجھتے ہوئے بہتر حل تلاش کریں شکریہ ایک بار پھر میں معافی کا طلبگار ہوں کہ کسی کی اگر دل آزاری ہوئی ہو۔ ہم ہیں صحافی غیر سیاسی غیر جماعتی میرے جواب میں اخگر صاحب لکھتے ہیں کہ درست فرمایا آپ نے۔ یہ ایک عمومی بات تھی جس سے آپ یا فہیم کا کوئی تعلق نہ تھا ٹیک اس لیے کیا تھا کہ اس موضوع پر بات چل رہی تھی تو میں نے اپنا ان-پٹ دیا۔ورنہ کوئی خاص شخص ہدف نہ تھا۔ کسی وقت مل کر بیٹھیں، میں پٹیشن داخل کراتا ہوں۔ اگر مجھے اللہ نے توفیق دی تو پٹیشن بناوں گا بھی اور اچھا وکیل بھی کرکے دوں گا۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



