راولپنڈی (افتخار خٹک)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی فیصل رشید نے تحریک انصاف

راولپنڈی (افتخار خٹک)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی فیصل رشید نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے استقبال کے لئے موٹر وے چوک بلاک کرکے کار سرکار میں مداخلت سمیت دیگر دفعات کے تحت درج مقدمہ میں نامزدوزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی عبوری ضمانت کنفرم کردی ہے عدالت نے درخواست گزار کو 20 ہزار روپے کے تازہ شورٹی بانڈ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر علی امین گنڈا پور اپنے وکیل ملک محمدفیصل ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جہاں پر فریقین کے وکلا نے درخواست ضمانت پر دلائل دیئے سماعت کے بعد عدالت نے علی امین گنڈا پور کو جانے کی اجازت دے دی بعد ازاں عدالت نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ مقدمہ میں درخواست گزار کے کسی کردار کا تعین نہیں کیا گیا جبکہ ایف آئی آر بھی 36 گھنٹے تاخیر سے درج کی گئی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 188 کے علاوہ دیگر دفعات قابل ضمانت ہیں جبکہ اسی مقدمہ میں نامزد سرور خان، جاوید کوثر، راجہ بشارت اور واثق قیوم عباسی کی ضمانتیں پہلے ہی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت سے 29 مارچ کو کنفرم ہو چکی ہیں عدالت نے علی امین گنڈا پور کی ضمانت کنفرم کرتے ہوئے 20 ہزار روپے کے تازہ شورٹی بانڈ جمع کرانے کا حکم دیا ہے یاد رہے کہ تھانہ نصیر آباد پولیس نے گزشتہ سال19مارچ کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 188، 341، 148، 149 اور186 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ 18 مارچ کو تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کی اسلام آباد کی سیشن عدالت میں پیشی کے موقع پر پنجاب حکومت نے امن و امان کے خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی اس دوران تحریک انصاف کے مقامی قائدین غلام سرور خان، عارف عباسی، واثق قیوم عباسی، عمر تنویر بٹ، فیاض الحسن چوہان، چوہدری افضل پڑیال، عمار صدیق خان، راجہ بشارت، چوہدری جاوید کوثر، فرخ محمود سیال، علی امین گنڈاپور اور سیمابیہ طاہر ڈنڈوں اور سوٹوں سے مسلح 150/200 کارکنان کے ہمراہ سابق چیئرمین کے استقبال کے لئے موٹر وے ٹول پلازہ پر جمع ہو گئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی روڈ کو بلاک کر دیا اور خلاف قانون مجمع کی شکل اختیار کر لی جن کو دفعہ 144کے نفاذ سے متعلق بتایا اور روڈ بلاک کرنے سے منع کیا لیکن وہ مشتعل ہو گئے اور کار سرکار میں مداخلت شروع کر دی اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کافی دیر روڈ بلاک رکھا عدالت نے اس مقدمہ میں 16 اپریل کو 50ہزار روپے کے مچلکوں اور ایک شورٹی بانڈ پر علی امین گنڈا پور کی عبوری ضمانت منظور کی تھی دریں اثنا سماعت کے بعد میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہمارے ملک میں بار بار آئین توڑا جاتا ہے اگر ایک مرتبہ کسی کو آئین توڑنے کے جرم میں آرٹیکل6کے تحت سزائے موت دے دی جائے تو دوبارہ کسی کو جرات نہیں ہو گی انہوں نے کہا کہ حالیہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن نے بھی آئین توڑا جس نے پہلے آئین توڑا پھر اس کی غلط تشریح کی انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان واپس لے لیا گیا اور پھر کہا گیا کہ ہم نے تو نشان واپس لیا ہے پارٹی ختم نہیں کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین نے ہمیشہ یہ کہا کہ میں مذاکرات کے لئے تیار ہوں لیکن ہمارا موقف ہے کہ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا پہلے ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے اورحکومت پہلے جعلی مقدمات واپس لے پھر مذاکرات ہوں گے انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاسی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا ہمارے خلاف عداری کے مقدمات درج کئے گئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں حتمی فیصلوں کا اختیار آج بھی عمران خان کے پاس ہے کیونکہ ہمارا لیڈ ر سابق چیئرمین ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں ن کہا کہ پارٹی اختلافات کے علاوہ بھی اس وقت پاکستان کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں سابق چیئرمین یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل پر بات کی جائے اور بڑے قومی چیلنجز پر توجہ دی جائے انہوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں عزم استحکام پر بات ہوئی تھی کسی آپریشن پر کوئی بات نہیں ہوئی بھوک ہڑتال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر سابق چیئرمین نے جیل میں بھوک ہڑتال کی تو یہ صرف ان کی بھوک ہڑتال نہیں ہو گی بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے ووٹر اور سپورٹر بھوک ہڑتال کریں گے انہوں نے کہا کہ اس وقت وفاقی حکومت جو کام کر رہی ہے وہ آئیں کے خلاف ہے اور انصاف کے منافی ہے اس ملک میں سزا اور جزا نہیں ہو رہی ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں جعلی اور بے بنیاد مقدمات میں بانی پی ٹی آئی جیل میں قید ہیں انہوں نے کہا کہ اس قوم کو انصاف کہاں سے ملے گا ہماری لیگل ٹیم اس وقت عدالت میں ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا جلسہ ہو گا انتظامیہ کو چاہئیے اپنے حکم پر عمل درآمد کروائیں مریم نواز ایک خاتون ہے ہم نے لحاظ کیا اور ہمارے کلچر میں یہ نہیں ہے پوری قوم کو پتہ ہے کہ عدلیہ پر دباو ہے ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں موجودہ حکومت کندھوں پر ہیں،عدلیہ میں فئیر ٹرائل ہوا تو سب سامنے آئے گا پرویز خٹک نے پارٹی چھوڑی ہے، ڈر کر پشتونوں کی ناک کاٹ دی اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا فیصلہ ہے نواز اور زرداری کے خلاف تھانہ کینٹ میں پہلے ہی ایک مقدمہ پڑا ہوا ہے خاتون وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کرنا ہوا تو وہ بھی ہوگا۔




