
راولپنڈی پولیس افسران کی جانب سے اپنے ہی ملازمین کیساتھ ناروا سلوک کا ایک اور مثال متاثرہ اہلکار کی زبانی
امید ہے سی پی او صاحب نوٹس لیں گے
آسلام و علیکم دوستو
۔میں ہوں محمد اکبر اے ایس آئی راولپنڈی پولیس سے اور اس وقت موجود ہوں کرکٹ سٹیڈیم کے باہر میچ سپیشل ڈیوٹی پر۔، ابھی ابھی مجھے پتہ چلا ہے کہ آج ایس پی راول ڈویژن راولپنڈی بابر جاوید جوئیہ نے مجھے اس بات پر ڈسمس کر دیا ہے کہ جب تین ماہ قبل میں ان کے ساتھ ریڈر تعینات تھا تو اسوقت تھانہ صادق آباد میں قبضے کا ایک مقدمہ درج ہوا اور میں نے ان کو انفارم نہیں کیا ۔
لیکن ڈسمسل کی اصل وجہ یہ نہیں بلکہ صرف اور صرف زاتی رنجش اور زاتی پسند نا پسند ہے
بھائیو میں پروبیشنر اے ایس آئی ہوں اور میں نے
ایم اے اردو ۔
ایم اے اسلامیات
۔ بی ایڈ ۔
اور ایل ایل بی
کی ڈگریاں لے رکھی ہیں میری تعلیم میرا ضمیر اور میرا شعور اس قسم کی زیادتی کو تسلیم نہیں کر پا رہا اور اس غیر قانونی سزا نے مینٹلی طور پر مجھے کافی ڈسٹرب کیا ہے۔ جو کہ صاحب موصوف نے زاتی پسند نا پسند کی بنا پر مجھے ڈسمس کر دیا ہے۔
جناب عالی میں نے اپنی زندگی کے قیمتی 21 سال اس محکمہ کو دیے ہیں اور پوری سروس میں ایک شکائت تک میرے خلاف رپورٹ نہیں ہوئی ۔ رزق دینے والی اللہ کی ذاتِ ہے اور میں اللہ پاک کی رضا پہ راضی ہوں ۔شاید اس ڈیپارٹمنٹ میں میرا اتنا ہی رزق لکھا تھا
لیکن التجاء یہ ہیکہ کیا اتنی سی بات پر میری سزا ڈسمسل بنتی ہے۔ ؟
یا ان صاحب لوگوں کی اپنی مرضی ہے کہ جس کو جب چاہا بغیر کسی وجہ کے ڈسمس کر دیا۔؟
کیا ان پر کوئی قوانین لاگو نہیں ہوتے ؟
۔کیا ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؟ ..ہمیں تحفظ کون دے گا۔؟؟؟
میں اس غیر قانونی سزا کے خلاف با ضابطہ طور پر بھی معزز عدالت عالیہ ہائی کورٹ سے رجوع کر کے رٹ بھی دائر کروں گا اور انشاء اللہ انصاف ملے گا ۔
میری آپ تمام بھائیوں سے اور خاص کر میڈیا کے دوستوں سے میری التجا ہے کہ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے میری آواز ارباب اختیار
محترم جناب سی پی او صاحب
محترم آرپی او صاحب راولپنڈی
محترم آئی جی صاحب پنجاب ۔
معزز چیف جسٹس صاحب ہائی کورٹ۔
محترم جناب وزیراعلی صاحب پنجاب
محترم جناب زیراعظم صاحب پاکستان
محترم جناب صدر پاکستان
اور تمام افسران و ارباب اختیار تک پہنچانےاور مجھے انصاف دلوانے میں میرا ساتھ دیں شکریہ



