اہم خبریںپنجاب

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی خرم سلیم مرزا نے امریکی نژاد خاتون

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی خرم سلیم مرزا نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے قدمہ میں اس کے سابق لیگل ایڈوائزر کی ضمانت قبل از گرفتاری کی مدت میں 4یوم کی توسیع کرتے ہوئے ہدائیت کی ہے کہ3جنوری کو تمام ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے قبل ازیں عدالت نے مقتولہ کے کے لیگل ایڈوائزرسید قمر علی شاہ کی عبوری ضمانت28دسمبر تک منظور کی تھی جس پر پولیس نے ریکارڈ پیش کرنا تھا اور فریقین کے وکلا نے دلائل دینا تھے تاہم گزشتہ روز عدالت میں ریکارڈ پیش نہ کیاگیا یاد رہے کہ مغویہ کے لیگل ایڈوائزرسید قمر علی شاہ نے چوہدری ایم فرخ جاوید اور محمد علی حسنین کے ذریعے عدالت میں دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ایک وکیل ہے اور بطور وکیل پریکٹس کرتا ہے درخواست گزار کو مقامی پولیس قربانی کا بکرا بنا کر ایک ایسے کیس میں بے بنیاد ملوث کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے اس کا کوئی تعلق نہ ہے اس مقصد کے لئے متعلقہ پولیس اسے گرفتار کرنے کے لئے چھاپے مار رہی ہے اور ہراساں کر رہی ہے حالانکہ درخواست گزار نہ تو اس مقدمہ میں نامزد ہے اور نہ ہی اسے کسی انکوائری کے لئے بلایا گیا ہے اس طرح اس واقعہ میں کوئی شہادت نہ ہونے کے باوجود پولیس اس کیس کو درخواست گزار سے منسوب کرنا چاہتی ہے درخواست گزار ایک باعزت شہری ہے جس کے خلاف کبھی کوئی کرمنل کیس نہیں ہے لیکن پولیس نہ جانے کس رنجش اور دشمنی کی بنا پر اسے مقدمہ میں ملوث کرنا چاہتی ہے جبکہ درخواست گزار اس حوالے کسی بھی قسم کی تحقیقات میں پولیس کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہے لہٰذا درخواست گزار کی عبوری ضمانت منظور کر کے پولیس کو گرفتاری اور چھاپوں سے روکا جائے قبل ازیں سید قمر علی شاہ کی جانب سے عدالت میں دائر ایک الگ درخواست میں موقف اختیار کیا گیاتھا کہ مقامی پولیس نے اس کے2موبائل فون (OPPO-F3اورآئی فون)کے علاوہ سکیورٹی کیمروں کی ڈی وی آر بھی قبضہ میں لے رکھی ہے جس کے لئے پولیس نے نہ تو کوئی رسید جاری کی اور اور نہ قبضہ میں لی جانے والی چیزوں کو پولیس ریکارڈ کا حصہ بنایا عدالت کے استفسارپر کمرہ عدالت میں موجود مقدمہ کے تفتیشی نے تسلیم کیا کہ موبائل فونز اور ڈی وی آر تحقیقات کی غرض سے قبضہ میں لی گئی ہیں اور وہ باضابطہ طور پر تحقیقات کا حصہ ہیں تفتیشی افسر نے بتایا کہ قبضہ میں لئے گئے فون اور ڈی وی آرمقامی پولیس کی آئی ٹی برانچ کی تحویل میں ہیں اور ان اشیا کو بلاتاخیر ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے اور قوی امکان ہے کہ اس سے تحقیقات میں کافی مدد ملے گی گزشتہ روز عبوری ضمانت کی درخواست کی ابتدائی سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکلا نے وکالت نامے جمع کروائے اس دوران درخواست گزار سید قمر علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ ہری پور کا رہنے والا ہے پیشے کے اعتبار سے وکیل ہے اور ہری پور میں ہی پریکٹس کرتا ہے درخواست گزار کا موقف تھا کہ چونکہ وہ مغویہ کا لیگل ایڈوائزر تھا اس لئے ضرورت کے وقت مغویہ اس سے رابطہ کرتی تھی۔

راولپنڈی : (افتخار خٹک)

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You