کالم/مضامین

عنوان: آرمی چیف اور چیف جسٹس صاحبان، فیصلہ آپ دونوں کے ہاتھ ھے

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: آرمی چیف اور چیف جسٹس صاحبان، فیصلہ آپ دونوں کے ہاتھ ھے*

*کالمکار: بیدار ھونے تک*

دس اکتوبر سنہ دوہزار چوبیس کو پنجاب کالج میں ھونے والے واقعات نے جہاں انتظامیہ کی کارکردگی اور حصول عدل و انصاف کی قلعی کھول دی وہ اب دنیا سے چھپی نہیں رہی۔ لاکھ چھپانے دبانے دھمکی دینے کے باوجود میرا ایمان اور یقین ھے کہ اللہ تبارک تعالیٰ سے کچھ پوشیدہ نہیں۔ شیطانی اور خبیث قوتیں لاکھ سچ کو جھوٹ بنانے دکھانے کی کوشش کرلیں لیکن صدق نیت سے صاف و شفاف تحقیق حقیقت کو عیاں کردیتی ھے۔ رہی بات ان جھوٹے منافق عیار مکار بے شرم و بے حیا اور ظالم و جابر سیاستدانوں اور حکمرانوں کی کہ یہ مر تو سکتے ہیں مگر انکے حلق سے سچ نہیں نکلتا کیونکہ نام نہاد عوامی ہمدردی کے پیچھے جس قدر مکاریاں عیاریاں چھپی ہوتی ھے انہیں دیکھ کر خود شیطان ابلیس دنگ رہ جاتا ھے اور انہیں انسان نہیں بلکہ اللہ کی بدترین مخلوق تسلیم کرتا ھے۔ جناب
آرمی چیف اور جناب چیف جسٹس صاحبان، آپ دونوں سے دست بدست درخواست ھے کہ اللہ کے واسطے ایکبار قرآن ضرور پڑہیں اور دیکھیں کہ اللہ نے جھوٹوں پر کس قدر لعنت بھیجی ھے، پنجاب کالج کی شہید طالبہ کنزہ اب دینا میں نہیں رہی لیکن اس کی روح آپ دونوں سے انصاف طلب کررہی ھے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ان سیاستدانوں حکمرانوں اور انکے پالتو انتظامیہ درست سمت میں تفتیش کریگی تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوگی، آپ دونوں نے اس منصب پر اللہ واحد لاشریک نے ذات نے عطا کیا ھے وہی روز قیامت آپ سے با اثر اختیارات کے بابت ضرور پوچھے گا مجھے ڈر ھے کہ اگر آپ دونوں نے رب العزت کی ریاست پاکستان میں مظلوم و مجبور کی فریاد پر عملدرآمد نہ کیا تو رہتی دنیا میں کہیں آپ بھی اللہ کے غیظ و غضب کی گرفت میں نہ آجائیں، فیصلہ آپ دونوں کے ہاتھ ھے۔ ھم بحیثیت قوم آپ کو یاد دہانی کراسکتے ہیں کہ ان ظالموں کے خلاف سخت ترین اقدامات نہ کئے تو ظالم و جابر اور انکے سہولتکار وزراء و انتظامیہ اس ریاست پاکستان کو راکھیل بنادیں گے۔ زندگی کا کسی کا بھی بھروسہ نہیں کہ کب کس وقت رب کے روبرو پیش ہونا پڑے، موت برحق ھے اور موت سے قبل رب کی رضا جنت کی ہوا کی ضامن ہوتی ھے اور رب کی ناراضگی جہنم واجب ہوجاتی ھے اگر آپ دونوں نے فی الفور مظلوم طالبات کا ساتھ نہ دیا تو اللہ آپ دونوں کو دین و دنیا میں جس مقام رکھے گا آپ تصور نہیں کرسکتے بہتر یہی ھے کہ دنیا و حسب و نصب و دولت و منصب کے بجائے رب کی رضامندی کیلئے ہر چیلنج کا جواب دیں یقیناً جو رب کیلئے بڑھتے ہیں رب انہیں اپنی حفاظت رحمت اور کرم و فضل سے ڈھانپ لیتا ھے۔ اب فیصلہ آپ دونوں کے اختیار میں ھے کہ ظلم پر خاموش رہتے ہیں یا پھر فوری ایکشن۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You