بھاری جرمانے، سخت قوانین اور احتجاج… مسئلہ کہاں ہے؟

بھاری جرمانے، سخت قوانین اور احتجاج… مسئلہ کہاں ہے؟
تحریر: چوہدری سجاد مشتاق مہر
پنجاب میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی نئی لہر نے ایک بار پھر ٹرانسپورٹ کے پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بھاری جرمانے، کڑی نگرانی، اور ناکوں پر سخت چیکنگ—یہ سب کچھ قانون کے مطابق ضرور ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ اتنی اچانک ہونا چاہیے تھا؟ قانون تو پہلے بھی موجود تھا، پابندیاں اور شرطیں بھی نئی نہیں، لیکن جب جرمانوں کی رقم اتنے بڑے پیمانے پر بڑھا دی جائے کہ عوام اور ٹرانسپورٹر دونوں ہی ایک جھٹکے میں سانس نہ لے سکیں، تو پھر احتجاج، ہڑتالیں اور بد نظمی لازمی نتیجہ بن جاتی ہے۔
اصل مسئلہ جرمانہ نہیں، بلکہ وہ رفتار ہے جس سے قانون کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ معاشرے میں کوئی بھی فیصلہ اس وقت پائیدار بنتا ہے جب اس کے لیے ذہنی، عملی اور تکنیکی تیاری موجود ہو۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے قانون سازی اور نفاذ دونوں ہی اچانک پن کا شکار ہوتے ہیں، جس کے باعث مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا ہی اس وقت ہوا ہے۔ٹرانسپورٹ سیکٹر صرف ڈرائیوروں اور مالکان تک محدود نہیں بلکہ پورا کاروباری نظام اس سے جڑا ہوا ہے۔ ہڑتال ہوتی ہے تو اڑھتی کا کاروبار بند پڑ جاتا ہے، کارخانے دار کو مال نہیں پہنچتا، دکاندار کی دکان خالی رہ جاتی ہے، ریڑھی والے کے پاس سامان نہیں آتا، مسافر پریشان، مزدور بیکار، اور شہروں کی نبض رک سی جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹر اگر ایک دن گاڑیاں کھڑی کر دیں تو پورے پنجاب کی معیشت سست روی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس لیے مسئلے کا حل ٹکراؤ میں نہیں، بلکہ دونوں اطراف کی سمجھداری میں ہے۔پولیس کی طرف سے سختی اپنی جگہ درست ہے۔ ٹریفک نظام بہتر بنانے کے لیے قوانین کا موثر نفاذ ضروری ہے۔ اوور لوڈ گاڑیاں سڑکوں کو تباہ کرتی ہیں، حادثات کا باعث بنتی ہیں، قیمتی جانوں کا نقصان ہوتا ہے اور پھر الزام بھی ریاست ہی کو ملتا ہے کہ اس نے قانون پر عمل کیوں نہ کروایا۔ لیکن دوسری طرف ٹرانسپورٹ مالکان کا یہ شکوہ بھی درست ہے کہ کئی سال سے چلے آنے والے نظام کو راتوں رات تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ جب ٹرانسپورٹ کی دنیا میں ہزاروں کروڑ روپے کی گاڑیاں چل رہی ہوں، ان کی فٹنس، ٹائم ٹیبل، وزن اور روٹ پرانی عادتوں کے مطابق چلتا رہا ہو، تو انہیں ایک دن میں بدلنے کی کوشش مشکلات پیدا کرتی ہے۔یہاں حل بہت واضح ہے۔دونوں فریق تھوڑا لچک دکھائیں۔پولیس کو چاہیے کہ کم از کم دو سے تین ہفتے کا ایک ’’ریلیکسیشن پیریڈ‘‘ دے، جس دوران جرمانوں میں کچھ نرمی ہو۔ اس وقفے کا مقصد ٹرانسپورٹ مالکان کو وقت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ گاڑیوں کی مکینکل فٹنس مکمل کریں، بریک، لائٹس، انڈیکیٹرز، ٹائروں اور سسپنشن کی مرمت کرائیں، غیر رجسٹرڈ یا بغیر کاغذات والی گاڑیوں کو سڑک سے ہٹائیں اور اوور لوڈنگ کے مسئلے کو خود حل کرنے میں تعاون کریں۔ساتھ ہی ٹرانسپورٹ مالکان اور یونینز پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ڈرائیورز کی تربیت کے لیے فوری اقدامات کریں۔ زیادہ تر حادثات ڈرائیور کی غفلت یا تربیت نہ ہونے کے باعث ہوتے ہیں۔ ڈرائیور کا ڈرائیونگ لائسنس ہونا لازم ہے، اور لائسنس بھی وہ جو ٹیسٹ کے بعد بنا ہو، نہ کہ سفارش، جلدی یا غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہو۔ ڈرائیورز کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ وہ گاڑی پر وہی وزن لادیں جو قانون اجازت دیتا ہے۔ کچھ ہزار روپے مزید کمانے کے لیے جانوں کا رسک لینا کوئی عقلمندی نہیں۔اسی دوران ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بھی اپنے شیڈول، لوڈنگ اور آپریشنل نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانا ہوگا۔ اگر پنجاب کو آگے بڑھانا ہے تو ٹریفک قوانین اور ٹرانسپورٹ کا ڈسپلن دونوں برابر ضروری ہیں۔مسافر بھی اس بحث کا ایک اہم کردار ہیں۔ اکثر لوگ خود بھی قوانین پر عمل نہیں کرتے۔ موٹر سائیکل والے ہیلمٹ نہیں پہنتے، رکشہ والے غلط جگہ سے یو ٹرن لیتے ہیں، ڈرائیور سگنل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ قانون صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے نہیں، شہریوں کے لیے بھی ہے۔ جب تک معاشرے میں ’’میں کیوں مانوں؟‘‘ کی سوچ ختم نہیں ہوتی، بہتری ممکن نہیں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، پولیس اور ٹرانسپورٹ والے مل بیٹھ کر ایک مشترکہ حکمت عملی بنائیں۔ قانون ضرور سخت ہونا چاہیے، لیکن اس کا نفاذ بہتر پلاننگ سے ہو۔ جرمانے بڑھانا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔مسئلہ تب حل ہوگا جب ٹریفک کا پورا نظام جدید اصولوں کے مطابق چلایا جائے، سڑکوں کی حالت بہتر ہو، نشاندہی واضح ہو، اور قوانین عوام کی سمجھ میں بھی آجائیں۔
آخر میں یہی کہنا ہے کہ ٹکراؤ نقصان دیتا ہے، تعاون فائدہ دیتا ہے۔ پولیس اگر نرمی دکھائے، ٹرانسپورٹر چند ہفتوں میں اپنی گاڑیاں مکمل فٹنس پر لے آئیں، ڈرائیور قانون کا احترام کریں، اور عوام خود بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، تو پنجاب میں ٹریفک کا وہ نظام قائم ہوسکتا ہے جس کا خواب ہم برسوں سے دیکھتے آئے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ سڑکوں پر نظم اور قانون کو دشمن نہیں، دوست سمجھا جائے۔


