*عنوان: اٹھائیس ارب کا گھوٹالا – کیا سچ کیا جھوٹ ؟؟*

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان: اٹھائیس ارب کا گھوٹالا – کیا سچ کیا جھوٹ ؟؟*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
شوشل میڈیا میں وائرل ہونے والی خبر نے ایکبار پھر مجھے چونکا دیا حکومتی سطح پر اس خبر کی نہ تصدیق کی گئی اور نہ ہی انکار۔ یوں لگتا ھے کہ حکومت اس معاہدہ کو صیغہ راز رکھنا چاہتی ھے حیرت و تعجب کی بات تو یہ ھے کہ اتنی بڑی رقم کے کرپشن ہونے کے باوجود ہماری میڈیا انڈسٹری میں بھی سانپ سونگ گیا۔ بحرحال یہ ماننا تو پڑیگا کہ کچھ تو گھوٹالا ھے کہ خبر کی زینت بنا چلو شوشل میڈیا ہی میں۔ یہ بات بھی حقیقت ھے کہ شوشل میڈیا کی خبریں سو فیصد جھوٹ پر منحصر ہرگز نہیں ہوتیں اب تو عوام بھی کہہ اٹھیں ہیں کہ اگر شوشل میڈیا میں سچ اور جھوٹ کے کیساتھ شوشل میڈیا میں خبروں کا سلسلہ جاری رہتا ھے تو الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا اب کونسا سو فیصد سچ و حق پر ھے۔ بحرکیف میں نے اس خبر کو اپنے کالم کا حصہ اس لئے بنایا ھے کہ ایسا عمل ہرگز نہیں ہونا چاہئے کیونکہ سولہ سال سے زائد سندھ میں حکومت کرنے والی واحد سیاسی جماعت پی پی پی نے سندھ بھر کے کتنے شہروں کتنے قصبوں کو دبئی پیرس امریکہ فرانس جرمنی برطانیہ جاپان اور چائنا کی طرح بنادیا جبکہ سولہ سال سے زائد ٹیکس و دیگر واجبات ان ترقیاقی ممالک سے زائد وصول کرتے چلے آرھے ہیں آخر وہ دولت کہاں جارہی ھے اداروں کے سربراہ اپنی پسند کے تعینات کیوں کئے جاتے ہیں اور احتساب و آڈٹ سے کیوں گھبراتے چلے آئے ہیں سوال تو بنتا ھے ۔۔۔ معزز قارئین!! اب ہم چلتے ہیں اس خبر پر جو شوشل میڈیا میں وائرل ہیں ” ورلڈ بینک نے اٹھاس ارب سندھ سرکار کو دئیے تاکہ دو لاکھ گھرانوں کو سولر پنکھے فراہم کرسکیں ، سندھ سرکار نے کسٹم حکام سے کاغذات بنوائے، جس کے مطابق ایک گھر کو دیا جانے والا پنکھا پلیٹ اور بلب ایک سو اکیاون ڈالر یعنی پینتالیس ہزار روپے میں ہم نے باہر سے منگوائے اور دے دئیے جبکہ حقیقت انتہائی بھیانک ہے۔ ورلڈ بینک کو انہوں نے پینتالیس ہزار رپوے دکھائے۔ اپنے ہی محکمے میں اسی چیز کی اصل قیمت ساڑھے چھ ہزار روپے کا ریکارڈ رکھا۔ لوکل میں ہی ایک کمپنی سے سب تیار کروایا اور پیکیج کو امپورٹڈ قرار دلوایا اور سب سے بڑا ظلم یہ کہ ہر غریب سے چھ ہزار وصول کرکے انکو یہ سسٹم فراہم کیا گیا یعنی جتنے کا سسٹم تھا وہ سارا پیسہ غریب سے وصول کیا گیا اور اس کا کریڈٹ بھی کرلیا گیا اور ورلڈ بینک سے حاصل اٹھائیس ارب بھی ڈکار لئے۔ آپ پوری انسانی تاریخ پڑھیں اپ کو اتنا حرام خور سسٹم کہیں نہیں مل سکتا۔” یہ تھی وہ تحریر جسے میں کالم لکھنے پر مجبور ہوگیا۔ سندھ جس کے پانچ ڈویژن ہیں اور وہاں لوکل گورنمنٹ کے مطابق نظام رائج ھے جہاں پانچ میئر بھی ہیں۔ کراچی سمیت تقریباً پانچوں ڈویژن میں میئر پی پی پی سیاسی جماعت کے ہی ہیں جو اپنی پارٹی کے ماتحت کام کررھے ہیں یہی نہیں بلکہ ننانوے فیصد بھی وزراء و سیکریٹریز پی پی پی ھم خیال ہیں خود وزیراعلیٰ سندھ بھی پی پی پی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھ حکومت کے کسی بھی پورٹل میں نہ تو حقائق جاری کئے گئے ہیں اور نہ ہی تفصیلات۔ سندھ بھر کی عوام کو جلسوں جلوسوں نعروں خطابات سے ٹال دیا جاتا رھا ھے۔ کرپشن بدعنوانی لاقانونیت اور بے انصافیوں کی طویل فہرست عیاں ہے۔ بے شرمی بےحیائی بیغیرتی جھوٹ و منافقت کی تمام رقمیں پیچھے چھوڑ دی ہیں انہیں لاکھ آئینہ دکھائیں احساس ہی نہیں ہوتا یا تو یہ خود کو جانور سے بدتر سمجھتے ہیں یا پھر عوام کو جو بھاری بھاری ٹیکس دیتی ھے اور ظلم و ناانصافی کو برداشت کرنے والی احمق ترین لوگ۔ اگر کراچی سمیت سندھ بھر کی شاہراہوں سڑکوں گلی محلوں کے راستوں کی جانب نظر اٹھتی ھے تو سوائے گڑھے گھڈے گندے پانی کے ڈھیر اور کیچڑ کے سوا کچھ سجائی نہیں دیتا یہ سندھ حکومت سالانہ کھربوں نہیں نربوں کماتی ھے اور اسی قدر کرپشن اور لوٹ مار بھی کرتی ھے مگر اپنی فطرت چوری ڈکیتی سے باز نہیں آتی۔ اگر پی پی پی کے جیالے بھٹو اور بینظیر سے مخلص ہیں تو انہیں انکی جماعت کو بدنام کرنا رسوا کرنا داغدار کرنا ذرا بھی زیب نہیں دیتا انہیں چاہئے کہ سندھ کی خالصتاً نیک نیتی کیساتھ ایمانداری و دیانتداری کیساتھ عوام کی خدمات سے جڑ جانا چاہئے۔۔۔۔!!



