اہم خبریںپنجاب

راولپنڈی : سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی محمدعارف خان نیازی نے سرکاری

راولپنڈی : سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی محمدعارف خان نیازی نے سرکاری اراضی پر ولائیت کمپلیکس کی تعمیر کے مقدمہ میں نامزد ممتاز مسلم لیگی رہنما و سابق سینیٹر چوہدری تنویر احمد خان کے جسمانی ریمانڈ میں 2یوم کی توسیع کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدائیت کی ہے کہ مقدمہ کا مکمل ریکارڈ،

اس پر ہونے والی انکوائری بشمول انکوائری افسر کابیان بھی عدالت میں پیش کیا جائے اور محکمانہ انکوائری کے احکامات کو نظر انداز کرنے کی وجہ بھی بتائی جائے عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ اینٹی کرپشن نے مختلف دستاویزات کی برآمدگی کرنا ہے جس کے لئے ملزم جسمانی ریمانڈ درکار ہے عدالت نے 2روز کا جسمانی ریمانڈ جاری کرتے ہوئے سرکل افسر کو سختی سے ہدائیت کی کہ آئندہ تاریخ تک تمام تفتیش مکمل کی جائے گزشتہ روز چوہدری تنویر کو سخت حفاظتی حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے وکیل نے گزشتہ سال 17مئی کاآر ڈی اے کا لیٹر نمبرRDA/DG/203/2021عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس مقدمہ میں آر ڈی اے مستغیث ہے جس میں آر ڈی اے اہلکاروں پر اختیارات سے تجاوزکا بھی الزام ہے جبکہ مذکورہ لیٹر کے تحت فریقین میں طے پایا تھا کہ اس جائیداد کے متعلق محکمانہ انکوائری نہ کی گئی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی لے آؤٹ رپورٹ تھرڈ پارٹی ریکارڈ پر ہے اس لیٹر کے تحت ڈی جی آر ڈی اے نے معاملہ کی مزید کاروائی سے قبل انکوائری رپورٹ کو ضروری قرار دیا ہے اس طرح محکمانہ کاروائی اور دیگر مواد و ریکارڈ کے بغیر مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ مقدمہ کے تفتیشی و سرکل افسرنے بھی اس لیٹر سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے یاد رہے کہ اینٹی کرپشن نے 8مارچ کو راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی(آر ڈی اے) کی ڈائریکٹر جنرل عمارا خان کی مدعیت میں چوہدری تنویر کے علاوہ آر ڈی اے کے 11افسران و اہلکاروں کے خلاف اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعہ5/2/47سمیت تعزیرات پاکستان کی دفعات 420، 467، 741، 409اور167کے تحت مقدمہ نمبر 09درج کیا تھا دی جی آر ڈی اے کی جانب سے ڈی جی اینٹی کرپشن کو دی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ولائیت کمپلیکس سے قبل 31اگست2009کو موضع کوٹھہ کلاں میں 199.5کنال اراضی پر ٹاؤن سینٹر سکیم کے نام سے درخواست دی گئی تھی اور30اپریل2010کو اس کی باضابطہ منظوری دی گئی جس کے بعد جنوری اور اگست2011کے بعد فروری2012میں اس سکیم کے ایل او پی پر 3مرتبہ نظر ثانی کی گئی ریکارڈ کے مطابق مذکورہ اراضی کا فرد،این ای سی اور قبضہ کی دستاویزات سمیت تمام متعلقہ اشیا اسٹیٹ ڈویلپرزپرائیویٹ لمیٹڈ کی ملکیت تھی بعد ازاں یہ بات مشاہدے میں آئی کہ اسٹیٹ ڈویلپرزپرائیویٹ لمیٹڈ نے ایل او پی کی صریحا خلاف ورزی کی جس میں 2منزلہ سکول کی عمارت جزوی طور پر اس حصے پر تعمیر کی گئی جو جگہ اوور ہیڈواٹرٹینک کے لئے مختص تھی اسی طرح پارک، مسجد اور کمیونٹی سینٹر کے لئے مختص جگہ کو کمرشل استعمال میں لا کر وہاں عارضی بازار بنا دیا گیا اسی طرح پلاٹ نمبر26،27،28،29، 37،38، 48،79، 80،81، 82، 84 اور94پر بھی غیر منظور شدہ غیر قانونی تعمیرات کی گئیں اس طرح مذکورہ اراضی کے مجموعی طور پر199.5کنال کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی جگہ215کنال پر ولائیت کمپلیکس تعمیر کیا گیا جس پر فریقین کو غیر قانونی سرگرمیوں پرپنجاب ڈویلپمنٹ سٹیزایکٹ 1976 کے تحت باقاعدہ نوٹس اور چالان بھی جاری کئے گئے جس پر اراضی مالکان اور الاٹیوں نے سول عدالتوں میں کیس دائر کر کے حکم امتناعی حاصل کر لئے اس حوالے سے 5جنوری2020کوریونیو ڈیپارٹمنٹ کی نشاندہی پر اے سی صدر کی سربراہی میں شاہراہ اعظم پرخسرہ نمبر2479/1میں واقع حمید مارکی اور کنٹری مارکی سمیت دیگراراضی واگزار کرانے کے لئے آپریشن کیا گیا اور25جائیدادیں سربمہر (سیل)کی گئیں بعد ازاں 15مالکان نے غیر قانونی طور پرسیل توڑ دیں جن کے خلاف21 فروری2020 کو تھانہ روات میں 15ایف آئی آرز درج کروائی گئیں جس پر اراضی مالکان نے آر ڈی اے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی درخواست میں کہا گیا کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور آر ڈی اے کے متعلقہ سٹاف کی ہونے والی ڈیمارکیشن اور لے آؤٹ پلان کو نظر اندازکر کے شاہراہ اعظم پر من پسند غیر قانونی تعمیرات سے نہ صرف اسٹیٹ ڈویلپرزپرائیویٹ لمیٹڈ کو فائدہ دیا گیا بلکہ ولائیت کمپلیکس کی غیر قانونی تعمیر سے ھکومتی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا بعد ازاں اینٹی کرپشن نے انکوائری کے بعدسابق سینیٹر چوہدری تنویر خان،میسرز اسٹیٹ ڈویلپرز پرائیویٹ لمیٹڈ، آر ڈی اے کے ڈائریکٹر جمشید آفتاب،ڈپٹی ڈائریکٹر سمیع اللہ نیازی،ایم پی اینڈ ٹی ای کے سکیم سپرنٹنڈنٹ رانا محمدطارق،شفقت محمود،سکیم انسپکٹرشہزاد محمود،ڈائریکٹر (ایل ڈی اینڈ ای ایم)شجاع علی،ڈپٹی ڈائریکٹرراوت علی قریشی ومحمد اعجاز،اسسٹنٹ ڈائریکٹر عاطف محمود چوہدری اوربلڈنگ سپرنٹنڈنٹ شفیق الرحمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اس مقدمہ میں چوہدری تنویر کو12مارچ کو کراچی سے حراست میں لیا تھا۔

راولپنڈی : (افتخار خٹک سے رپورٹ)

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You