زمین کی حفاظت ہم سب کی یکساں ذمہ داری ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

زمین کی حفاظت ہم سب کی یکساں ذمہ داری ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
پلاسٹک کی عالمی پیداوار ماحول کو کوئلے سے چلنے والے 6 سو پلانٹس کے برابر آلودہ کررہی ہے:گفتگو
زمین کی حفاظت اور آلودگی کے خاتمے کیلئے پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرتے ہوئے کپڑے کو فروغ دینا ہوگا:چیئرمین
زمین کے قدرتی نظام میں مداخلت سے زلزلوں،سمندری طوفانوں،خشک سالی اور قحط جیسی آفات کا سامنا ہے
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کی 22 اپریل عالمی یوم الارض پر خصوصی گفتگو
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے 22 اپریل عالمی یوم الارض پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زمین کی حفاظت ہم سب کی یکساں ذمہ داری ہے، بنی نوع انسان نے ضروری اور غیر ضروری سرگرمیوں سے زمین کے قدرتی نظام پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے جن کا خمیازہ ہم آج زلزلوں،سمندری طوفانوں،خشک سالی،وائلڈ فائرز اور قحط وغیرہ جیسی قدرتی آفات کی صورت میں بھگت رہے ہیں اور اگر مناسب اقدامات نا اٹھائے گئے تو مستقبل میں قدرتی آفات کی شرح مزید بڑھے گی،ورلڈ ارتھ ڈے دنیا کے تمام انسان سے اپنی زمین کی حفاظت کیلئے بلا تفریق آگے بڑھنے کا تقاضا کررہا ہے تاکہ انسانی بقا کو لاحق خطرات کم ہوسکیں،ایک رپورٹ کے مطابق پلاسٹک انڈسٹری فضائی صنعت سے زیادہ خطرناک ہے،پلاسٹک کی عالمی پیداوار ماحول کو کوئلے سے چلنے والے 6 سو پلانٹس کے برابر آلودہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پلاسٹک انڈسٹری ہر سال 2.5 ارب ٹن کارین ڈائی آکسائیڈ ماحول میں خارج کرتی ہے اور یہ 2050 تک دگنی متوقع ہے،بڑھتی ہوئی عالمی تپش 38 ہزار ارب ڈالر کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ زمین کی حفاظت اور آلودگی کے خاتمے کیلئے پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرتے ہوئے کپڑے کے بیگز کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔



