کالم/مضامین

*عنوان: اسلامی جمہوریہ پاکستان سے اسلامی مملکت پاکستان تک

*بیدار ھونے تک*

*عنوان: اسلامی جمہوریہ پاکستان سے اسلامی مملکت پاکستان تک*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

اس بیس ویں صدی کی انتہائی معتبر بزرگ، روحانی و فکری شخصیت، اسلامی اسکالر و محقق، بے باک سچے ایماندار و دیانتدار ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ پاکستانیوں کو منافقت سے نکلنا ہوگا اور اس ریاست میں اللہ کا قانون نافذ کرنا ہوگا تب ہی ھم آزاد مملکت بن سکیں گے۔ انھوں نے اپنے خطابات سے ایک جانب امت مسلمہ کو بیدار کرنے میں شب و روز لگا دیئے تو وہیں دین کی اصل ترجمانی حقانیت کو واضع بھی کیا۔ آپ نے دین اسلام کو مراقبہ، مساجد، خانقاہ، آستانہ، تبلیغی مراکز سمیت کہیں بھی مقید ہونے سے منع فرمایا تاکہ تحقیق و غور فکر کیساتھ قرآن و سنت کے مطابق زندگی کو آزاد استوار کرسکیں اور بتایا کہ دین محمدی ﷺ کے مخالف و دشمن قطعی نہیں چاہتے ہیں کہ نظام ریاست و نظام حکومت اسلامی و شرعی انداز میں ہو۔ یہی سبب ھے کہ دنیا بھر کے ستاون اسلامی ممالک میں آپ ﷺ کی ریاست "ریاست مدینہ” اور خلفائے راشدین کے ادوار کا نظام مکمل کہیں نہیں عملی نظر آتا۔ آج اسلامی ممالک نام نہاد ہیں خاص طور پر پاکستان ۔۔۔ معزز قارئینٓ!! آج آپکی خدمت میں تاریخی تحریر پیش کررھا ھوں۔ اس سے آپ خود اندازہ لگا لیجئے کہ جمہوریت کیلئے یہ سیاستدان کیوں چمٹے ہوئے ہیں اور اسے شریعت سے زیادہ اہمیت و مقدم سمجھتے ہیں معزز قارئیں مورخ لکھتا ھے کہ ہیرا منڈی کا ایک دلال” مودا ماما ” کے نام سے مشہور تھا، اصل نام چوھدری محمود تھا، منڈی میں آنے والی بارہ چودہ سال کی ستر فیصد لڑکیوں کی نتھ اترائی اسی سے ہوتی تھی، بڑے بڑے لوگوں کو لڑکیوں کی سپلائی دیتا ایک لڑکی کی آٹھ دس بار نتھ اترائی کروا لیتا تھا۔ منڈی میں ایک لڑکی آئی اصل نام پتا نہیں کیا تھا لیکن دلبہار کے نام سے مشہور ہوئی، اس زمانے میں شریف گھرانوں کی لڑکیاں فلموں میں نہیں آتی تھیں، ستر فیصد ہیروئینوں کا تعلق ہیرا منڈی سے ہوا کرتا تھا، اشرافیہ بھی عیاشی کیلئے ہیرا منڈی کا رخ کیا کرتی تھی، ایسا ہی ایک عیاش سیاستدان غلام مصطفیٰ کھر تھا، غلام مصطفیٰ کھر کے دلبہار کیساتھ تعلقات تھے پھر دونوں نے شادی کرلی، غلام مصطفیٰ کھر گورنر پنجاب بنا اور ہیرا منڈی کی دلبہار پنجاب کی خاتون اول بنکر گورنر ہاؤس پہنچ گئی، وہ دن مودا ماما کی زندگی کا خوش ترین دن تھا، اس نے دیگیں پکوائیں اور پورے شاھی محلے میں بانٹیں، ہر ایک سے کہتا "ہمارا داماد گورنر بن گیا”، پھر یوں ہوا کہ غلام مصطفیٰ کھر کی بیٹی آمنہ حق ٹی وی اور گانوں کی ماڈل بن گئی، غلام مصطفیٰ کھر کی بیوی تہمینہ درانی نے اپنی کتاب "مینڈا سائیں” میں لکھتی ہیں "غلام مصطفیٰ کھر کی بدزبانی، گالی گلوچ، ہوس پرستی اور عورت بازی سے انکے اپنے خاندان کی کوئی خاتون محفوظ نہیں تھی، غلام مصطفیٰ کھر نے اپنی سالی یعنی تہمینہ درانی کی چھوٹی بہن عدیلہ سے ناجائز تعلقات قائم کرلئے تھے، احتجاج کرنے پر تہمینہ درانی کو ننگا کرکے مارا پیٹا تھا، پھر تہمینہ درانی نے شہباز شریف سے شادی کرلی۔ غلام نور ربانی کھر، غلام مصطفیٰ کھر کا بھائی ہے اور حنا ربانی کھر اسکی بیٹی ہے، غلام مصطفیٰ کھر اور دلبہار کی شادی زیادہ عرصہ نہیں چل سکی، طلاق ہوگئی تھی، مودا ماما نے سیاست شروع کی، سنہ انیس سو اٹھاسی عیسوی میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے بن گیا، نواز شریف نے بینظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد چلائی اور پیپلز پارٹی کے ایم این اے خرید لئے. مخدوم احمد عالم انور اور رئیس شبیر احمد معمولی رقم پر فروخت ہوئے، اس سے آپ کو سنہ دو ہزار بائیس عیسوی کی عدم اعتماد سمجھنے میں آسانی ہو جائیگی، نواز شریف نے مودا ماما کو بھی خریدنے کی کوشش کی، مودا نے کہا "صاحب جی یہ پیر، مخدوم اور رئیس بک جاتے ہیں، ہم کنجر لوگ ہیں ہم وفاداریاں تبدیل نہیں کرتے” دلبہار کی جوانی، اداکار حبیب اور نورجہاں کا گایا ہوا لازوال گانا "کہندے نے نینا، تیرے کول رہنا” تھا، دلبہار غلام مصطفیٰ کھر کی گرل فرینڈ تو نورجہاں زولفقار علی بھٹو کی، اور جنرل رانی، یحییٰ خان کی۔ زولفقار علی بھٹو سمیت ستر کی دہائی کی پوری کابینہ اٹھا کر دیکھ لیں، ایک سے بڑھ کر ایک عیاش شرابی کرپٹ حکمران سیاستدان اور چند ایک جرنلز بھی آپ کو ملیں گے۔ یہ تو تاریخ کا ایک ورق تھا ایسے کئی اوراق موجود ہیں یاد رکھئے حال بھی بے حال ھے کیونکہ حال میں مورثی نظام حاوی ہونے کے سبب برجمان ھے یاد رھے کہ اب ھم اور ھماری دوسری و تیسری نسل دو ہزار صدی میں انہی کی اولادیں اور رشتہ دار وطن عزیز پر برسر اقتدار ہیں، ستر کے بعد کی تاریخ کا مطالعہ کیا جو مورخ نے تحریر کیا تھا۔ اب جب پاکستان کے حکمرانوں و سیاستدانوں کی مورثی نظام کے تحت انکی اولادیں و رشتہ دار اقتدار پر برجمان ہیں کیا ان سے شرعی نظام کی توقع کی جاسکتی ھے؟؟ کیا ان سے عدل و انصاف کی امید رکھی جاسکتی ھے ؟؟ اور کیا ان سے پاکستانی عوام کی خوشحالی و ترقی ممکن ہوسکتی ھے؟؟ یہ آپ میرے معزز قارئین مجھ سے کہیں زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں جان سکتے ہیں۔ پاکستان میں تاریخ بتاتی ھے کہ ستر کی دھائی میں مذہبی سیاسی جماعتوں کا بہت اثر تھا یہی سبب تھا کہ زوالفقار علی بھٹو پر نو ستارہ سیاسی جماعت اور ایم آر ڈی کی تحریک نے نتائج اخذ کرلئے تھے۔ بھٹو کے بعد مذہبی تنظیموں کے اتحاد مفادپرستی اور خودغرضی میں پارہ پارہ ہوگئے لیکن جماعت اسلامی آج بھی اسلامی شریعت کے نفاذ کیلئے کھڑی ھے اور سود، شراب، زناکاری، عدم مساوات، اقربہ پروری، رشوت ستانی، لوٹ مار، کرپشن، لاقانونیت، کوٹہ سسٹم، نااہلیت، ناقابلیت اور شفارش جیسے غیر اخلاقی، غیر انسانی حقوق اور غیر شرعی عوامل کے خلاف نہ صرف آواز بلند کرتی چلی آرہی ھے بلکہ عدلیہ سے درخواست بھی کرتی رہی ھے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں کیساتھ ساتھ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی بھی اٹھ کھڑی ہوں اور نظام شریعت کیلئے بھرپور اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹیرین اور ریاست کو آئین پاکستان یاد دلائیں کہ پاکستانی آئین میں لکھا ھے کہ حکمرانی اللہ واحد کی ھے تو پھر اللہ کا قانون کیوں نہیں نافذ کیا جاتا۔ اس نظام جمہوریت کا خاتمہ جبتک نہ ہوگا پاکستان بد ترین دلدل اور غلاظت میں لپٹا ہی رہیگا۔ اب وقت کا تقاضہ ھے کہ نظام کی تبدیلی ناگزیر ھوچکی ھے اور پاکستان کو "اسلامی جمہوریہ پاکستان” کے بجائے "اسلامی مملکت پاکستان” بنانا چاہئے جسکا آئین مکمل شریعت پر لاگو اور اعلیٰ ترین عدالت شریعت کورٹ ہونی چاہئے۔ دعا ھے اللہ وہ دن جلد دکھائے آمین یا رب العالمین۔۔۔!!

{"remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:["local”],”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”photos_added”:0,”total_editor_actions”:{},”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You