راولپنڈی : مشہور مقدمہ کیس فرح زہرہ ڈاکٹر محمد ممتاز ہنجرا سول جج درجہ اول جوڈیشل مجسٹریٹ
راولپنڈی : مشہور مقدمہ کیس فرح زہرہ ڈاکٹر محمد ممتاز ہنجرا سول جج درجہ اول جوڈیشل مجسٹریٹ سیکشن 30 عدالت میں پیشی کے موقع پر فرح زہرہ نے جج سے کہا عدالت میں کیمرے کیوں لگے ہیں
جج نے جواب دیا کیمرے آپ کے لیے نہیں میرے لیے لگے ہیں
فرح زہرہ ۔کیا یہ کیمرے ریکارڈ کرتے ہیں
جج صاحب ۔جی کرتے ہیں
جج نے کہا کیا آپ کو کوئی جیل میں ملنے آتا ہے
فرح زہرہ ۔ ایک بار بھائی آیا تھا اس کے بعد وہ بھی نہیں آیا اور کوئی نہیں آتا
جج ۔ کیا آپ کے شوہر آپ سے ملنے نہیں آئے
فرح زہرہ۔ جن کے شوہر ہوتے ہیں وہ جیل میں نہیں ہوتیں
میں بیس دن سے جیل میں ہوں اور مجھے سخت ازیت دی جا رہی ہے اور ایف آئی آر میں میرا نام نہیں ہے اٹھارہ دن کے بعد مجھے ایف آئی آر کی کاپی ملی ہے
جج نے سرکاری وکیل سے کہا ۔ان کا چالان کیوں نہیں پیش ہوا ابھی تک چودہ دن میں چالان عدالت میں پیش کرناتھا
سرکاری وکیل ۔آئی او نے چالان پیش نہیں کیا
جج ۔مجھے آج کی تاریخ میں چالان عدالت میں چاہیے آئی او نے چالان پیش نا کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے




