عنوان: شفاف صحافت اور کراچی کی موجودہ صورت حال ۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: شفاف صحافت اور کراچی کی موجودہ صورت حال ۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
مجھے میڈیا میں بائیس سال سے زائد ھوچکے اس دوران چھوٹے بڑے صحافیوں سے بہت سیکھنے کو ملا حقیقت تو یہ ھے کہ اس وقت بھی ایک شاگرد کی طرح ھوں اور سیکھنے سمجھنے کے عمل میں ہوں۔ محترم ناصر بیگ چغتائی صاحب معروف این بی سی; محترم اویس توحید صاحب معروف او ٹی; محترم وارث رضا صاحب اور محترم فرحان رضا صاحب سمیت دیگر بیشمار سینئرز سے سیکھتا چلا آرھا ھوں۔ فرحان رضا اور اویس توحید صاحبان نہ صرف میرے بوس تھے بلکہ ان سے دوستی اور بھائی کا بھی رشتہ ھے۔ ھم نے اےآروائی نیوز میں ایک ساتھ کئی سال کام کیا ھے۔ گزشتہ روز فرحان رضا کی تحریر پڑھی تو حقیقت کی بلندی پر فائز نظر آئی مگر سوچنا لگا کہ اس ملک میں شفاف صحافت اور حقائق کو عیاں کرنے سے کیا ان بے حس لالچی عیش و عشرت کے عادی سیاستدانوں پر اثر ھوگا کہ نہیں مجھے نہیں لگتا کہ ان پر ذرا بھی اثر ھو۔ اپنے معزز قارئین کو بتاتا ھوں کہ میرے محترم دوست بھائی اور سابقہ بوس فرحان رضا لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔ ذرا ٹی وی چینلز مراد علی شاہ کی ویڈیوز نکالیں، کراچی تیرہ سال میں چھ بار ڈوب چکا ہے۔ ایک بار موصوف نے رپورٹرز کو کہا تھا میں نے این ای ڈی سے پڑھا ہے۔انہی بسوں میں سفر کیا ہے پھر وعدہ کیا اب کراچی نہیں ڈوبے گا۔ کراچی میں نالوں کی صفائی کیلئے ہرسال کروڑوں روپے مختص کئے جاتے ہیں جو پی پی پی اور ایم کیو ایم مل کر کھا جاتے ہیں۔ آپ کو لگ رہا ہے کہ دونوں جماعتیں پریشان ہیں اس صورتحال پر؟ نہیں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی اور رہنما ایک دوسرے کو فون کرکے مبارکباد دے رہے ہیں کہ اب مزید فنڈز ملیں گے مزید دبئی امریکا کینیڈا میں جائیدادیں بنیں گی۔ سرکاری افسران بھی خوش ہیں کہ بہت کچھ کھانے کو ملے گا اس بار بچوں کیساتھ اسپین جائیں گےآپ سمجھ رہے ہوں گے کہ کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ کے افسران غم زدہ ہیں؟ نہیں یہ سب ابھی اپنے گاؤں عید منانے پوٹھار کے علاقوں میں گئے ہوئے ہیں اور کراچی ان کیلئے صرف دبئی ہے تین سال کام کرنے آتے ہیں پھر چکوال میں فارم ہاؤس بنوا لیتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کے آدھے افسران کا انجنیئرنگ اور سٹی مینجمنٹ سے تعلق نہیں باقی کو سرحد پر صرف خندق کھدوانے کا تجربہ ہے اب کیا ہوگا؟ بس کچھ روز ایک دوسرے پر الزام تراشی پھر وفاق کی طرف سے فنڈز کا اجرا پھر کھانا پینا۔ اسی دوران محرم آجائے گا اور پھر رہے نام اللہ کا۔ جب تک پرانے فنڈز اور سالانہ ترقیاتی بجٹ کا حساب کتاب نہیں لیا جائے گا۔ اس وقت تک معاملات نہیں سدھریں گے۔ یہاں کھانے کیلئے سب موجود ہیں حساب کتاب صرف مر کر دینا چاہتے ہیں۔ کراچی میں سب مہاجر ہیں کوئی قیام پاکستان کے بعد آیا تو کوئی ستر سال میں دیگر شہروں دیہاتوں سے آیا۔ ساری زبانیں بولنے والے بستے ہیں جب بارش ہو یا بجلی جائے تو وہ یہ نہیں دیکھتی کہ کس کے لئے باعث زحمت ہے لیکن یہاں بسنے والے دیکھتے ہیں کہ کون اپنی زبان بولتا ہے اس لئے ہم آواز اٹھائیں یا نہیں اٹھائیں۔ یہ حالات اسی تفریق کے باعث ہیں اسی لئے جو ہورہا ہے کراچی والے اسی کے لائق ہیں۔۔۔معزز قارئین !! محترم فرحان رضا صاحب نے مختصر بات میں بہت وسیع اشارے کردیئے ہیں یہ کراچی کے باسیوں کو سوچنا ھوگا کہ ھم عوام ایک دوسرے کیساتھ کس روئیے کیساتھ رہ رھے ہیں پہلی بات یہ سمجھنا ضروری ھے کہ ھم سب ایک قوم ھیں دوسرا یہ کہ ھم سب مسلمان ہیں صرف انہیں دو خطوط کو سمجھنے کی ضرورت ھے۔ موجودہ کراچی بین الاصوبائی اور اندرونِ سندھ کی بڑی تعداد کراچی شہر میں آباد ھوچکی ھے ان کا یہیں جینا اور یہیں مرنا ھوگیا ھے کیونکہ ہر ایک کی نئی نسل کراچی سے باہر رہنے کو تیار نہیں اسی سبب کراچی میں آبادی کا پھیلتا سلسلہ جاری و ساری ھے۔ اب رہی بات کہ میں مہاجر, میں سندھی, میں پٹھان, میں بلوچی, میں پنجابی, میں سرائیکی, میں افغانی, میں برمی, میں بنگالی اور میں غیر مسلم اقلیتی ھم سب کا بنیادی حق ریاستِ سندھ سے پانی سیوریج بجلی گیس روڈ اسپتال سڑکیں باغات اور تحفظات آئینی و قانونی لازم و ملزوم ہیں کیونکہ ھم سب ریاستِ پاکستان اور ریاستِ سندھ کو ہر طرح کا سب سے زیادہ ٹیکس اور یوٹیلیٹی بلز ادا کرتے ہیں سب سے زیادہ فائلرز ہیں سب سے زیادہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں لیکن ھمارے اتحاد کی کمی اور نفرتوں کے سبب ھم سب قوم کو مسلسل بیوقوف بنایا جاتا رھا ھے۔ کراچی کے باسی اب بھی نہ سنبھلے تو یہ کراچی کو پاش پاش کر ڈالیں گے اور خود ملک سے فرار اختیار کرلیں گے کیونکہ ان کی املاک آپ کے ٹیکس سے ادا ھونے والی رقوم ہیں جو بیرون ملک بینکوں میں ان سب کے اکاؤنٹس میں جمع ھوتی چلی آرھی ھے یاد رکھیئے ان سیاستدانوں کو کوئی تو ھے جو قائم رکھے ھوئے ھے وہ ظلم کر رھے ہیں تم پر اور اس ریاست پر ھونا تو یہ چاہئے کہ وہ صاحبِ اختیار ان سیاستدانوں کے ناجائز معاملات کو بے نقاب کرتے ھوئے ملک و قوم کا تحفظ یقینی بناتے مگر قوم کو ان ہی کے ہاتھوں کردیا۔ شفاف صحافی کو پاکستان سمیت کراچی کا دکھ ھے وہ کراچی کو دبئی سے کہیں حسین خوبصورت اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں ان شفاف صحافیوں کا کراچی کے تمام بسنے والی قوم سے اپیل ھے کہ خدارا خود کو پہچانیں اور کسی ایسے اعلان بیان پر قطعی دھیان توجہ نہ دیں جن سے نفرت عصبیت تعصب بڑھے بلکہ اپنے درمیان محبت اخوت بھائی چارگی اتحاد یقین کو مضبوط طور پر قائم کرلیں تو آپ ایک خوشحال کامیاب مستحکم قوم بنکر ابھریں گے انشاء الله ۔۔۔۔۔!!



