کالم/مضامین

عنوان: تحقیقی رپورٹ "پینشن معیثت پر بوجھ ھے

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: تحقیقی رپورٹ "پینشن معیثت پر بوجھ ھے”۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

پاکستان کے دولخت ھونے کے بعد جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش ھوا اور مغربی پاکستان ” اسلامی جمہوریہ پاکستان” کے نام جانا پہچانے لگا تو ایک جانب مسلم ممالک بنگلہ دیش جس کی کرنسی اور معاشی و اقتصادی حالت اسلامی جمہوریہ پاکستان سے کہیں زیادہ نیچے اور کمزور تھی، ہر سال سیلاب اور بے پناہ بارش سے بنگلہ دیش معاشی طور پر کمزوری سے نکل نہیں پاتا تھا لیکن ملک سے سچائی حب الوطنی خلوص نیک نیتی اتحاد و اتفاق کے سبب آہستہ آہستہ معاشی و اقتصادی طور پر مستحکم ھوتا چلا گیا یہاں تک کہ اب اسکی نہ صرف کرنسی بلکہ معاشی و اقتصادی صورتحال پاکستان سے سو سے زائد گناہ بڑھ چکی ھے بلکہ ترقیاتی امور تیزی سے پائے تکمیل تک پہنچ رھے ھیں یہی صورتحال پڑوسی ملک بھارت کی ھے جو پاکستان سے کئی گناہ ترقی یافتہ ملک بن چکا ھے۔ آج بھارت اور بنگلہ دیش بین الاقوامی منڈی میں اپنا لوہا منواچکے ہیں، کرپشن کی تاریخ ان دونوں ممالک میں بھی ھے مگر یہاں کرپشن کا طرز عمل مختلف ھے یعنی وہ اپنی کرپشن سے براہ راست ملک و قوم کو متاثر نہیں کرتے۔ آج بھی انکی فوج ھو یا پارلیمنٹیرین یا سول سرونٹس قومی خذانے پر نہ بوجھ ہیں اور نہ ہی چور، ڈاکو، لٹیرے اور ملکی و قومی مفاد میں کوئی ایک ریاست سیاست نہیں کرتی جبکہ بھارت کی ایک ریاست پاکستان سے بھی بڑی ھے اور ان دونوں ممالک میں بلکہ دنیا بھر کے ممالک اپنے پینشنرز کو زیادہ سے زیادہ مراعات اور فوائد پیش کرتے ہیں اور انکی زندگی بھر ریاست و حکومت کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سہولتوں کے کئی پکیج دیئے جاتے ہیں، ہماری حکومت اس طرف بھی تو دیکھے اور تنقید کرنے والے اینکرز حقائق کو ایکبار نظر ڈال لیا کریں۔۔۔۔ معزز قارئین!! اب اگر ھم اسلامی جمہوریہ پاکستان کا تحقیقی مطالعہ اور جائزہ و مشاہدہ کریں تو ھم دیکھتے ہیں کہ اسکے جنوب میں چین ھے جہاں کرپشن پر سزائے موت ھے اور مغرب میں افغانستان ھے جو اب مملکت اسلامیہ افغانستان بن چکا ھے جہاں پر قوانین شریعہ کا عمل سخت ترین ھے اور یہاں بھی ترقی و تمدنی کا نیا سفر شروع ھوچکا ھے۔ پاکستان کے شمال میں سمندر ھے جو بحرالکاہل پر واقع ھے۔ ہمارے ملک میں جو صورتحال ھے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں میں یہاں بات کرونگا وہ جو سالہا سال سے ہر حکومت بجٹ سے قبل الاپ گاتی ھے وہ ھے پینشنرز قومی خذانے پر بوجھ ہیں لیکن انکا یہ سفید جھوٹ عوام کے سامنے پیش کرونگا۔ حیرت و تعجب کی بات یہ ھے کہ انکے ان جھوٹے کلمات کی آواز کا حصہ بننے میں کچھ ضمیر فروش لفافہ نواز صحافی و اینکرز نے بھی اپنا منفی رول ادا کیا جبکہ وہ زمینی حقائق سے ناواقف اور نابلد ہیں لیکن اپنی ذاتی مراعات و خواہشات کی تکمیل ان لفافہ پوش صحافیوں اور اینکرز کو ملکی و قومی مفادات کا احساس تک نہیں ھوتا بحرکیف پارلیمنٹیرین ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر جاہلانہ سوچ اور گفتگو کیساتھ اپنی اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے تمام ذاتی اختلافات بھلا دیتے ہیں مگر عوام بلخصوص پینشرز کا گلا کاٹنے اور مرتے ہوؤے کو مزید مارنے کیلئے تدابیر و ترکیب تیار کرتے رہتے ہیں کیونکہ یہ پینشنرز کا طبقہ انتہائی کمزور و لاغر ھوتا ھے، انکی عمریں ساٹھ سال سے اسی پچاسی کے درمیان ہوتی ہیں یاد رھے کہ ان پارلیمینٹیرین یعنی قانون سازوں کو پینشنرز کو دین محمدی ﷺ اور انسانیت کے برخلاف ملنے والی معمولی سی پینشن کی رقم بھی بھاری لگتی ھے جبکہ یہ بھیک نہیں مانگ رھے یہ انکا اپنا جمع شدہ رقم ھے جو حکومت کے پاس امانت ہوتا ھے یہ اپنا جائز حق طلب کررہے ہیں۔ اکثر پارلیمنٹیرین اس قدر جاہل اور اوجھٹ ہیں کہ انہیں خبر ہی نہیں کہ سرکاری ملازم دوران سروس حکومت کو اپنے مشاہراہ سے جی پی فنڈ، بینیوینٹ فنڈ، گریجویٹی اور گروپ انشورنس کی مد میں ایک اچھی خاصی رقم اپنی تنخواہ سے کٹوا کر حکومت کو دیتا ھے تاکہ ریٹائرڈمنٹ کے بعد اس رقم سے فائدہ حاصل کرسکے۔ یاد رھے کہ یہی طبقہ سب سے پہلے ٹیکس بھی ادا کرتا ھے لیکن قانون ھونے کے باوجود اپنے تمام حقوق سے محروم بھی رہتا ھے۔ ریٹائرمنٹ کے وقت صرف تین چیک کی صورت میں رقم ملتی ہیں، اوّل جی پی فنڈ، دوئم گریجویٹی اور سوئم انکیشمنٹ جبکہ مزید دو رقوم خود حکومت کے کارندے اور پالیمنٹیرین اپنی پیاس اور عیش و تعیش کی نظر کئے ھوئے ہیں ان میں بینیوینٹ فنڈ اور گروپ انشورنس ہیں۔ عدالتی عظمیٰ بار ہا بار کہہ چکی ھے کہ یہ ان سرکاری ملازمین کا حق ھے مگر حکومت اور پارلیمنٹیرین کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور آج تک سرکاری ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اپنی ذاتی ان رقوم سے محروم ہیں آخر کون ھے جو ان رقوم پر ڈاکہ ڈالتا ھے اور استعمال کرتا ھے میرے معزز قارئین اچھی طرح واقف ہیں۔ پینشن معیشت پر بوجھ ھے۔ اس موضوع پر تعلیم بچاؤ ایکشن کمیٹی کے کنونیر انیس الرحمان اور جنرل سیکریٹری عبدالرحمان خان سے جب بات ھوئی تو انھوں نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جاوید صدیقی صاحب پنشن بوجھ نھیں ھے بلکہ اشرافیہ معیشت پر بوجھ بنی ہوئی ھے۔ حال ہی میں غیر عوامی قبضہ حکومت نے یہ بل بھی پاس کرایا ھے کہ سنیٹرز کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ملے گی۔ ہوائی جہاز کا سفر بمعہ اہل وعیال کرسکتے ھیں۔ نیز گاڑیاں، رہائش، نوکر چاکر، گارڈز، پیڑول، گیس اور بجلی کے بلز سب فری ھونگے۔ اسی طرح بیروکریٹ، اسٹیبلشمنٹ، اور اشرافیہ اپنی اولاد کو بیرون ملک سیٹ کرادیتے ھیں۔ انکو پنشن بھی ڈالروں میں دی جاتی ھے۔ اسی طرح صدر اور وزیراعظم کو بھی پنشن دی جاتی ھے۔ کیا یہ سرکاری ملازم ھیں جو انھیں پنشن دی جاتی ھے۔نیز اشرافیہ جو ارب پتی اور کھرب پتی ھیں۔ آئی ایم ایف یعنی ورلڈ بینک ان پر ٹیکس لگانے کو نھیں کہتی۔ سرکاری ملازمیں اپنی زندگی کا بہترین حصہ حکومت کی خدمت کر تے ھوئے گزارتے ھیں۔ دوران سروس انکی تنخواہ میں سے کاٹی گئی رقم میں سے چالیس فیصد ریٹائرمنٹ کے وقت دی جاتی ھے بقایا رقم حکومت خود رکھ لیتی ھے اور بارہ سال بعد ری اسٹروریشن کے ذریعہ پنشن میں اضافہ کیا جاتا ھے، اس کے بعد بھی رقم باقی رہتی ھے جس سے ملازم کو پنشن دی جاتی ھے۔ اس لئے معیثت پر پںشن سے کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف عرصہ دراز سے پنشن ختم کرانے کی کوشش کرتی رہی ھے۔لیکن عوامی حکومت اس پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں تھی لیکن اس وقت غیر عوامی حکومت ھے اس لئے کافی عرصہ سے یہ ماحول بنایا جارہا ھے کہ پنشن معیثت پر بوجھ اسے ختم کیا جائے جبک ملازمین کے بینبویلنٹ فنڈ کے کھربوں روپے اور اسکا نفع کہاں ھے اور اسی طرح گروپ انشورنس رقم کہاں ھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ تعلیم بچاؤ ایکشن کمیٹی مطالبہ کرتی ھے کہ نہ پنشن ختم کی جائے اور نہ کوئی تبدیلی کی جائے ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آپ کو علم ھے کہ پینشنرز کے مسائل اور حکومتی ظالمانہ رویہ صرف اور صرف سول سرونٹس کیلئے کئے جاتے رھے ہیں جبکہ اسی ملک اور اسی ریاست میں سرکاری ملازم عسکری بھی ہوتے ہیں انہیں ان تمام مسائل اور مشکلات سے آزاد رکھا جاتا ھے ہر جنرل اپنے خطابات میں کہتے چلے آئے ہیں کہ آئین کا تقدس اور احترام فورسس پر زیادہ ہوتا ھے لیکن جب عنایتوں اور مراعات کو معاملہ آتا ھے تو اس وقت عوامی رشتہ عوامی رابطہ اور عدل و انصاف بوتل کا جن کی طرح غائب نظر آتے ہیں گویا ایک ملک ایک ریاست مگر قانون جدا جدا… !!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You