تقریباً 50 فیصد دماغی امراض 14 سال کی عمر سے شروع ہوتے ہیں، موجودہ دور میں تقریباً ایک بلین لوگ

*تقریباً 50 فیصد دماغی امراض 14 سال کی عمر سے شروع ہوتے ہیں، موجودہ دور میں تقریباً ایک بلین لوگ ذہنی عارضے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال آفریدی*
*پاکستان میں اگر کسی کو اس طرح کی نایاب بیماری ہوتی ہے تو وہ اس کی تشخیص کرانے کے بجائے مالش اور دم درود کرانے میں لگ جاتے ہیں، ہمیں افسانوں سے نکل کر سائنس کی حقیقت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی*
*عالمی سطح پر 300 ملین سے زیادہ لوگ ایک نایاب بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، 72 فیصد نایاب بیماریاں جینیاتی ہوتی ہیں اور ان میں سے 70 فیصد جینیاتی نایاب بیماریاں بچپن میں شروع ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر افشین عارف*
*مصنوعی ذہانت کی مدد سے بیماریوں کی تشخیص اورعلاج میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر عطاالرحمن*
کراچی (رپورٹ : جاوید صدیقی) معروف ماہر طب نفسیات پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے کہا کہ دنیا کی آدھی یا ایک چوتھائی آبادی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ذہنی عارضے سے متاثر ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر آٹھ میں سے ایک شخص ذہنی عارضے کا شکار رہتا ہے۔ موجودہ دور میں تقریباً ایک بلین لوگ ذہنی عارضے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں 75 فیصد سے زیادہ لوگ اس عرضے میں مبتلا اور علاج کرانے سے قاصر ہیں۔ ہر سال تقریباً 30 لاکھ افراد نشہ آور اشیاء کے استعمال کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ تقریباً 50 فیصد دماغی امراض 14 سال کی عمر سے شروع ہوتے ہیں۔ خودکشی نوجوانوں میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے اور ہر سال آٹھ لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام گزشتہ روز عالمی یوم نایاب امراض کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر اقبال آفریدی نے مزید کہا کہ 2011 ء تا 2030 ء کے مابین دنیا بھر میں ذہنی عوارض سے وابستہ مجموعی اکنامک آؤٹ پٹ کے نقصان کا تخمینہ 16.3 ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے اور براہ راست اور بلواسطہ اخراجات کسی ملک کی جی ڈی پی کا پانچ فیصد ہوسکتے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر میں ایسی نایاب اقسام کی بیماریاں ہوتی ہیں جس میں ہمارا ادراک اور ہماری سوچ خراب ہوجاتی ہے اور ان نایاب امراض کا کوئی بھی شکار ہوسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے آگاہی فروغ دیی جائے اور نایاب امراض کی روک تھا کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ دنیا بھر میں ڈیٹا کی بنیاد پر نایاب امراض میں اضافے کی بات کی جاتی ہے کیونکہ کسی بھی چیز پر تحقیق اور درست اعداد و شمار جاری کرنے کے لئے ڈیٹا ناگزیر ہوتا ہے، بد قسمتی سے پاکستان آج تک آبادی کے درست اعداد و شمار جاری نہیں کرسکا۔ ہمارے یہاں اگر کسی کو اس طرح کی نایاب بیماری ہوتی ہے تو وہ اس کی تشخیص کرانے کے بجائے مالش اور دم درود کرانے میں لگ جاتے ہیں، ہمیں افسانوں سے نکل کر سائنس کی حقیقت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہمار المیہ یہ ہے کہ ہم امراض کی تشخیص کے لئے منگوائے جانے والی مشینوں کے لئے بھی یورپی یونین اور مغربی ممالک کی جانب سے عطیہ کا انتظار اور پھر اس کے بعد پہلا سینٹر قائم کرتے ہیں۔ ہمیں ان امراض کو سنجید گی سے دیکھنے اور اس حوالے سے آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ نامور سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک جہاں عام لوگوں کے لیے صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ مختلف اقسام کی بیماریاں عام ہیں نہ صرف یہ بلکہ بہت سی بیماریوں کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی لیکن مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔ موجودہ دور مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کا ہے اور اس کا استعمال ہر شعبہ ہائے زندگی میں بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نایاب امراض کی تشخیص اور علاج کے لئے آگاہی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر عطاالرحمن نے مزید کہا کہ نایاب بیماری میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال جینیاتی اور کلینیکل کے بڑے ڈیٹاسیٹس کا تجزیہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ پیٹرن کی شناخت، بیماری کے نتائج کی پیشن گوئی اور ممکنہ علاج دریافت کیا جاسکے۔ ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کی پروفیسر ڈاکٹر افشین عارف نے کہا کہ عالمی سطح پر 300 ملین سے زیادہ لوگ ایک نایاب بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، 72 فیصد نایاب بیماریاں جینیاتی ہوتی ہیں اور ان میں سے 70 فیصد جینیاتی نایاب بیماریاں بچپن میں شروع ہوتی ہیں۔ مغرب میں پانچ ہزار پیدائشوں میں سے کوئی ایک نایاب بیماری کا واقع سامنے آتا ہے جبکہ ایشیائی ممالک میں جہاں آپس میں شادیاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک نایاب امراض کی شرح زیادہ ہے۔ انہوں نے قطر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ قطر میں آپس کی شادیوں کی شرح 40 فیصد اور نایاب امرض کے واقعات 1300 میں سے ایک واقع سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں آپس کی شادیوں کی شرح تقریباً 60 فیصد ہے لیکن تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے ہم تاحال پاکستان میں پائے جانے والے نایاب امراض کی درست اعداد و شمار کا تعین کرنے سے قاصر ہیں۔ ضیاء الدین میڈیکل یونیورسٹی اسپتال کی ڈاکٹر نجمہ پٹیل نے کہا کہ پاکستان میں نایاب امراض کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اور پاکستان میں نایاب امراض کی تشخیص اس سے متعلق دیگر تفصیلات پر اپنی تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔




