راولپنڈی (افتخار خٹک)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی رانا سہیل نے سابق رکن صوبائی اسمبلی و تحریک انصاف کے سابق رہنماچوہدری عدنا ن قتل کیس میں نامزد مسلم لیگی رہنما سینیٹر چوہدری تنویر، ان کے 2بیٹوں اور بھائی کی عبوری ضمانتوں پر فریقین کے وکلاکے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیایہ فیصلہ آج (بروز بدھ)سنائے جانے کا امکان ہے گزشتہ روز عبوری ضمانتوں کی درخواستوں پر فرقیقن کے وکلا نے دلائل دیئے تاہم تمام ملزمان کے موجود نہ ہونے پر عدالت نے ضمانتیں کنفرم کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا عدالت نے ہدائیت کی کہ آج (بروز بدھ)تمام ملزمان عدالت میں حاضری یقینی بنائیں یاد رہے کہ تھانہ سول لائنز پولیس نے سابق رکن صوبائی اسمبلی چوہدری عدنان کے قتل میں مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر چوہدری تنویر ان کے چوہدری دانیال، اسامہ تنویر اور بھائی چوہدری چنگیز سمیت 5افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا یہ مقدمہ مقتول چوہدری عدنان کے برادر نسبتی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے تعزیرات پاکستان کی دفعات302/34، 109 اور 201کے تحت درج مقدمہ نمبر 253کے مطابق چوہدری عدنان اپنی اسلام آباد نمبر کی پراڈو گاڑی نمبر سی جے100کو خود ڈرائیو کر رہے تھے جبکہ پچھلی سیٹ پر فضل ربی اورچوہدری ظہیر خان کے علاوہ پچھلی لینڈ کروزرنمبرایس ٹی سی 4677پر زاہد حفیظ اور احتشام سخاوت بھی موجود تھے عسکری13میں ہاؤسنگ کے دفتر سے واپسی پر جناح پارک کے قریب اشارے پر شلوار قمیص میں ملبوث 2نامعلوم افراد نے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب سے چوہدری عدنان پر اس وقت اندھادھند فائرنگ کر دی جب گاڑی اشارے پر رکی ہوئی تھی جس سے گولیاں مقتول کے چہرے اور سینے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر لگیں جبکہ حملہ آور سڑک کے دوسری جانب موجود موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے مقدمہ کے متن کے مطابق مقتول کی سیاسی معاملات اور سرکاری زمین واگزار کرانے پرچوہدری تنویر، چوہدری چنگیز خان، دانیال چوہدری اور اسامہ تنویر سے رنجش کے علاوہ کاروباری معاملات میں لقمان کامل سے زمین کی خریدوفروخت کے مقدمات چل رہے ہیں جس پر چوہدری عدنان اکثر کہتا تھا کہ مجھے ان لوگوں سے جان کا خطرہ ہے اور مجھے کچھ ہوا تو یہ افراد ذمہ دار ہوں گے رواں سال12فروری کی رات تھانہ سول لائن کے علاقے پولیس لائنز کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے عدنان چوہدری جان کی بازی ہارگئے تھے۔




