باکمال قاضی کے فیصلے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
باکمال قاضی کے فیصلے۔۔۔۔!!
حالیہ دنوں میں ھمارے ملک میں ایک ہیجان کی کیفیت سی چھا گئی تھی۔ ملک بھر میں اور بلخصوص میڈیا میں عجیب تماشا کھڑا ھوگیا تھا اینکرز سے لیکر صحافیوں نے کمر کس لی تھی گویا یہی حاکم و فاضل ہیں اور اپنے تئیں نجانے کیا کیا کہے جارھے تھے عوام ایک جانب رمضان میں ہوشربا مہنگائی اور لاقانونیت سے پریشان تھی تو دوسری جانب رہبر و رہنما رسہ کشی میں ہر غیر اخلاقی اور غیر قانونی اقدامات کو بلا خوف و خطر اور بناء شرم و حیا کے ادا کررھے تھے۔ ایک جانب حق والے تو دوسری جانب باطل والے تھے کون حق پر اور کون باطل پر تھا یہ فیصلہ عوام کے سپرد ھے بحرحال پھر جمعرات سات اپریل کو فیصلہ آگیا کچھ لوگ خوش ھوئے تو کچھ لوگ ناراض لیکن فیصلہ بلآخر بڑے قاضی نے کیا تھا سب کو قبول کرنا پڑا۔ فیصلہ کو دیکھ کر مجھے ایک ایسے قاضی کا کردار سامنے آگیا کہ اسے اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیئے بغیر نہیں رہ سکتا ھوں تو ملاحظہ فرمائیں کہ ایک شخص نے ایک کتے کو قبرستان میں دفن کردیا.
لوگوں نے قاضی کے پاس جاکر اس شخص کی شکایت کردی. اس شخص کو قاضی کے پاس طلب کیا گیا. قاضی نے غضب ناک ہو کر اس شخص سے پوچھا کیا تو نے ہی کتے کو قبرستان میں دفن کیا تھا. اس شخص نے کہا میں نے کتے کی وصیّت پوری کردی ہے. قاضی نے کہا تیرا ستیاناس ہو, کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کے پھر میرا مذاق اُڑا رہے ہو. اس شخص نے کہا, جلدی نہ کریں کتّے نے ہر قاضی کیلئے ایک ہزار دینار کی بھی وصیّت کی ہے۔ قاضی نے جب یہ سنا تو کہا اللّٰہ اس فقید المثال کتے پر رحم فرمائے قاضی کی بات سن کر لوگ حیران رہ گئے. قاضی نے کہا تم حیران کیوں ہو رہے ہو, میں نے اس کتے پر کافی غور کیا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ کتا "اصحاب کہف” کے کتے کی نسل سے تھا. اس فیصلے سے صادر ھو جاتا ھے کہ بھاری رقم بڑے بڑے قاضی کی سوچ کو بھی تبدیل کردیتی ہے۔
کالمکار: جاوید صدیقی


