
راولپنڈی (افتخار خٹک) سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ عمران قریشی نے 12 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتارنے کے مقدمہ میں نامزد مرکزی ملزم کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ 11 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گزشتہ روز تھانہ بنی پولیس نے مقدمہ میں نامزد گھر کے مالک راشد شفیق کو مجموعی طور پر 12 روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم کے ڈی این اے سمیت تمام تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے لہٰذا اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا جائے عدالت نے پولیس کی استدعا پر راشد شفیق کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ جیل بھجوادیا واضح رہے کہ عدالت نے راشد شفیق کی اہلیہ و مقدمہ کی شریک ملزمہ ثنا شفیق کو 17 فروری کو پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا تھا جسے 7 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا یاد رہے کہ تھانہ بنی پولیس نے 11 فروری کو گھر کے مالک راشد شفیق ، اس کی اہلیہ ثناء راشد اور دوسری ملازمہ روبینہ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 302/34، 328 اے اور 342 کے تحت مقدمہ نمبر 204 درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ انہوں نے 12 سالہ گھریلو ملازمہ اقرا پر بہیمانہ تشدد کیا جس سے اس کی حالت تشویشناک ہو گئی جو بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی۔




