عنوان: اے بے رحم سندھ حکومت ضعیفوں کی فریاد نے رولا ڈالا

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: اے بے رحم سندھ حکومت ضعیفوں کی فریاد نے رولا ڈالا۔۔۔۔!!
چند سالوں سے میرا سندھ کے سرکاری ریٹائرڈ ملازمین سے مسلسل ملاقات کا سلسلہ رہا۔ ان ملاقات میں ستر سے نوے سال تک کے ضعیف مرد و خواتین شامل رہے۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ میں ایک صحافی ہوں اور کالمکار بھی تو وہ اپنے دود و الم کو برداشت نہ کرسکے اور ان ضعیف مرد و خواتین کی کمزور دھندلی آنکھیں سے آنسو بہنے لگے درد بھری آواز میں میرپورخاص سے تعلق رکھنے والے ایک ضعیف ریٹائرڈ سرکاری ملازم مجھ سے مخاطب ھوتے ھوئے بولے کہ بیٹا ہم نے اپنی چالیس سالہ سرکاری ملازمت میں حکومت کے وعدے و عہد کے تحت اپنے ماہانہ مشاہرے سے گروپ انشورنس کی مد میں رقم بتوسط حکومت اسٹیٹ لائف کو دیتے رہے جو محکمہ فنانس کے ادارے اکاؤنٹینٹ جنرل آف سندھ ہمارے ماہانہ مشاہرے سے کٹوتی کردیا کرتا تھا جس کا مکمل ریکارڈ محکموں کے پاس محفوظ ھے لیکن جب تک ہم میں سے کوئی مر نہیں جاتا اس وقت تک یہ ظالم حکومت رقم ادا نہیں کرتی اور جو رقم ملتی ہے ایک تو انتہائی پیچیدہ مراحل کے بعد دوسرا یہ کہ یتیم بچوں کو مطلوبہ رقوم میں سے کئی درجہ کٹوتی کردی جاتی رہی ہیں۔ جاوید بیٹا اس بابت ہم ضعیفوں نے اپنی فریاد اپنے جائز مطالبات حکومت سندھ کو پیش کیئے لیکن جیسے انکے کانوں کو جوں تک نہیں رینگتی بڑی بے رحمی کا مظاہرہ پیش کررہی ہے گزشتہ سال سندھ بجٹ میں ہم ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کیلئے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے دخترِ پاکستان بینظیر بھٹو کے لخت جگر سرداروں کے سردار آصف علی زرداری کے چہیتے بیٹے اور جیالوں کا تاج بلاول بھٹو زرداری نے اس ہوشربا مہنگائی کے باوجود صرف دس فیصد پینشن میں اضافہ کرکے آٹے میں نمک کے برابر احسان کردیا۔ ایک سندھ کے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی ریٹائرڈ سرکاری ضعیف خاتون نے کہا کہ ادا جاوید یہ تو بلاول کو سمجھاؤ کہ سندھ بھر کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین میں صرف شہر کے ملازمین گروپ انشورنس کی رقم کے حصول میں پریشان نہیں ھورہے ہم گاؤں دیہات والے بھی پریشان اور مایوس ہیں کوئی بلاول کو بتائے کہ اس کی ماں باپ اور نانا بڑے دل کے مالک تھے وہ سندھ بھر کی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بہتر سے بہتر اقدامات کرتے تھے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازمہ ضعیف عمر رسیدہ نے بتایا کہ بلاول کے باپ سرداروں کے سردار آصف علی زرداری اتنے بڑے دیالو ہیں کہ جب وہ صدرِ پاکستان تھے تو انھوں نے سرکاری ملازمین بشمول ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں پچاس فیصد تک اضافہ کیا تھا۔ خیرپورمیرس سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ سرکاری ملازم نے کہا کہ بچہ بلاول بھٹو مہنگائی پر بہت تقریر کرتا ھے اب تو مہنگائی کے خلاف مارچ اور ریلی اسلام آباد لیکر جانے کی دھمکیاں دے رہا ھے کبھی اس سے کوئی جیالا پوچھے کہ اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد آپ صوبے کے تاج والے بادشاہ بن چکے ہیں اب آپ ہی صوبے کے قل مختار ہیں اگر آپ ہمارے پینشن میں اضافہ اور گروپ انشورنس کی رقم کی ادائیگی ریٹائرمنٹ کے وقت کو پائے تکمیل کے احکامات جاری نہیں کرتے تو یہ عمل بلال بھٹو کا ظالمانہ جابرانہ ہوگا جب آپ اپنے صوبے کے لوگوں کو ان کا حق ان کا پیسہ نہیں دے سکتے تو کس منہ سے آپ اسلام آباد مارچ کریں گے۔ نوابشاہ سے تعلق رکھنے والی ریٹائرڈ سرکاری ملازمہ نے کہا کہ سائیں جاوید ہماری عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس نے بھی کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کے گروپ انشورنس کی ادائیگی حکومتِ سندھ ریٹائرمنٹ سے مشروط کردے لیکن پھر نہ عدالت نے سندھ حکومت سے جواب طلب کیا اور نہ ہی سندھ حکومت نے عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کو اہمیت و وقعت دی گویا سنی ان سنی کردی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! لکھنے کو بہت ہے کئی گھنٹے ان ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کیساتھ رہا یقین جانئے کہ اس مہنگائی میں وہ جس قدر اذیت تکلیف اور ذہنی کوفت سے گزار رہے ہیں اللہ ہی بہتر جانتا ھے یہ وہ لوگ ہیں جنھیں سفید پوش اور عزتِ نفس والے کہتے ہیں یہ صابر بھی ہیں اور شاکر بھی یہ جس کیلئے دعائیں کرتے ہیں تو رب فوری قبول کرلیتا ھے اور اگر آہ نکالیں تو اللہ بڑے بڑوں کی چیخیں نکال دیتا ھے یہاں میں نے اپنے شعبہ اپنے ادارے میڈیا کا کردار انتہائی مایوس کن دیکھا ھے ہمارا میڈیا ان سیاستدانوں سیاسی حکمرانوں کی جھوٹی سچی کہانیاں بتانے سے تھکتا نہیں مگر کبھی مستحق جائز مطالبات کرنے والے سرکاری و نجی ملازمین کیلئے متحرک نظر نہیں آتا نجانے یہاں ان کا منصبِ صحافت کہاں چلا جاتا ھے۔ صحافی کیوں نہیں ذمہدار حکمران سے انکے جائز مطالبات پر سوال کیوں نہیں اٹھاتا اور جائز امور میں رخنہ انگیزی کرنے والوں کا محاسبہ کیوں نہیں کرتا یہاں کئی سوالات جنم لیتے ہیں جن میں توہینِ عدالت کے مرتکب حکمران کیساتھ نرم رویئے اور محکمہ جاتی غفلت کے مرتکب کے خلاف خاموشی؟۔۔۔۔ معزز قارئین!! ان ملاقاتوں کے بعد پہلے پہل میں نے شوشل میڈیا میں چند سطور پر محیط تحریر شیئر کی پھر اپنا مختصر وڈیو بیان بھی شیئر کیا لیکن لگتا ھے بلاول صاحب ابھی سورہے ہیں آرام فرمارہے ہیں پھر مجبوراً کالم لکھنا پڑا کہ اخبارات کے صفحے پر چھپنے کے بعد کوئی لاکھوں میں ایک ایمان یافتہ ہوں جو بلاول کو بیدار کرسکے کہ آپ کے صوبے میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اپنے جائز حقوق گروپ انشورنس کی رقم کیلئے مطالبہ کرتے ہیں اور حصول کے منتظر ہیں میرا مشاہدہ ہے کہ بلاول اس قدر سنگدل شق القلب مخبوط الحواس شخصیت نہیں جو اس بابت سنجیدگی کا مظاہرہ پیش نہ کریں گر انھوں نے سندھ بھر کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے گروپ انشورنس کی رقم کی ادائیگی کو چند دنوں میں یقینی نہ بنایا تو سندھ کی با عزت با وقار عوام کبھی بھی معاف نہیں کریگی اور آنے والے وقت میں اپنی اہمیت کا اظہار بھی کریگی کیونکہ انتخابات بہت قریب ہیں اگر آپ نے انکے جائز حقوق کو سیاست کی نظر کیا تو یہ عوام بھی آپ کو ناکامی کی نظر کردیں گے۔ میرا انکے کنبہ سے بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ ہمارے اس جائز حقوق گروپ انشورنس نہ ملنے سے صرف کنبہ ہی نہیں خاندان بھی متاثر ھورہا ھے کیونکہ ہر ایک شخص ایک خاندان ھوتا ھے۔ بلاول نے اب بھی عقل نہ بکڑی تو ناکامی نامرادی ممکن ھے اس کا مقدر بھی بن سکتی ھے۔ اللہ اسی پر رحم و کرم کی بارش کرتا ھے جو حکمران اپنی رعایا عوام کیلئے زندگی آسان بناتے ہیں جو حکمران حقوق کی پاسداری کرتے ہیں۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



