عنوان: آج کا انسان کتے سے بہتر یا بدتر

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: آج کا انسان کتے سے بہتر یا بدتر ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
آج کا موضوع بہت بڑا اور اہمیت کا حامل ھے کیونکہ اللہ نے انسان کو اپنی تمام مخلوق میں اعلیٰ اور افضل ترین بنایا ھے اس کی وجہ اطاعت فرمانبرداری انکساری احساس درد ہمدردی محبت و پیار ایثار و قربانی جیسے جذبات و اعمال ہیں یہی وجہ ھے کہ اللہ نے وہ تمام راستے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر کرتے ھوئے مقدس ترین قرآن کو نازل کیا اور اس میں تفصیلی ہدایات و مشعل راہ پیش کیں جنھوں نے قرآن کو اپنی زندگی میں ھر وقت ساتھ رکھا پڑھا سمجھا اور عمل کیا وہ فلاح کی بلندی پر پہنچے اور مقامِ انسانیت و بندگی کو پایا جہاں خود فرشتے زیارت کو آتے ہیں دوسرا راستہ انسان کا ازلی دشمن شیطان ابلیس کا ھے جو انسان کو انسان بننے نہیں دیتا جو بندگی کے طریق پر چلنے نہیں دیتا اور ایسے انسان جو ابلیس کے شکنجے میں پھنس جاتے ہیں انہیں ابلیس جانور سے بھی بدتر کردیتا ھے اور ابلیس کے یہ غلام انتہائی غلیظ حرکات گندے کام کرنے میں قطعی ہچکچاہٹ تک محسوس نہیں کرتے ایسے لوگ نہ گندگی سے کراہیت کرتے ہیں اور نہ ہی گندے کام سے باز آتے ہیں ھم پندرہ ویں صدی میں ھیں یہ صدی دجالی فتنوں فسادات سے بھری پڑی ھے اس صدی میں ایمان بچانا انتہائی مشکل اور تکلیف دہ عمل ھوگیا ھے لیکن اسی مشکل راہ سے ایمان کو بچاتے ھوئے دنیائے فانی سے چلے جانا بڑے اعزاز و مرتبے کا مقام ھے۔ ھر انسان جانتا ھے کہ اس کا عمل کس طرح کا ھے آیا وہ ایمان فروش ھوگیا ھے یا ایمان یافتہ ھے بحرحال اب میں اپنے معزز قارئین کی خدمت میں ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ رحمۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ کا فرمان پیش کرتا ھوں آپ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ کہ ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ دس ﺻﻔﺎﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯿﮟ کہ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ وه بزرگی تک پہنچ جاتا ہے۔۔۔۔اول:- ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﮐﺮﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ، ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻗﺎﻧﻌﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺑﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔۔۔۔۔دوئم:- ﮐﺘﺎ ﺍﮐﺜﺮ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔۔۔۔سوئم:- ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺘﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺯﻭﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻏﺎﻟﺐ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺭﺍﺿﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔۔۔چہارم:- ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﯾﮧ ﺻﺎﺩﻗﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔۔۔۔پنجم:-ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﯿﻨﺘﺎ، ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔ششم:- ﺟﺐ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﻭﺭ ﺟﻮﺗﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺩﻧﯽٰ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺘﻮﻓﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔۔۔۔۔ہفتم:- ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﭘﮭﺮ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭨﮑﮍﺍ ﮈﺍﻝ ﺩﮮ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺁﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﯾﮧ ﺧﺎﺷﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔۔۔۔ہشتم:- ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﯾﮧ ﻣﺘﻮﮐﻠﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔۔۔نہم:- ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺤﺒﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔۔۔۔دہم:- ﺟﺐ ﻣﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﺍﺙ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ، ﯾﮧ ﺯﺍﮨﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نیکی کرنے اور نیکی کی تلقین کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔۔۔ معزز قارئین!! آپ مجھ سے کہیں زیادہ بہتر جانتے ہیں میں ابھی طفلِ مکتب ھوں کہ آج کا انسان عملی طور پر کہاں کھڑا ھے اور اسے کہاں کھڑا ھونا چاہئے جہاں انسانیت اور بندگی چمکتی دمکتی روشن تابناک نظر آتی ھو اللہ ھمیں عظیم انسانوں کی صحبت اور تربیت کا شرف بخشے آمین ثمہ آمین ۔۔۔۔!!


