*عنوان: امریکہ نسلیں صرف دس ڈالر میں بکتی ہیں*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: امریکہ نسلیں صرف دس ڈالر میں بکتی ہیں*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
دنیا کا سپر پاور اور ترقی یافتہ کہلانے والا ملک اخلاقی معاشرتی اور معاشی اعتبار سے نہایت غلیظ اور خباثت سے بھرا ہوا ھے، امریکہ میں مادیت پسندی اپنے عروج پر ھے یہاں انتہائی مہنگائی اور غربت کے سبب ایک عام سی زندگی گزارنے کیلئے تمام اخلاقی اور انسانی روایات پابندیوں کو مسمار کرنا ناگزیر ھوتا ھے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق امریکہ میں جسم فروشی صرف دس ڈالر میں میسر ہوتی ھے۔ اس وقت امریکہ میں تقریباً چودہ لاکھ خواتین صرف نامی ویب سائٹ پر آن لائن جسم فروشی کررہی ہیں۔ ان میں سے بارہ لاکھ عورتیں وہ ہیں جن کی عمر صرف اٹھارہ سے چوبیس سال کے درمیان ہے۔ جی ہاں! وہی "مضبوط آزاد خواتین” جنہیں دنیا کی سب سے بڑی معیشت، سب سے زیادہ حقوق، سب سے زیادہ آزادی، اور سب سے زیادہ مواقع میسر ہیں لیکن کمائی کا جو ذریعہ چنا، وہ ہے اپنا جسم بیچنا۔ امریکہ میں اٹھارہ سے چوبیس سال کی خواتین کی کل تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے یعنی ہر دس میں سے ایک امریکی نوجوان لڑکی آج صرف ایک ویب سائٹ پر اپنا جسم ننگا کر کے پیسہ کما رہی ہے اور یہ سب کچھ کتنا میں؟ صرف دس ڈالر فی سبسکرپشن
یعنی ایک عورت اپنے آپ کو ننگا کر کے، ہر طرح کے فحش انداز میں خود کو پیش کر کے، صرف دس ڈالر میں "آزادی” کا سودا کر رہی ہے۔ یہ وہی عورتیں ہیں جو کہتی ہیں: "ہمیں کسی مرد کی ضرورت نہیں! ہم خود مختار ہیں! شادی عورت پر ظلم ہے! باپ شوہر بھائی سب زنجیریں ہیں! اور جب یہی عورتیں ماں بنتی ہیں تو اکثر اوقات ڈی این اے ٹیسٹ بتاتا ہے کہ بچہ کس کا ہے، یہ بھی یقین سے کہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ طلاق کی صورت میں مرد کو اپنی کمائی کا حصہ دینا پڑتا ہے اور بچوں کی کسٹڈی ماں کو ملتی ہے، باپ صرف ایک اے ٹی ایم مشین بن کر رہ جاتا ہے اور نتیجہ؟ امریکہ میں اب مرد شادی سے ڈرتے ہیں، عورت سے بھاگتے ہیں، اور خاندانی نظام بکھرتا جارہا ہے۔ اب آپ یہ ساری باتیں اگر ہمارے معاشرے میں کریں، تو فوراً کچھ لوگ چیخ اٹھیں گے: یہ تو میل ڈامینیٹڈ سوسائٹی ہے! ہماری عورت دبی ہوئی ہے! اسے آزادی چاہیے کچھ ماہ پہلے میں کراچی پریس کلب گیا ھوا تھا وہاں عورت مارچ کی پریس کانفرنس تھی، پریس کانفرنس میں شریک ہوگیا کانفرنس کے اختتام پر میں نے سب سے پہلے سوال کیا تو ایک دوسرے کا منع تکنے لگیں اور جواب سے راہ فرار اختیار کی دکھ کی بات تو یہ ھے کہ اسلام مخالف، معاشرہ مخالف اور ریاست مخالف ان عناصر کو اس قدر ڈھیل کیوں دے رکھی ہے یقین جانیں بس وہ کیا ھے کیا دکھتی ہیں یقیناً ہمارے صاحب اختیار میں کچھ ہوس پرست ہونگے جو انکی محرکات کو برداش کئے ہوئے ہیں اگر کوئی صاحب ایمان اور صاحب کردار بااختیار وزیر و افسر ہوتا تو کب کا انکا قلع قمع کرچکا ہوتا۔ اسلامی ریاست میں شیطانی و دجالی نظریات کی کھلی دعوت آئین کیساتھ بغاوت ھے جو غداری اور سزائے موت کے زمرے میں آتا ھے افسوس تو اسی بات کا ھے کہ اس قدر نازک پہلو پر سپریم کورٹ اندھی گونگی بہری بنی بیٹھی ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! منٹو اگر آج کے دور میں ٹک ٹاک اور انسٹاگرام دیکھ لیتا، تو کبھی یہ نہ کہتا کہ عورت جسم کی نمائش صرف مجبوری میں کرتی ہے۔ اسے اندازہ ہوجاتا کہ یہ مجبوری نہیں، اب ایک "کامیاب بزنس ماڈل” ہے۔ سوچیں! کیا یہ ہے وہ ترقی، وہ آزادی، وہ روشن خیالی جسکا خواب ہمارے لبرلز دیکھتے ہیں؟ کیا یہی وہ مقام ہے جہاں ہم اپنی بیٹیوں کو لے جانا چاہتے ہیں؟ جو قومیں شرم و حیاء کا دامن چھوڑ دیتی ہیں، انکی نسلیں پھر صرف دس ڈالر میں بکتی ہیں۔۔۔۔!!




